تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قرآن ان سب کا نگہبان ہے۔ چونکہ اگلی کتابیں کمی بیشی سے پاک نہیں رہیں، اس لیے قرآن اترا ہے کہ ان کی صحت و غیر صحت کو ممتاز کر دے۔ سورۃ العنکبوت میں کافروں کے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا «وَقَالُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَاتٌ مِّن رَّبِّهِ ۖ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّـهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ * أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَىٰ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ» ۱؎ [29-العنكبوت:50-51] ’ یعنی کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہر قسم کے معجزات ظاہر کرنے پر قادر ہے، میں تو صرف تنبیہہ کرنے والا رسول ہوں۔ میرے قبضے میں کوئی معجزہ نہیں لیکن کیا انہیں یہ معجزہ کافی نہیں کہ ہم نے تجھ پر کتاب نازل فرمائی ہے جو ان کے سامنے برابر تلاوت کی جا رہی ہے جس میں ہر یقین والے کے لیے رحمت و عبرت ہے۔ ‘
صحیح بخاری و مسلم میں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، ہرنبی کو ایسے معجزے ملے کہ انہیں دیکھ کر لوگ ان کی نبوت پر ایمان لے آئے۔ لیکن مجھے جیتا جاگتا زندہ اور ہمیشہ رہنے والا معجزہ دیا گیا ہے یعنی اللہ کی یہ کتاب قرآن مجید جو بذریعہ وحی مجھ پر اتری ہے۔ پس مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن تمام نبیوں کے تابعداروں سے میرے تابعدار زیادہ ہوں گے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4981]
یہ یاد رہے کہ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ بیان ہوا ہے اس سے یہ مطلب نہیں کہ آپ کے معجزے اور تھے ہی نہیں۔ علاوہ اس پاک اور معجز قرآن کے آپ کے ہاتھوں اس قدر معجزات سرزد ہوئے ہیں جو گنتی میں نہیں آ سکتے۔ لیکن ان تمام بےشمار معجزوں سے بڑھ چڑھ کر آپ کا سب سے اعلیٰ معجزہ یہ قرآن کریم ہے۔ اگر اس محترم ختم المرسلین آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجنے سے پہلے ہی ہم ان نہ ماننے والوں کو اپنے عذاب سے ہلاک کر دیتے تو ان کا یہ عذر باقی رہ جاتا کہ اگرہمارے سامنے کوئی پیغمبر آتا، کوئی وحی الٰہی نازل ہوتی تو ہم ضرور اس پر ایمان لاتے اور اس کی تابعداری اور فرماں برداری میں لگ جاتے اور اس ذلت و رسوائی سے بچ جاتے۔
اس لیے ہم نے ان کا یہ عذر بھی کاٹ دیا۔ رسول بھیج دیا، کتاب نازل فرما دی، انہیں ایمان نصیب نہ ہوا، عذابوں کے مستحق بن گئے اور عذر بھی دور ہو گئے۔ «وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-يونس:97] ’ ہم خوب جانتے ہیں کہ ایک کیا ہزاروں آیتیں اور نشانات دیکھ کر بھی انہیں ایمان نہیں آنے کا۔ ہاں جب عذابوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے، اس وقت ایمان لائیں گے لیکن وہ محض بےسود ہے۔ ‘
یہی مضمون آیت «وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَتْهُمْ آيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا ۚ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّـهِ ۖ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:109]
میں ہے کہ کہتے ہیں کہ رسول کی آمد پر ہم مومن بن جائیں گے، معجزہ دیکھ کر ایمان قبول کر لیں گے لیکن ہم ان کی سرشت سے واقف ہیں، یہ تمام آیتیں دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں گے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کافروں سے کہہ دیجئیے کہ ادھر ہم ادھر تم منتظر ہیں۔ «وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا» [25-الفرقان:42] ’ ابھی حال کھل جائے گا کہ راہ مستقیم پر کون ہے؟ ‘
حق کی طرف کون چل رہا ہے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اس وقت معلوم ہو جائے گا کون گمراہی میں مبتلا تھا۔ گھبراؤ نہیں۔ ابھی ابھی جان لو گے کہ «سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ» ۱؎ [54-القمر:26] کذاب و شریر کون تھا؟ یقیناً مسلمان راہ راست پر ہیں اور غیرمسلم اس سے ہٹے ہوئے ہیں۔
سورۃ طہ کی تفسیر ختم ہوئی۔ اور اسی کے ساتھ تفسیر محمدی کا سولہواں پارہ بھی ختم ہوا، «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: قال المكذِّبون للرسول - صلى الله عليه وسلم -: هلاَّ يأتينا بآيةٍ من ربِّه؛ يعنونَ آيات الاقتراح؛ كقولهم: {وقالوا لَن نؤمنَ لك حتى تَفْجُرَ لنا من الأرضِ يَنبوعاً أو تكونَ لك جَنَّةٌ من نخيل وعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الأنهار خلالها تَفْجِيرا. أو تسقِطَ السماء كما زعمتَ علينا كِسَفاً أو تأتيَ بالله والملائكةِ قَبيلاً}، وهذا تعنُّت منهم وعنادٌ وظلمٌ؛ فإنَّهم هم والرسول بشرٌ عبيدٌ لله؛ فلا يليقُ منهم الاقتراح بحسب أهوائهم، وإنَّما الذي ينزِلُها ويختارُ منها ما يختارُ بحسب حكمتِهِ هو الله، ولما كان قولهم: {لولا يأتينا بآية من ربِّه}: يقتضي أنَّه لم يأتِهِم بآيةٍ على صدقِهِ ولا بيِّنة على حقِّه، وهذا كذبٌ وافتراء؛ فإنه أتى من المعجزات الباهرات والآيات القاهرات ما يحصُلُ ببعضه المقصودُ، ولهذا قال: {أَوَلَمْ [تأتِهم]}: إن كانوا صادقينَ في قولهم، وأنهم يطلبُون الحقَّ بدليله، {بيِّنَةُ ما في الصُّحف الأولى}؛ أي: هذا القرآن العظيم، المصدِّق لما في الصحف الأولى من التوراة والإنجيل والكتب السابقة، المطابق لها، المخبر بما أخبرت به، وتصديقُهُ أيضاً مذكورٌ فيها، ومبشَّر بالرسول بها، وهذا كقولِهِ تعالى: {أَوَلَم يكفِهِم أنَّا أنزلنا عليك الكتابَ يُتلى عليهم إنَّ في ذلك لرحمةً وذِكْرى لقوم يؤمنونَ}؛ فالآياتُ تنفعُ المؤمنين ويزداد بها إيمانُهم وإيقانُهم، وأما المعرضونَ عنها المعارضون لها؛ فلا يؤمنونَ بها ولا ينتفعونَ بها. {إنَّ الذين حقَّتْ عليهم كلمةُ ربِّك لا يؤمنون. ولو جاءَتْهم كلُّ آيةٍ حتى يَرَوُا العذابَ الأليم}.