ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 52

قَالَ عِلۡمُہَا عِنۡدَ رَبِّیۡ فِیۡ کِتٰبٍ ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیۡ وَ لَا یَنۡسَی ﴿۫۵۲﴾
کہا ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں ہے، میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔ En
کہا کہ ان کا علم میرے پروردگار کو ہے (جو) کتاب میں (لکھا ہوا ہے) ۔ میرا پروردگار نہ چوکتا ہے نہ بھولتا ہے
En
جواب دیا کہ ان کا علم میرے رب کے ہاں کتاب میں موجود ہے، نہ تو میرا رب غلطی کرتا ہے نہ بھولتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 52) ➊ {قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ:} یعنی مجھے ان کے حال سے کوئی بحث نہیں، وہ اپنے اس رب کے پاس پہنچ گئے جس کے پاس ان کے تمام اعمال اور نیتوں کا ریکارڈ موجود ہے، جیسے ان کے اعمال ہوں گے ویسا ہی بدلہ ان کو مل جائے گا۔ ہمیں فکر اپنے حال کی ہونی چاہیے کہ ہم کس طرح اپنے آپ کو عذاب کا مستحق ہونے سے بچا سکتے ہیں؟ یہ نہایت ہی حکیمانہ جواب ہے، جو صحیح بھی ہے اور اس سے فرعون بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔
➋ { فِيْ كِتٰبٍ لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَ لَا يَنْسَى:} چونکہ لکھی ہوئی بات زیادہ معتبر سمجھی جاتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر حجت تمام کرنے کے لیے کراماً کاتبین مقرر فرمائے، جو ہر ایک کی کتاب تیار کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی آگاہ فرما دیا کہ کتاب میں لکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ غلطی یا بھول سے بچنے کے لیے لکھنے کا محتاج ہے، نہیں! بلکہ اللہ تعالیٰ ہر نقص کی طرح ان دونوں نقصوں سے بھی پاک ہے۔ اس میں ایک چوٹ بھی ہے، کیونکہ یہ کہنے کی ضرورت ہی نہیں کہ ہر چیز کا خالق و ہادی نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے، دراصل یہ فرعون سے کہا جا رہا ہے کہ تو، جس کی سرشت میں بھٹکنا اور بھولنا رکھ دیا گیا ہے، کیا تجھے رب اعلیٰ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے حیا نہیں آئی؟ سبحان اللہ!
بت کریں آرزو خدائی کی
شان ہے تیری کبریائی کی

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

52۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ نے جواب میں فرمایا، ان کا علم نہ تجھے ہے نہ مجھے۔ البتہ ان کا علم میرے رب کو ہے، جو اس کے پاس کتاب میں موجود ہے وہ اس کے مطابق جزا و سزا دے گا، پھر اس کا علم اس طرح ہر چیز کو محیط ہے کہ اس کی نظر سے کوئی چھوٹی بڑی چیز اوجھل نہیں ہوسکتی، نہ اسے بھول ہی لا حق ہوسکتی ہے۔ جب کہ مخلوق کے علم میں دونوں نقص موجود ہیں۔ ایک تو ان کا علم محیط کل نہیں، بلکہ ناقص ہے۔ دوسرے، علم کے بعد وہ بھول بھی سکتے ہیں، میرا رب ان دونوں نقصوں سے پاک ہے۔ آگے، رب کی مزید صفات بیان کی جا رہی ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

52۔ موسیٰ نے جواب دیا: ان کا علم میرے پروردگار کے پاس ایک کتاب میں [34] ہے۔ میرا رب [35] نہ چوکتا ہے اور نہ بھولتا ہے
[34] اگر فرعون کے اس سوال کا جواب موسیٰؑ یوں دیتے کہ وہ سب کے سب گمراہ تھے اور انھیں دوزخ کا عذاب ہو گا۔ تو اگرچہ یہ جواب صحیح تھا مگر فرعون کے سارے درباری غصہ سے بھڑک اٹھتے اور فوراً ان دونوں کے خلاف متحد ہو جاتے اور فرعون اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا۔ مگر موسیٰؑ نے جواب ایسا حکیمانہ دیا جو مبنی در حقیقت بھی تھا اور کسی کے تعصبانہ جذبات کو ٹھیس بھی نہ پہنچی تھی۔ آپ نے واضح الفاظ میں جواب دیا کہ جو لوگ گزر چکے ہیں ان کے حالات جاننے کی ہمیں ضرورت نہیں وہ جانیں اور ان کا پروردگار جانے۔ ہمیں صرف اپنی فکر کرنا چاہئے۔ کہ ہم کون سا طرز زندگی اختیار کرتے ہیں اور ہمارا انجام کیسا ہو گا۔
[35] اللہ سے بھول چوک نا ممکن ہے:۔
یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو پیدا کرنے کے سلسلے میں ان کی ہدایت کا جو قانون بنایا ہے نہ اس میں وہ بھولتا یا چوکتا ہے اور نہ کسی کو اس کے اچھے یا برے اعمال کی جزا و سزا دینے میں۔ قرآن کے اس مقام پر سیدنا موسیٰ کا ذکر ختم کرنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں فرعون اور سیدنا موسیٰ کا پہلا مکالمہ ختم ہو رہا ہے اور آگے چند آیات میں جو دلائل توحید دیئے جا رہے ہیں اور پند و نصائح پیش کئے جا رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور سب لوگوں کے لئے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ﴿ قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْؔ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَلَا یَنْسَى یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے اچھے برے تمام اعمال کو شمار کر کے اپنی کتاب، یعنی لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔ علم و خبر کے اعتبار سے اس نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے کوئی چیز اس کے شمار کرنے اور لکھنے سے چھوٹتی نہیں اور نہ کوئی چیز اسے بھولتی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے جو بھی اعمال آگے بھیجے ہیں قیامت کے روز انھیں ان اعمال کا سامنا کرنا ہو گا اور ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا… اس لیے اے فرعون! ان کے بارے میں تیرے اس سوال اور استفہام کا کوئی معنیٰ نہیں۔ وہ ایک امت تھی جو گزر گئی ان کے اعمال ان کے لیے ہیں اور تم جو عمل کرو گے وہ تمھارے لیے ہے۔اس لیے وہ دلیل جو ہم نے تیرے سامنے پیش کی ہے اور وہ نشانیاں جو ہم تجھے دکھا چکے ہیں، اگر تجھ پر ان کی صداقت متحقق ہو چکی ہے تو حق کے سامنے سرتسلیم خم کر دے۔ کفر، ظلم اور باطل کے ذریعے کثرت جدال کو چھوڑ دے اور اگر تجھے اس بارے میں کوئی شک ہے اور تجھے اس پر یقین نہیں ہے تو بحث کا دروازہ کھلا ہوا ہے، دلیل کا جواب دلیل سے اور برہان کا جواب برہان سے ہونا چاہیے اور جب تک دن رات باقی ہیں تو کبھی بھی ایسا نہیں کر سکے گا اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بارے میں خبر دی ہے کہ اس نے ان آیات کا ان کی صداقت کا قائل ہونے کے بعد انکار کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا (النمل:27؍14) انھوں نے ان آیات کا، ان کا قائل ہونے کے بعد، ظلم اور تکبر کی بنا پر انکار کیا۔
موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ﴿ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ بَصَآىِٕرَ (بنی اسرائیل:17؍102) تجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں۔ تب معلوم ہوا کہ فرعون اپنی بحث و جدال میں ظلم کا مرتکب ہوا اور اس کا مقصد محض زمین میں تغلب کا حصول تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقال موسى: {علمُها عند ربِّي في كتابٍ لا يَضِلُّ ربِّي ولا ينسى}؛ أي: قد أحصى أعمالهم من خير وشرٍّ، وكتبه في كتابه ، وهو اللوح المحفوظ، وأحاط به علماً وخبراً؛ فلا يضلُّ عن شيء منها ولا ينسى ما عَلِمهُ منها، ومضمون ذلك أنَّهم قَدِموا إلى ما قدَّموه ولاقَوْا أعمالهم وسيجازَوْن عليها؛ فلا معنى لسؤالك واستفهامك يا فرعون عنهم؛ فتلك أمةٌ قد خلتْ، لها ما كسبتْ ولكم ما كسبتُم؛ فإنْ كان الدليل الذي أوردْناه عليك والآياتُ التي أريناكَها قد تحقَّقْتَ صدقَها ويقينَها، وهو الواقع؛ فانقدْ إلى الحقِّ، ودعْ عنك الكفر والظُّلم وكثرةَ الجدال بالباطل، وإن كنتَ قد شككت فيها أو رأيتَها غير مستقيمة؛ فالطريق مفتوحٌ، وبابُ البحث غير مغلقٍ، فَرُدَّ الدليل بالدليل والبرهان بالبرهان، ولن تَجِدَ لذلك سبيلاً ما دام الملوان ؛ كيف وقد أخبر الله عنه أنه جَحَدها مع استيقانها؛ كما قال تعالى: {وجَحَدوا بها واستيقَنَتْها أنفسُهم ظلماً وعلوًّا}، وقال موسى: {لقد علمتَ ما أنزلَ هؤلاءِ إلاَّ ربُّ السمواتِ والأرضِ بصائرَ}؟! فَعُلم أنه ظالمٌ في جداله، قصدُه العلوُّ في الأرض.