تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { لَا نَسْـَٔلُكَ رِزْقًا …: } عام طور پر روزی کمانے کی وجہ سے آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نماز میں سستی کرتا ہے، اس لیے فرمایا، ہمارا مطالبہ آپ سے روزی کمانے کا نہیں عبادت اور نماز کا ہے، روزی تمھیں ہم دیں گے۔ اللہ کے احکام کے مطابق زندگی بسر کرنے کا نام عبادت ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو روزی کمانے کے لیے پیدا نہیں فرمایا، بلکہ اپنے احکام کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ اگر وہ اللہ کا بندہ (غلام) بن کر اس کے احکام کے مطابق زندگی بسر کرے تو اسے رزق کی کوئی کمی نہیں آئے گی، فرمایا: «{ وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (56) مَاۤ اُرِيْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِيْدُ اَنْ يُّطْعِمُوْنِ(57) اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِيْنُ}» [الذاریات: ۵۶ تا ۵۸] ”اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ میری عبادت کریں، نہ میں ان سے کوئی رزق چاہتا ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں، بے شک اللہ ہی بے حد رزق دینے والا، طاقت والا، نہایت مضبوط ہے۔“ انسان کی بے صبری اور بخل و حرص کا علاج نماز کی محافظت اور اس پر دوام ہے۔ دیکھیے سورۂ معارج (۱۹ تا ۳۵) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰی يَقُوْلُ يَا ابْنَ آدَمَ! تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِيْ أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًی وَأَسُدَّ فَقْرَكَ وَإِلاَّ تَفْعَلْ مَلَأْتُ يَدَيْكَ شُغْلاً وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَكَ] [ترمذي، صفۃ القیامۃ، باب أحادیث ابتلینا بالضراء…: ۲۴۶۶، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ]”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے پوری طرح فارغ ہو جا، (تو) میں تیرا سینہ غنا سے بھر دوں گا اور تیری فقیری دور کر دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے دونوں ہاتھ مشغولیت سے بھر دوں گا اور تیری فقیری دور نہیں کروں گا۔“
➌ {وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى:} یعنی چاہے دنیا میں ان کے دن تکلیف سے گزریں مگر آخرت میں ہمیشہ رہنے والا عیش و آرام انھی کا حصہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ كَانَتِ الْآخِرَةُ هَمَّهٗ جَعَلَ اللّٰهُ غِنَاهُ فِيْ قَلْبِهٖ وَجَمَعَ لَهٗ شَمْلَهٗ وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ وَمَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا هَمَّهٗ جَعَلَ اللّٰهُ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهٖ وَفَرَّقَ عَلَيْهِ شَمْلَهٗ وَلَمْ يَأْتِهٖ مِنَ الدُّنْيَا إِلاَّ مَا قُدِّرَ لَهٗ] [ترمذي، صفۃ القیامۃ، باب أحادیث ابتلینا بالضراء…: ۲۴۶۵، عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ] ”جس شخص کی فکر صرف آخرت ہو اللہ تعالیٰ اس کی دولت مندی اس کے دل میں رکھ دیتا ہے اور اس کے لیے اس کے تمام معاملات جمع کر دیتا ہے اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے اور جس کی فکر صرف دنیا ہو اللہ تعالیٰ اس کا فقر اس کی آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے اور اس کے تمام معاملات کو بکھیر دیتا ہے اور دنیا اسے اتنی ہی ملتی ہے جو اس کے مقدر میں ہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا و آخرت دونوں میں اچھا انجام تقویٰ ہی کا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[99] عرب میں یہ دستور تھا کہ مالک اپنے غلاموں کو کمائی کے لئے بھیجتے۔ پھر ان سے یہ کمائی خود وصول کرتے یا پھر غلام پر اس کی قابلیت کے مطابق روزانہ یا ماہانہ ایک رقم مقرر تھی کہ اتنی رقم تو وہ بہرحال کما کر اپنے مالک کو دے گا اور اگر کچھ زائد کما لے تو وہ اس کا اپنا ہو گا جس طرح ہمارے ہاں کسی چیز کا روزانہ یا ماہانہ کرایہ یا ٹھیکہ مقرر کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور مسلمانوں سے یہ فرماتے ہیں کہ ہم تم سے کچھ رزق نہیں مانگتے، حالانکہ تم سب میرے بندے اور غلام ہو۔ بلکہ وہ تو ہم خود تمہیں دیتے ہیں اور یہ ہمارا ذمہ ہے۔ تمہارا کام بس یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی فرمانبرداری میں لگے رہو۔ جو رزق تمہارے مقدر میں ہے وہ تمہیں مل کے ہی رہے گا۔
علاوہ ازیں اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مثلاً اگر ایک متقی شخص کاروبار کرتا ہے تو اس کی ساکھ قائم ہوتی ہے اور کسی کی ساکھ قائم ہو جانا اللہ کا بہت بڑا فضل اور انعام ہے اور انجام کار وہی کامیاب رہتا ہے۔ غرض یہ جملہ ایک ایسی آفاقی صداقت (universal Truth) ہے کہ جس اعتبار سے بھی اس کا تجربہ کیا جائے درست ہی ثابت ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ہم نے تجھے سات آیتیں دی ہیں جو دوہرائی جاتی ہیں اور قرآن عظیم عطا فرما رکھا ہے، پس اپنی نظریں ان کے دنیاوی ساز و سامان کی طرف نہ ڈال۔ اسی طرح اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لیے اللہ کے پاس جو مہمانداری ہے، اس کی نہ تو کوئی انتہا ہے اور نہ اس وقت کوئی اس کے بیان کی طاقت رکھتا ہے۔ تجھے تیرا پروردگار اس قدر دے گا کہ تو راضی رضامند ہو جائے گا۔ اللہ کی دین بہتر اور باقی ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے ایلا کیا تھا اور ایک بالاخانے میں مقیم تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ آپ ایک کھردرے بوریے پر لیٹے ہوئے ہیں۔ چمڑے کا ایک ٹکڑا ایک طرف رکھا تھا اور کچھ مشکیں لٹک رہی تھیں۔ یہ بے سر و سامانی کی حالت دیکھ کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کیوں رو دیے؟ جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیصر و کسریٰ کس قدر عیش وعشرت میں ہیں اور آپ باوجود ساری مخلوق میں سے اللہ کے برگزیدہ ہونے کے کس حالت میں ہیں؟ آپ نے فرمایا! اے خطاب کے بیٹے کیا اب تک تم شک میں ہی ہو؟ ان لوگوں کی اچھائیوں نے دنیا میں ہی جلدی کر لی ہے۔} ۱؎ [صحیح بخاری:2468]
پس رسول صلی اللہ علیہ وسلم باوجود قدرت اور دسترس کے دنیا سے نہایت ہی بے رغبت تھے۔ جو ہاتھ لگتا، اسے راہ للہ دے دیتے اور اپنے لیے ایک پیسہ بھی نہ بچا رکھتے۔
الغرض کفار کو زینت کی زندگی اور دنیا صرف ان کی آزمائش کے لیے دی جاتی ہے۔ اپنے گھرانے کے لوگوں کو نماز کی تاکید کرو تاکہ وہ عذاب الٰہی سے بچ جائیں، خود بھی پابندی کے ساتھ اس کی ادائیگی کرو۔ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم سے بچالو۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عادت مبارکہ تھی کہ رات کو جب تہجد کے لیے اٹھتے تو اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور اسی آیت کی تلاوت فرماتے۔ ہم تجھ سے رزق کے طالب نہیں۔ نماز کی پابندی کر لو، اللہ ایسی جگہ سے روزی پہنچائے گا جو خواب و خیال میں بھی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے لیے چھٹکارا کر دیتا ہے اور بے شان و گمان جگہ سے روزی پہنچاتا ہے۔
تمام جنات اور انسان صرف عبادت الٰہی کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔ رزاق اور زبردست قوتوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فرماتا ہے ہم خود تمام مخلوق کے روزی رساں ہیں۔ ہم تمیں طلب کی تکلیف نہیں دیتے۔ ہشام رحمہ اللہ کے والد صاحب جب امیر امراء کے مکانوں پر جاتے اور ان کا ٹھاٹھ دیکھتے تو واپس اپنے مکان پر آ کر اسی آیت کی تلاوت فرماتے۔ اور کہتے میرے کنبے والو! نماز کی حفاظت کرو نماز کی پابندی کرو۔ اللہ تم پر رحم فرمائے گا۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تنگی ہوتی تو اپنے گھر کے سب لوگوں کو فرماتے، اے میرے گھر والو، نمازیں پڑھو نمازیں قائم رکھو۔ تمام انبیاء علیہم السلام کا یہی طریقہ رہا ہے کہ اپنی ہر گھبراہٹ اور ہر کام کے وقت نماز شروع کر دیتے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:561/4:مرسل]
ترمذی ابن ماجہ وغیرہ کی قدسی حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا، میں تیرا سینہ امیری اور بےپرواہی سے پر کر دوں گا۔ تیری فقیری اور حاجت کو دور کر دوں گا اور اگر تو نے یہ نہ کیا تو میں تیرا دل اشغال سے بھر دونگا اور تیری فقیری بند ہی نہ کروں گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2466،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ { دنیا کے غموں میں ہی، اسی کی فکروں میں ہی مصروف ہو جانے والے کے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ پریشانیاں ڈال دے گا اور اس کی فقیری اس کی آنکھوں کے سامنے کر دے گا اور دنیا اتنی ہی ملے گی جتنی مقدر میں ہے۔ اور جو اپنے دل کا مرکز آخرت کو بنا لے گا، اپنی نیت وہی رکھے گا، اللہ تعالیٰ اسے ہرکام کا اطمینان نصیب فرما دے گا۔ اس کے دل کو سیراور شیر بنا دے گا اور دنیا اس کے قدموں کی ٹھوکروں میں آیا کرے گی۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:،قال4106 الشيخ الألباني:حسن]
پھر فرمایا دنیا و آخرت میں نیک انجام پرہیزگار لوگ ہی ہیں۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، میں نے آج رات خواب میں دیکھا کہ گویا ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہیں۔ وہاں ہمارے سامنے ابن طالب کے باغ کی تر کھجوریں پیش کی گئی ہیں۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ دنیا میں بھی انجام کے لحاظ سے ہمارا ہی پلہ گراں رہے گا اور بلندی اور اونچائی ہم کو ہی ملے گی اور ہمارا دین پاک صاف، طیب و طاہر، کامل و مکمل ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2270]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: حُثَّ أهلك على الصلاة، وأزْعِجْهم إليها من فرض ونفل، والأمرُ بالشيء أمرٌ بجميع ما لا يتمُّ إلاَّ به، فيكون أمراً بتعليمهم ما يُصْلِحُ الصلاة ويفسِدُها ويُكْمِلُها. {واصْطَبِرْ عليها}؛ أي: على الصلاة بإقامتها بحدودها وأركانها [وآدابها] وخشوعها؛ فإنَّ ذلك مشقٌّ على النفس، ولكنْ ينبغي إكراهها وجهادُها على ذلك والصبر معها دائماً؛ فإنَّ العبد إذا أقام صلاته على الوجه المأمور به؛ كان لما سِواها من دينِهِ أحفظَ وأقوم، وإذا ضيَّعها؛ كان لما سِواها أضيعَ. ثم ضَمِنَ تعالى لرسولِهِ الرزقَ، وأنْ لا يَشْغَلَه الاهتمام به عن إقامة دينِهِ، فقال: {نحن نرزُقُك}؛ أي: رزقُك علينا، قد تكفَّلْنا به كما تكفَّلْنا بأرزاقِ الخلائق كلِّهم؛ فكيف بمن قام بأمرِنا واشتغل بذِكْرِنا؟! ورزقُ الله عامٌّ للمتَّقي وغيره؛ فينبغي الاهتمام بما يجلبُ السعادة الأبديَّة، وهو التقوى، ولهذا قال: {والعاقبةُ}: في الدُّنيا والآخرة {للتَّقْوى}: التي هي فعل المأمور وتركُ المنهيِّ؛ فمن قام بها؛ كان له العاقبةُ؛ كما قال تعالى: {والعاقبةُ للمتَّقين}.