ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 131

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلٰی مَا مَتَّعۡنَا بِہٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡہُمۡ زَہۡرَۃَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۬ۙ لِنَفۡتِنَہُمۡ فِیۡہِ ؕ وَ رِزۡقُ رَبِّکَ خَیۡرٌ وَّ اَبۡقٰی ﴿۱۳۱﴾
اور اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف ہرگز نہ اٹھا جو ہم نے ان کے مختلف قسم کے لوگوں کو دنیا کی زندگی کی زینت کے طور پر برتنے کے لیے دی ہیں، تاکہ ہم انھیں اس میں آزمائیں اور تیرے رب کا دیا ہوا سب سے اچھا اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔ En
اور کئی طرح کے لوگوں کو جو ہم نے دنیا کی زندگی میں آرائش کی چیزوں سے بہرہ مند کیا ہے تاکہ ان کی آزمائش کریں ان پر نگاہ نہ کرنا۔ اور تمہاری پروردگار کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی بہت بہتر اور باقی رہنے والی ہے
En
اور اپنی نگاہیں ہرگز ان چیزوں کی طرف نہ دوڑانا جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو آرائش دنیا کی دے رکھی ہیں تاکہ انہیں اس میں آزما لیں تیرے رب کا دیا ہوا ہی (بہت) بہتر اور باقی رہنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 131) ➊ {وَ لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ …: مَدَّ يَمُدُّ } (ن) پھیلانا، لمبا کرنا۔ آنکھیں پھیلانے سے مراد تعجب سے دیر تک دیکھتے رہنا ہے۔ { مَدَّ يَمُدُّ } عام طور پر پاؤں یا ہاتھ پھیلانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ { مَدَّ يَدَهُ } یا {مَدَّ رِجْلَهُ} اس نے اپنا ہاتھ پھیلایا یا اپنا پاؤں پھیلایا۔ یہاں آنکھیں پھیلانا استعارہ ہے، یعنی جس طرح پسندیدہ چیز کی طرف شوق اور حرص سے ہاتھ پھیلایا جاتا ہے آپ اپنی آنکھیں مت پھیلائیں۔ معلوم ہوا دیکھنے پر پابندی نہیں، دیکھتے چلے جانے پر پابندی ہے، کیونکہ اس سے دل میں اس چیز کی خواہش پیدا ہو سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت نہیں رکھتی۔ { اَزْوَاجًا } کی تنوین تقلیل کے لیے ہے، یعنی دنیا کی وہ زیب و زینت ہم نے ہر کافر کو نہیں دی، بلکہ ان کے چند قسم کے لوگوں ہی کو دی ہے، کیونکہ بہت سے کفار نہایت بدحال زندگی بسر کر رہے ہیں۔ { زَهْرَةٌ زَهْرٌ} کی واحد ہے، پھول، جیسے { تَمْرَةٌ } {تَمْرٌ } کی واحد ہے۔ استعارے کے طور پر زیب و زینت کو بھی{ زَهْرَةٌ } کہتے ہیں، کیونکہ پھول کی طرح زینت بھی نگاہ و دل کو لے جاتی ہے۔ { زَهْرَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا } دنیا کی زندگی کی زینت۔ دنیا کی زینت کے جامع بیان کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۴) اور سورۂ توبہ (۲۴) بلکہ انسان کو ملنے والی ہر چیز ہی دنیا کی زندگی کی زینت ہے، چنانچہ فرمایا: «{ وَ مَاۤ اُوْتِيْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ زِيْنَتُهَا [القصص: ۶۰] اور تمھیں جو کچھ بھی دیا گیا ہے سو دنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے۔ معلوم ہوا کفار کو ملنے والی کسی بھی چیز کی طرف نگاہ پھیلانا جائز نہیں، کیونکہ یہ سب کچھ ان کے فتنہ و آزمائش کے لیے ہے اور حقیقت میں ان کی زندگی دشوار کرنے کا باعث ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا [طٰہٰ: ۱۲۴] تو بے شک اس کے لیے تنگ گزران ہے۔ اور دیکھیے سورۂ توبہ (۵۵)۔
➋ { وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰى:} تیرے رب کا رزق سے مراد حلال رزق ہے، کیونکہ وہ رب کے حکم کے مطابق کمایا گیا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی شان کی بلندی کے لیے اس کی نسبت اپنی طرف کی، ورنہ کافروں کو ملنے والا رزق بھی اللہ تعالیٰ ہی کا عطا کر دہ ہے۔ یعنی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی حلال روزی اور آخرت میں اس کا عطا کردہ اجر و ثواب کفار کو ملنے والی نعمتوں سے کہیں بہتر اور پائیدار ہے، کیونکہ دنیا فانی اور آخرت باقی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

131۔ 1 یہ وہی مضمون ہے جو اس سے قبل سورة عمران 196۔ 197، سورة حجر، 87۔ 88 اور سورة کہف، 7 وغیرہ میں بیان ہوا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

131۔ اور آپ ان چیزوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائیے جو ہم نے مختلف قسم کے لوگوں کو دنیوی زندگی کی زینت کے لئے دے رکھی ہیں تاکہ ان چیزوں کے ذریعہ ہم انھیں آزمائش میں ڈالیں اور آپ کے پروردگار کا رزق [97] ہی بہتر اور پائندہ تر ہے۔
[97] رزق کا وسیع تر مفہوم:۔
یہاں رزق سے مراد صرف کھانے، پینے کی چیزیں ہی نہیں بلکہ رزق کا لفظ اپنے وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے اور اس لفظ کا اطلاق پر اس خداداد نعمت پر ہوتا ہے تو جسمانی یا روحانی اعتبار سے انسان کی تربیت کا باعث بن سکے۔ یعنی اللہ نے آپ کو جو قرآن کریم، منصب رسالت، فتوحات عظیمہ، اور آخرت کے اعلیٰ ترین مراتب عطاء فرمائے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں اس چند روزہ زندگی کے ساز و سامان کی کیا حقیقت ہے۔ لہٰذا آپ کو اس ساز و سامان کی طرف اور دنیا میں مستغرق لوگوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھنا چاہئے۔ کیونکہ اللہ کا دیا ہوا ایسا رزق ہی ہر لحاظ سے بہتر اور پائیدار ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

شکر یا تکبر؟ ٭٭
ان کفار کی دنیاوی زینت اور ان کی ٹیپ ٹاپ کو تو حسرت بھری نگاہوں سے نہ دیکھ، یہ تو ذرا سی دیر کی چیزیں ہیں۔ یہ صرف ان کی آزمائش کے لیے انہیں یہاں ملی ہیں کہ دیکھیں شکر و تواضع کرتے ہیں یا ناشکری اور تکبر کرتے ہیں؟ حقیقتاً شکر گزاروں کی کمی ہے۔ ان کے مالداروں کو جو کچھ ملا ہے اس سے تجھے تو بہت ہی بہتر نعمت ملی ہے۔
ہم نے تجھے سات آیتیں دی ہیں جو دوہرائی جاتی ہیں اور قرآن عظیم عطا فرما رکھا ہے، پس اپنی نظریں ان کے دنیاوی ساز و سامان کی طرف نہ ڈال۔ اسی طرح اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لیے اللہ کے پاس جو مہمانداری ہے، اس کی نہ تو کوئی انتہا ہے اور نہ اس وقت کوئی اس کے بیان کی طاقت رکھتا ہے۔ تجھے تیرا پروردگار اس قدر دے گا کہ تو راضی رضامند ہو جائے گا۔ اللہ کی دین بہتر اور باقی ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے ایلا کیا تھا اور ایک بالاخانے میں مقیم تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ آپ ایک کھردرے بوریے پر لیٹے ہوئے ہیں۔ چمڑے کا ایک ٹکڑا ایک طرف رکھا تھا اور کچھ مشکیں لٹک رہی تھیں۔ یہ بے سر و سامانی کی حالت دیکھ کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کیوں رو دیے؟ جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیصر و کسریٰ کس قدر عیش وعشرت میں ہیں اور آپ باوجود ساری مخلوق میں سے اللہ کے برگزیدہ ہونے کے کس حالت میں ہیں؟ آپ نے فرمایا! اے خطاب کے بیٹے کیا اب تک تم شک میں ہی ہو؟ ان لوگوں کی اچھائیوں نے دنیا میں ہی جلدی کر لی ہے۔} ۱؎ [صحیح بخاری:2468]‏‏‏‏
پس رسول صلی اللہ علیہ وسلم باوجود قدرت اور دسترس کے دنیا سے نہایت ہی بے رغبت تھے۔ جو ہاتھ لگتا، اسے راہ للہ دے دیتے اور اپنے لیے ایک پیسہ بھی نہ بچا رکھتے۔
ابن ابی حاتم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ { آپ نے فرمایا مجھے تو تم پر سب سے زیادہ خوف اس وقت کا ہے کہ دنیا تمہارے قدموں میں اپنا تمام ساز و سامان ڈال دے گی۔ اپنی برکتیں تم پر الٹ دے گی۔ }
الغرض کفار کو زینت کی زندگی اور دنیا صرف ان کی آزمائش کے لیے دی جاتی ہے۔ اپنے گھرانے کے لوگوں کو نماز کی تاکید کرو تاکہ وہ عذاب الٰہی سے بچ جائیں، خود بھی پابندی کے ساتھ اس کی ادائیگی کرو۔ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم سے بچالو۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عادت مبارکہ تھی کہ رات کو جب تہجد کے لیے اٹھتے تو اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور اسی آیت کی تلاوت فرماتے۔ ہم تجھ سے رزق کے طالب نہیں۔ نماز کی پابندی کر لو، اللہ ایسی جگہ سے روزی پہنچائے گا جو خواب و خیال میں بھی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے لیے چھٹکارا کر دیتا ہے اور بے شان و گمان جگہ سے روزی پہنچاتا ہے۔
تمام جنات اور انسان صرف عبادت الٰہی کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔ رزاق اور زبردست قوتوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فرماتا ہے ہم خود تمام مخلوق کے روزی رساں ہیں۔ ہم تمیں طلب کی تکلیف نہیں دیتے۔ ہشام رحمہ اللہ کے والد صاحب جب امیر امراء کے مکانوں پر جاتے اور ان کا ٹھاٹھ دیکھتے تو واپس اپنے مکان پر آ کر اسی آیت کی تلاوت فرماتے۔ اور کہتے میرے کنبے والو! نماز کی حفاظت کرو نماز کی پابندی کرو۔ اللہ تم پر رحم فرمائے گا۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تنگی ہوتی تو اپنے گھر کے سب لوگوں کو فرماتے، اے میرے گھر والو، نمازیں پڑھو نمازیں قائم رکھو۔ تمام انبیاء علیہم السلام کا یہی طریقہ رہا ہے کہ اپنی ہر گھبراہٹ اور ہر کام کے وقت نماز شروع کر دیتے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:561/4:مرسل]‏‏‏‏
ترمذی ابن ماجہ وغیرہ کی قدسی حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا، میں تیرا سینہ امیری اور بےپرواہی سے پر کر دوں گا۔ تیری فقیری اور حاجت کو دور کر دوں گا اور اگر تو نے یہ نہ کیا تو میں تیرا دل اشغال سے بھر دونگا اور تیری فقیری بند ہی نہ کروں گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2466،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ابن ماجہ شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جس نے اپنی تمام غور و فکر اور قصد و خیال کو اکٹھا کر کے آخرت کا خیال باندھ لیا اور اسی میں مشغول ہو گیا، اللہ تعالیٰ اسے دنیا کی تمام پریشانیوں سے محفوظ کر لے گا۔ اور جس نے دنیا کی فکریں پال لیں، یہاں کے غم مول لے لیے، اللہ کو اس کی مطلقا پرواہ نہ رہے گی خواہ کسی حیرانی میں ہلاک ہو جائے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:4105:قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { دنیا کے غموں میں ہی، اسی کی فکروں میں ہی مصروف ہو جانے والے کے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ پریشانیاں ڈال دے گا اور اس کی فقیری اس کی آنکھوں کے سامنے کر دے گا اور دنیا اتنی ہی ملے گی جتنی مقدر میں ہے۔ اور جو اپنے دل کا مرکز آخرت کو بنا لے گا، اپنی نیت وہی رکھے گا، اللہ تعالیٰ اسے ہرکام کا اطمینان نصیب فرما دے گا۔ اس کے دل کو سیراور شیر بنا دے گا اور دنیا اس کے قدموں کی ٹھوکروں میں آیا کرے گی۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:،قال4106 الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏
پھر فرمایا دنیا و آخرت میں نیک انجام پرہیزگار لوگ ہی ہیں۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، میں نے آج رات خواب میں دیکھا کہ گویا ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہیں۔ وہاں ہمارے سامنے ابن طالب کے باغ کی تر کھجوریں پیش کی گئی ہیں۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ دنیا میں بھی انجام کے لحاظ سے ہمارا ہی پلہ گراں رہے گا اور بلندی اور اونچائی ہم کو ہی ملے گی اور ہمارا دین پاک صاف، طیب و طاہر، کامل و مکمل ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2270]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی دنیا اور اس کی متاع، مثلاً:لذیذ ماکولات و مشروبات، ملبوسات فاخرہ، آراستہ کیے ہوئے گھروں اور حسین و جمیل عورتوں سے حظ اٹھانے والوں کے احوال کو استحسان اور پسندیدگی کی نظر سے دوبارہ نہ دیکھیں، اس لیے کہ یہ سب کچھ دنیا کی خوبصورتی ہے اور اس سے صرف فریب خوردہ لوگ ہی خوش ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے روگردانی کرنے والوں کی نظریں ہی اسے پسندیدگی سے دیکھتی ہیں۔ آخرت سے قطع نظر کر کے، صرف ظالم لوگ ہی اس سے متمتع ہوتے ہیں، پھر یہ دنیا سب کی سب، تیزی سے گزر جاتی ہے، اپنے چاہنے والوں اور عشاق کو بے موت مار دیتی ہے۔ پس دنیا سے محبت کرنے والے لوگ اس وقت نادم ہوں گے جب ندامت کوئی فائدہ نہیں دے گی اور قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے تب انھیں اپنی بے مائیگی کا علم ہو گا۔
اللہ تعالیٰ نے تو اس دنیا کو فتنہ اور آزمائش بنایا ہے تاکہ معلوم ہو کہ کون اس کے پاس ٹھہرتا اور اس کے فریب میں مبتلا ہوتا ہے اور کون اچھے عمل کرتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا۰۰وَاِنَّا لَجٰؔعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًا (الکہف:18؍7-8) جو کچھ زمین پر موجود ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ ان میں سے کون اچھے کام کرتا ہے، پھر جو کچھ اس زمین پر ہے ہم سب کو ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔
﴿وَرِزْقُ رَبِّكَ اور تیرے رب کا رزق دنیاوی رزق یعنی علم، ایمان اور اعمال صالحہ کے حقائق، اخروی رزق یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور رب رحیم کے جوار رحمت میں سلامتی سے بھرپور زندگی۔ ﴿ خَیْرٌ اپنی ذات و صفات میں اس زندگی سے بہتر ہے جو ہم نے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے ﴿وَّاَبْقٰى اور پائدار ہے کیونکہ اس کے پھل کبھی ختم نہ ہوں گے اور اس کے سائے دائمی ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاٞۖ۰۰وَالْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰى (الاعلی:87؍16۔17) مگر تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ بندہ جب دیکھے کہ اس کا نفس سرکشی اختیار کر کے دنیا کی زیب و زینت کی طرف مائل اور متوجہ ہے تو وہ اپنے رب کے اس رزق کو یاد کرے جو آئندہ زندگی میں اسے عطا ہونے والا ہے، پھر ان دونوں کے درمیان موازنہ کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ولا تمدَّ {عَيْنَيْكَ} معجباً ولا تكرِّر النظر مستحسناً إلى أحوال الدُّنيا والممتَّعين بها من المآكل والمشارب اللذيذة والملابس الفاخرة والبيوت المزخرفة والنساء المجمَّلة؛ فإنَّ ذلك كلَّه زهرةُ {الحَياةِ الدُّنيا}؛ تبتهج بها نفوسُ المغترين، وتأخُذُ إعجاباً بأبصار المعرِضين، ويتمتَّع بها بقطع النظرِ عن الآخرة القومُ الظالمون، ثم تذهب سريعاً وتمضي جميعاً، وتقتلُ محبِّيها وعشَّاقَها فيندمون حيث لا تنفع الندامة، ويعلمون ما هم عليه إذا قدِموا يوم القيامة، وإنَّما جعلها الله فتنةً واختباراً ليعلمَ من يَقِفُ عندها ويغترُّ بها ومَنْ هو أحسنُ عملاً. كما قال تعالى: {إنا جَعلنَا ما على الأرضِ زينَة لها لنَبلوهم أيُّهُم أحَسنُ عَملاً وإنَّا لجاعلونَ ما عَلَيْها صعيداً جُرُزاً}. {ورزقُ ربِّك}: العاجل من العلم والإيمان وحقائق الأعمال الصالحة، والآجل من النعيم المقيم والعيش السليم في جوار الربِّ الرحيم، {خيرٌ}: مما متَّعنا به أزواجاً في ذاته وصفاته، {وأبقى}: لكونِهِ لا ينقطع أكُلُها دائمٌ وظلُّها؛ كما قال تعالى: {بل تؤثِرونَ الحياة الدُّنيا. والآخرةُ خيرٌ وأبقى}.

وفي هذه الآية إشارةٌ إلى أنَّ العبد إذا رأى من نفسِهِ طموحاً إلى زينة الدُّنيا وإقبالاً عليها أنْ يُذَكِّرَها ما أمامها من رزقِ ربِّه، وأنْ يوازِنَ بين هذا وهذا.