تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ مدینہ میں ہجرت کے بعد مسلمانوں کو جب مشرکین، منافقین اور یہود سے سخت تکالیف پہنچیں تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اس میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی کہ دین کی راہ میں یہ مصیبتیں اور تکلیفیں صرف تم پر نہیں آ رہیں، بلکہ تم سے پہلے لوگ تو فقر و فاقہ، جانی و مالی نقصان اور سخت قسم کے خوف و ہراس میں مبتلا کیے گئے، یہاں تک کہ اس زمانے کا رسول اور اس کے ساتھ ایمان لانے والے ”اللہ کی مدد کب ہو گی“ پکار اٹھے۔ پھر جس طرح ان پر اللہ کی طرف سے مدد نازل ہوئی تمھاری بھی مدد کی جائے گی۔ چنانچہ جب غزوۂ احزاب میں یہ مرحلہ پیش آیا، جس کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ احزاب (۱۰، ۱۲) میں کھینچا ہے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ یاد رہے کہ ان کا ”اللہ کی مدد کب ہو گی“ کہنا اعتراض اور شکوہ کے طور پر نہ تھا، بلکہ بے بسی کے عالم میں اپنی عاجزی اور زاری کی حالت کا اظہار تھا۔ (رازی، ابن کثیر) خَبّاب بن اَرَت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ ہمارے لیے نصرت کی درخواست نہیں کرتے، آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا نہیں کرتے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”پہلے لوگوں میں سے ایک کے سر کی مانگ پر آرا رکھ دیا جاتا اور وہ اس کے قدموں تک پہنچ جاتا، مگر یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی اور لوہے کی کنگھیوں سے اس کے گوشت اور ہڈی کو الگ کر دیا جاتا، یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ کام ضرور مکمل ہو کر رہے گا، یہاں تک کہ سوار صنعاء سے حضر موت تک چلے گا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہیں ہو گا یا اسے اپنی بکریوں سے متعلق بھیڑیے کا (خوف ہو گا)، لیکن تم ایسے لوگ ہو کہ بہت جلدی کرتے ہو۔“ [شعب الإیمان للبیہقی: 240/2، ح: ۱۶۳۳۔ بخاری: ۳۶۱۲۔ ابن کثیر: 251/1]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قرآن میں ٹھیک یہی مضمون دوسری جگہ ان الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ آیت «الم، أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّـهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ» [29۔ العنکبوت: 3-1] کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ محض ایمان کے اقرار سے ہی چھوڑ دئیے جائیں گے اور ان کی آزمائش نہ ہو گی ہم نے تو اگلوں کی بھی آزمائش کی سچوں کو اور جھوٹوں کو یقیناً ہم نکھار کر رہیں گے، چنانچہ اسی طرح صحابہ کرام رضون اللہ علیہم اجمعین کی پوری آزمائش ہوئی یوم الاحزاب کو یعنی جنگ خندق میں ہوئی جیسے خود قرآن پاک نے اس کا نقشہ کھینچا ہے فرمان ہے آیت «إِذْ جَاءُوكُم مِّن فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّـهِ الظُّنُونَا هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا وَإِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا» [33-الأحزاب: 10 - 12] یعنی جبکہ کافروں نے تمہیں اوپر نیچے سے گھیر لیا جبکہ آنکھیں پتھرا گئیں اور دل حلقوم تک آ گئے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ گمان ہونے لگے اس جگہ مومنوں کی پوری آزمائش ہو گئی اور وہ خوب جھنجھوڑ دئیے گئے جبکہ منافقوں کو اور ڈھل مل گئی یقیناً لوگ کہنے لگے کہ اللہ رسول کے وعدے تو غرور کے ہی تھے۔
ہرقل نے جب ابوسفیان سے ان کے کفر کی حالت میں پوچھا تھا کہ تمہاری کوئی لڑائی بھی اس دعویدار نبوت سے ہوئی ہے ابوسفیان نے کہا ہاں پوچھا پھر کیا رنگ رہا کہا کبھی ہم غالب رہے کبھی وہ غالب رہے تو ہرقل نے کہا انبیاء علیہم السلام کی آزمائش اسی طرح ہوتی رہتی ہے لیکن انجام کار کھلا غلبہ انہیں کا ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:7]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تبارك وتعالى أنه لا بد أن يمتحن عباده بالسراء والضراء والمشقة كما فعل بمن قبلهم، فهي سنته الجارية التي لا تتغير ولا تتبدل، أن من قام بدينه وشرعه لا بد أن يبتليه، فإن صبر على أمر الله، ولم يبال بالمكاره الواقفة في سبيله، فهو الصادق الذي قد نال من السعادة كمالها ومن السيادة آلتها، ومن جعل فتنة الناس كعذاب الله، بأن صدته المكاره عما هو بصدده، وثنته المحن عن مقصده، فهو الكاذب في دعوى الإيمان، فإنه ليس الإيمان بالتحلي والتمني ومجرد الدعاوي؛ حتى تصدقه الأعمال أو تكذبه، فقد جرى على الأمم الأقدمين ما ذكر الله عنهم {مستهم البأساء والضراء}؛ أي: الفقر والأمراض في أبدانهم {وزلزلوا}؛ بأنواع المخاوف من التهديد بالقتل والنفي، وأخذ الأموال، وقتل الأحبة، وأنواع المضار، حتى وصلت بهم الحال، وآل بهم الزلزال إلى أن استبطؤوا نصر الله مع يقينهم به، ولكن لشدة الأمر وضيقه قال {الرسول والذين آمنوا معه متى نصر الله}؛ فلما كان الفرج عند الشدة، وكلما ضاق الأمر اتسع قال تعالى: {ألا إن نصر الله قريب}؛ فهكذا كل من قام بالحق فإنه يمتحن، فكلما اشتدت عليه وصعبت إذا صابر وثابر على ما هو عليه؛ انقلبت المحنة في حقه منحة، والمشقات راحات، وأعقبه ذلك الانتصار على الأعداء وشفاء ما في قلبه من الداء.
وهذه الآية نظير قوله تعالى: {أم حسبتم أن تدخلوا الجنة ولما يعلم الله الذين جاهدوا منكم ويعلم الصابرين}؛ وقوله تعالى: {ألم. أحسب الناس أن يتركوا أن يقولوا آمنا وهم لا يفتنون، ولقد فتنا الذين من قبلهم فليعلمن الله الذين صدقوا وليعلمن الكاذبين}؛ فعند الامتحان يكرم المرء أو يهان.