تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فِيْ كِتٰبٍ لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَ لَا يَنْسَى:} چونکہ لکھی ہوئی بات زیادہ معتبر سمجھی جاتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر حجت تمام کرنے کے لیے کراماً کاتبین مقرر فرمائے، جو ہر ایک کی کتاب تیار کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی آگاہ فرما دیا کہ کتاب میں لکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ غلطی یا بھول سے بچنے کے لیے لکھنے کا محتاج ہے، نہیں! بلکہ اللہ تعالیٰ ہر نقص کی طرح ان دونوں نقصوں سے بھی پاک ہے۔ اس میں ایک چوٹ بھی ہے، کیونکہ یہ کہنے کی ضرورت ہی نہیں کہ ہر چیز کا خالق و ہادی نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے، دراصل یہ فرعون سے کہا جا رہا ہے کہ تو، جس کی سرشت میں بھٹکنا اور بھولنا رکھ دیا گیا ہے، کیا تجھے رب اعلیٰ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے حیا نہیں آئی؟ سبحان اللہ!
بت کریں آرزو خدائی کی
شان ہے تیری کبریائی کی
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقال موسى: {علمُها عند ربِّي في كتابٍ لا يَضِلُّ ربِّي ولا ينسى}؛ أي: قد أحصى أعمالهم من خير وشرٍّ، وكتبه في كتابه ، وهو اللوح المحفوظ، وأحاط به علماً وخبراً؛ فلا يضلُّ عن شيء منها ولا ينسى ما عَلِمهُ منها، ومضمون ذلك أنَّهم قَدِموا إلى ما قدَّموه ولاقَوْا أعمالهم وسيجازَوْن عليها؛ فلا معنى لسؤالك واستفهامك يا فرعون عنهم؛ فتلك أمةٌ قد خلتْ، لها ما كسبتْ ولكم ما كسبتُم؛ فإنْ كان الدليل الذي أوردْناه عليك والآياتُ التي أريناكَها قد تحقَّقْتَ صدقَها ويقينَها، وهو الواقع؛ فانقدْ إلى الحقِّ، ودعْ عنك الكفر والظُّلم وكثرةَ الجدال بالباطل، وإن كنتَ قد شككت فيها أو رأيتَها غير مستقيمة؛ فالطريق مفتوحٌ، وبابُ البحث غير مغلقٍ، فَرُدَّ الدليل بالدليل والبرهان بالبرهان، ولن تَجِدَ لذلك سبيلاً ما دام الملوان ؛ كيف وقد أخبر الله عنه أنه جَحَدها مع استيقانها؛ كما قال تعالى: {وجَحَدوا بها واستيقَنَتْها أنفسُهم ظلماً وعلوًّا}، وقال موسى: {لقد علمتَ ما أنزلَ هؤلاءِ إلاَّ ربُّ السمواتِ والأرضِ بصائرَ}؟! فَعُلم أنه ظالمٌ في جداله، قصدُه العلوُّ في الأرض.