یا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جائو گے، حالانکہ ابھی تک تم پر ان لوگوں جیسی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے، انھیں تنگی اور تکلیف پہنچی اور وہ سخت ہلائے گئے، یہاں تک کہ وہ رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے تھے، کہہ اٹھے اللہ کی مدد کب ہوگی؟ سن لو بے شک اللہ کی مدد قریب ہے۔
En
کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ (یوں ہی) بہشت میں داخل ہوجاؤ گے اور ابھی تم کو پہلے لوگوں کی سی (مشکلیں) تو پیش آئی ہی نہیں۔ ان کو (بڑی بڑی) سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ (صعوبتوں میں) ہلا ہلا دیئے گئے۔ یہاں تک کہ پیغمبر اور مومن لوگ جو ان کے ساتھ تھے سب پکار اٹھے کہ کب خدا کی مدد آئے گی ۔ دیکھو خدا کی مدد (عن) قریب (آيا چاہتی) ہے
کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے، حاﻻنکہ اب تک تم پر وه حاﻻت نہیں آئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئے تھے۔ انہیں بیماریاں اور مصیبتیں پہنچیں اور وہ یہاں تک جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور اس کے ساتھ کے ایمان والے کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سن رکھو کہ اللہ کی مدد قریب ہی ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ خوشحالی، بدحالی اور مشقت کے ذریعے سے ضرور اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے جیسے اس نے ان سے پہلے لوگوں کو آزمایا۔ یہ اس کی سنت جاریہ ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا جو کوئی اس کے دین اور شریعت پر چلنے کا دعویٰ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے ضرور آزماتا ہے۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر صبر کرتا ہے اور اس کی راہ میں پیش آنے والے مصائب اور تکالیف کی پروا نہیں کرتا تو وہ اپنے دعوے میں سچا ہے اور کامل ترین سعادت اور سیادت کی منزل کو پا لے گا اور جو کوئی لوگوں کے فتنے کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مانند سمجھ لیتا ہے بایں طور کہ لوگوں کی ایذائیں اور تکالیف اس کو اپنے راستے سے ہٹا دیتی ہیں اور امتحان اور آزمائش اس کی منزل کھوٹی کردیتے ہیں، تو وہ اپنے دعوئ ایمان میں جھوٹا ہے۔ کیونکہ ایمان محض تمناؤں اور مجرد دعووں کا نام نہیں بلکہ اعمال اس کی تصدیق یا تکذیب کرتے ہیں۔ سابقہ امتوں کو بھی اسی راستے سے گزرنا پڑا ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿مَسَّتْهُمُالْبَاْسَآءُوَالضَّرَّآءُ ﴾”ان کو سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں۔“ یعنی وہ فقر و فاقہ کا شکار ہوئے اور ان پر مختلف بیماریوں نے حملہ کیا ﴿ وَزُلْ٘زِلُوْا﴾”اور وہ ہلا دیے گئے۔“ یعنی قتل، جلا وطنی، مال لوٹ لینے اور عزیز و اقارب کو قتل کی دھمکی کے خوف اور دیگر نقصانات کے ذریعے سے ان کو ہلا ڈالا گیا، اس حالت نے ان کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مدد پر یقین رکھنے کے باوجود اس کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہو گئے۔ یہاں تک کہ معاملے کی شدت اور تنگی کی بنا پر ﴿ حَتّٰىیَقُوْلَالرَّسُوْلُوَالَّذِیْنَاٰمَنُوْامَعَهٗمَتٰىنَصْرُاللّٰهِ ﴾”رسول اور اس کے مومن ساتھی بھی پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔“
چونکہ ہر شدت کے بعد آسانی اور ہر تنگی کے بعد فراخی ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَلَاۤاِنَّنَصْرَاللّٰهِقَ٘رِیْبٌ ﴾”آگاہ رہو کہ اللہ کی مدد قریب ہے“ پس ہر وہ شخص جو حق پر قائم رہتا ہے اس کا اسی طرح امتحان لیا جاتا ہے۔ جب بندۂ مومن پر سختیاں اور صعوبتیں یلغار کرتی ہیں اور وہ ثابت قدمی سے ان پر صبر کرتا ہے، تب یہ امتحان اس کے حق میں انعام اورمشقتیں راحتوں میں بدل جاتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اس کو دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے نوازا جاتا ہے اور وہ قلب کی تمام بیماریوں سے شفایاب ہو جاتا ہے۔
یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے ﴿ اَمْحَسِبْتُمْاَنْتَدْخُلُواالْجَنَّةَوَلَمَّؔایَعْلَمِاللّٰهُالَّذِیْنَجٰهَدُوْامِنْكُمْوَیَعْلَمَالصّٰؔبِرِیْنَ ﴾ (آل عمران: 3؍142) ”کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ اس نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو آزما کر معلوم ہی نہیں کیا اور نیز یہ کہ وہ صبر کرنے والوں کو معلوم کرے۔“ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے ﴿ الٓـمّٓۚ۰۰اَحَسِبَالنَّاسُاَنْیُّتْرَؔكُوْۤااَنْیَّقُوْلُوْۤااٰمَنَّاوَهُمْلَایُفْتَنُوْنَ۰۰وَلَقَدْفَتَنَّاالَّذِیْنَمِنْقَبْلِهِمْفَ٘لَ٘یَ٘عْلَ٘مَنَّاللّٰهُالَّذِیْنَصَدَقُوْاوَلَ٘یَ٘عْلَ٘مَنَّالْكٰذِبِیْنَ﴾ (العنکبوت: 29؍1-3) ”الم۔ کیا لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ان کے صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لائے ان کو چھوڑ دیا جائے گا اور ان کو آزمایا نہیں جائے گا، یقیناً ہم نے ان لوگوں کو بھی آزمایا ہے جو ان سے پہلے تھے اللہ ان کو ضرور آزما کر معلوم کرے گا جو اپنے دعوئ ایمان میں سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں۔“ پس امتحان کے وقت ہی انسان کی عزت یا تحقیر ہوتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تبارك وتعالى أنه لا بد أن يمتحن عباده بالسراء والضراء والمشقة كما فعل بمن قبلهم، فهي سنته الجارية التي لا تتغير ولا تتبدل، أن من قام بدينه وشرعه لا بد أن يبتليه، فإن صبر على أمر الله، ولم يبال بالمكاره الواقفة في سبيله، فهو الصادق الذي قد نال من السعادة كمالها ومن السيادة آلتها، ومن جعل فتنة الناس كعذاب الله، بأن صدته المكاره عما هو بصدده، وثنته المحن عن مقصده، فهو الكاذب في دعوى الإيمان، فإنه ليس الإيمان بالتحلي والتمني ومجرد الدعاوي؛ حتى تصدقه الأعمال أو تكذبه، فقد جرى على الأمم الأقدمين ما ذكر الله عنهم {مستهم البأساء والضراء}؛ أي: الفقر والأمراض في أبدانهم {وزلزلوا}؛ بأنواع المخاوف من التهديد بالقتل والنفي، وأخذ الأموال، وقتل الأحبة، وأنواع المضار، حتى وصلت بهم الحال، وآل بهم الزلزال إلى أن استبطؤوا نصر الله مع يقينهم به، ولكن لشدة الأمر وضيقه قال {الرسول والذين آمنوا معه متى نصر الله}؛ فلما كان الفرج عند الشدة، وكلما ضاق الأمر اتسع قال تعالى: {ألا إن نصر الله قريب}؛ فهكذا كل من قام بالحق فإنه يمتحن، فكلما اشتدت عليه وصعبت إذا صابر وثابر على ما هو عليه؛ انقلبت المحنة في حقه منحة، والمشقات راحات، وأعقبه ذلك الانتصار على الأعداء وشفاء ما في قلبه من الداء.
وهذه الآية نظير قوله تعالى: {أم حسبتم أن تدخلوا الجنة ولما يعلم الله الذين جاهدوا منكم ويعلم الصابرين}؛ وقوله تعالى: {ألم. أحسب الناس أن يتركوا أن يقولوا آمنا وهم لا يفتنون، ولقد فتنا الذين من قبلهم فليعلمن الله الذين صدقوا وليعلمن الكاذبين}؛ فعند الامتحان يكرم المرء أو يهان.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔