اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور اس پر خوب پابند رہ، ہم تجھ سے کسی رزق کا مطالبہ نہیں کرتے، ہم ہی تجھے رزق دیں گے اور اچھا انجام تقویٰ کا ہے۔
En
اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرو اور اس پر قائم رہو۔ ہم تم سے روزی کے خواستگار نہیں۔ بلکہ تمہیں ہم روزی دیتے ہیں اور (نیک) انجام (اہل) تقویٰ کا ہے
اپنے گھرانے کے لوگوں پرنماز کی تاکید رکھ اور خود بھی اس پر جما ره، ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے، بلکہ ہم خود تجھے روزی دیتے ہیں، آخر میں بول باﻻ پرہیزگاری ہی کا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اپنے گھر والوں کو نماز کی ترغیب دیجیے، انھیں فرض اور نفل نماز پڑھنے کا حکم دیتے رہیے اور کسی چیز کا حکم دینا ان تمام امور کو شامل ہے جن کے بغیر اس چیز کی تکمیل نہیں ہوتی۔ پس یہ حکم، اپنے گھر والوں کو نماز کے بارے میں ان امور کی تعلیم دینا ہے جو نماز کی اصلاح کرتے ہیں، جو نماز کو فاسد کرتے ہیں اور جو نماز کی تکمیل کرتے ہیں۔ ﴿ وَاصْطَبِرْعَلَیْهَا ﴾”اور خود بھی اس پر جمے رہیے۔“ یعنی نماز پر، اس کی تمام حدود، اس کے ارکان، اس کے آداب اور اس کے خشوع و خضوع کے ساتھ۔ کیونکہ اس میں نفس کے لیے مشقت ہے۔ تاہم مناسب یہی ہے کہ دائمی طور پر نفس کو نماز پڑھنے پر مجبور اور اس کے ساتھ جہاد کرتے رہنا چاہیے اور اس پر صبر کرنا چاہیے کیونکہ بندۂ مومن جب اس طریقے سے نماز قائم کرتا ہے جس طریقے سے قائم کرنے کا اسے حکم دیا گیا ہے تو نماز کے علاوہ دیگر دین کی حفاظت کرنے اور اس کو قائم کرنے کی اس سے زیادہ توقع کی جا سکتی ہے۔ اگر وہ نماز کو ضائع کرتا ہے تو دیگر دین کو زیادہ برے طریقے سے ضائع کر سکتا ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو رزق کی ضمانت دی اور ترغیب دی کہ آپ اقامت دین کو چھوڑ کر حصول رزق میں مشغول نہ ہوں، چنانچہ فرمایا: ﴿ نَحْنُنَرْزُقُكَ﴾ یعنی آپ کا رزق ہمارے ذمہ ہے ہم نے جس طرح تمام خلائق کے رزق کی کفالت اپنے ذمہ لی ہے اسی طرح آپ کے رزق کی کفالت بھی ہمارے ذمہ ہے۔ اس شخص کے رزق کی ذمہ داری ہم پر کیسے نہ ہو جو ہمارے حکم کی تعمیل کرتا ہے اور ہمارے ذکر میں مشغول رہتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کا رزق متقی اور غیر متقی سب کے لیے عام ہے، اس لیے ان امور کا اہتمام کرنا چاہیے جن پر ابدی سعادت کا دارومدار ہے اور وہ ہے تقویٰ،لہٰذا فرمایا: ﴿وَالْعَاقِبَةُ ﴾ یعنی دنیا و آخرت کا انجام ﴿ لِلتَّقْوٰى ﴾تقویٰ کے لیے ہے اور تقویٰ سے مراد ہے مامورات کی تعمیل اور منہیات سے اجتناب۔ اور جو کوئی ان کو قائم کرتا ہے، انجام اسی کا اچھا ہے جیسا کہ فرمایا: ﴿وَالْعَاقِبَةُلِلْ٘مُتَّقِیْنَ﴾ (الاعراف:7؍128) ”اور اچھا انجام متقین کا ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: حُثَّ أهلك على الصلاة، وأزْعِجْهم إليها من فرض ونفل، والأمرُ بالشيء أمرٌ بجميع ما لا يتمُّ إلاَّ به، فيكون أمراً بتعليمهم ما يُصْلِحُ الصلاة ويفسِدُها ويُكْمِلُها. {واصْطَبِرْ عليها}؛ أي: على الصلاة بإقامتها بحدودها وأركانها [وآدابها] وخشوعها؛ فإنَّ ذلك مشقٌّ على النفس، ولكنْ ينبغي إكراهها وجهادُها على ذلك والصبر معها دائماً؛ فإنَّ العبد إذا أقام صلاته على الوجه المأمور به؛ كان لما سِواها من دينِهِ أحفظَ وأقوم، وإذا ضيَّعها؛ كان لما سِواها أضيعَ. ثم ضَمِنَ تعالى لرسولِهِ الرزقَ، وأنْ لا يَشْغَلَه الاهتمام به عن إقامة دينِهِ، فقال: {نحن نرزُقُك}؛ أي: رزقُك علينا، قد تكفَّلْنا به كما تكفَّلْنا بأرزاقِ الخلائق كلِّهم؛ فكيف بمن قام بأمرِنا واشتغل بذِكْرِنا؟! ورزقُ الله عامٌّ للمتَّقي وغيره؛ فينبغي الاهتمام بما يجلبُ السعادة الأبديَّة، وهو التقوى، ولهذا قال: {والعاقبةُ}: في الدُّنيا والآخرة {للتَّقْوى}: التي هي فعل المأمور وتركُ المنهيِّ؛ فمن قام بها؛ كان له العاقبةُ؛ كما قال تعالى: {والعاقبةُ للمتَّقين}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔