تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ:} یعنی پہلی امتوں میں اختلافات لاعلمی کی وجہ سے نہیں بلکہ باہمی حسد، ضد اور سرکشی کی وجہ سے پیدا ہوئے، جس سے وہ فرقوں میں بٹ گئیں اور اس وجہ سے گمراہ ہو گئیں۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری نبی بھیج کر اور اس پر اپنی آخری کتاب نازل فرما کر تمام اختلافات کا فیصلہ فرما دیا اور اپنی توفیق خاص {”بِاِذْنِهٖ“} سے مومنوں کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت کر دی ہے۔ (بیضاوی، فتح البیان) واضح رہے کہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ و سلم میں بھی شروع میں دین میں کوئی اختلاف نہیں تھا، سلف صالحین سب کے سب کسی شخص کی تقلید کے بجائے براہ راست قرآن و حدیث پر عمل کرتے تھے۔ ان میں نہ شیعہ سنی کی تفریق تھی، نہ ان میں کوئی حنفی تھا، نہ مالکی، نہ شافعی، نہ حنبلی، نہ نقشبندی، نہ قادری، نہ سہروردی، نہ چشتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تھا:”تم ضرور ہی اپنے سے پہلے لوگوں کے پیچھے چل پڑو گے، جس طرح بالشت بالشت کے برابر اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی ضب (سانڈے) کے بل میں جا گھسے ہوں تو تم بھی ان کے پیچھے جاؤ گے۔“ پوچھا گیا: ”یا رسول اللہ! اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں؟“ فرمایا: ”پھر اور کون ہیں؟“ [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب ما ذکر عن بنی إسرائیل: ۳۴۵۶۔ مسلم: ۲۶۶۹] آپ کے اس فرمان کے مطابق جب اس امت میں بھی اہل کتاب کی طرح شخصی رائے کی تقلید اور اپنے دھڑے کی بے جا حمایت پر جمود پیدا ہو گیا، لوگوں نے قرآن و حدیث کے بجائے اقوالِ رجال کو دین سمجھنا شروع کر دیا تو امت مختلف فرقوں میں بٹ کر تباہ ہو گئی۔ اس سے صرف وہ لوگ محفوظ رہے جو قرآن و سنت پر براہ راست کار بند رہے اور کسی نئے گروہ کا حصہ نہ بنے۔ [وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ]
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب رات کو اٹھتے تو اپنی رات کی نماز کا افتتاح اس دعا سے کرتے: [اَللّٰھُمَّ رَبَّ جِبْرَائِیْلَ وَ مِیْکَائِیْلَ وَ اِسْرَافِیْلَ، فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ، عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ أَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ، اہْدِنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِکَ اِنَّکَ تَہْدِیْ مَنْ تَشَاءُ إِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ] [مسلم، صلٰوۃ المسافرین، باب صلوۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ودعاء ہ باللیل: ۷۷۰]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
﴿ بَغْيًا بَيْنَهُمْ﴾
سے تعبیر فرمایا ہے۔ یعنی بعض لوگ حق کو جاننے کے باوجود اپنے جائز حق سے بڑھ کر امتیازات، فوائد اور منافع حاصل کرنا چاہتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے پر ظلم، سرکشی اور زیادتی کرنے سے دریغ نہیں کرتے تاکہ ان کا اپنا جھنڈا بلند ہو۔ بعض لوگ اپنے آباء کے دین کو اصل دین قرار دے لیتے اور اس پر مصر ہو جاتے ہیں یا کسی امام کے متبع امام کے قول کو حکم الٰہی پر ترجیح دینے پر اصرار کرتے ہیں تو اس طرح نئے نئے فرقے وجود میں آتے رہتے ہیں اور وحدت ملت پارہ پارہ ہو جاتی ہے اور یہی فرقے اس کے زوال کا سبب بن جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مجاہد رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت مروی ہے کہ پہلے سب کے سب کافر تھے، لیکن اول قول معنی کے اعتبار سے بھی اور سند کے اعتبار سے بھی زیادہ صحیح ہے، پس ان پیغمبروں نے ایمان والوں کو خوشیاں سنائی اور ایمان نہ لانے والوں کو ڈرایا، ان کے ساتھ اللہ کی کتاب بھی تھی تاکہ لوگوں کے ہر اختلاف کا فیصلہ قانون الٰہی سے ہو سکے، لیکن ان دلائل کے بعد بھی صرف آپس کے حسد و بغض تعصب و ضد اور نفسانیت کے بنا پر پھر اتفاق نہ کر سکے، لیکن ایماندار سنبھل گئے اور اس اختلاف کے چکر سے نکل کر سیدھی راہ لگ گئے،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم دنیا میں آنے کے اعتبار سے سب سے آگے ہوں گے، اہل کتاب کو کتاب اللہ ہم سے پہلے دی گئی ہمیں اس کے بعد دی گئی لیکن انہوں نے اختلاف کیا اور اللہ پاک نے ہماری رہبری کی جمعہ کے بارے میں بھی نااتفاقی رہی لیکن ہمیں ہدایت نصیب ہوئی یہ کل کے کل اہل کتاب اس لحاظ سے بھی ہمارے پیچھے ہیں۔ [عبدالرزاق:81/1] جمعہ ہمارا ہے ہفتہ یہودیوں کا اور اتوار نصرانیوں کا، [صحیح بخاری:876] زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں جمعہ کے علاوہ قبلہ کے بارے میں بھی یہی ہوا نصاریٰ نے مشرق کو قبلہ بنایا یہود نے بھی، ان میں بعض کی نماز رکوع ہے اور سجدہ نہیں، بعض کے ہاں سجدہ ہے اور رکوع نہیں، بعض نماز میں بولتے چلتے پھرتے رہتے ہیں لیکن امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سکون و وقار والی ہے نہ یہ بولیں نہ چلیں نہ پھریں، روزوں میں بھی اسی طرح اختلاف ہوا اور اس میں بھی امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت نصیب ہوئی ان میں سے کوئی تو دن کے بعض حصے کا روزہ رکھتا ہے کوئی گروہ بعض قسم کے کھانے چھوڑ دیتا ہے لیکن ہمارا روزہ ہر طرح کامل ہے اور اس میں بھی راہ حق ہمیں سمجھائی گئی ہے،
اسی طرح ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں یہود نے کہا کہ وہ یہودی تھے نصرانیوں نے انہیں نصاری کہا لیکن دراصل وہ یکسر مسلمان تھے پس اس بارے میں بھی ہماری رہبری کی گئی اور خلیل اللہ علیہ السلام کی نسبت صحیح خیال تک ہم کو پہنچا دیا گیا، عیسیٰ علیہ السلام کو بھی یہودیوں نے جھٹلایا اور ان کی والدہ ماجدہ کی نسبت بدکلامی کی، نصرانیوں نے انہیں اللہ اور اللہ کا بیٹا کہا لیکن مسلمان اس افراط وتفریط سے بچا لیے گئے اور انہیں روح اللہ کلمۃ اللہ اور نبی برحق مانا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:284/4]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت میں آیت «واللہ یہدی» الخ، سے پہلے یہ لفظ بھی ہیں آیت «ولیکونوا شہداء علی الناس یوم القیامۃ» الخ، ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس آیت میں گویا حکم ہے کہ شبہ، گمراہی، اور فتنوں سے بچنا چاہیئے، یہ ہدایت اللہ کے علم اور اس کی رہبری سے ہوئی وہ جسے چاہے راہ استقامت سجھا دیتا ہے،
بخاری و مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب تہجد کے لیے اٹھتے تھے تو یہ پڑھتے دعا «اللہم رب جبرائیل ومیکائیل واسرافیل فاطر السماوات والارض عالم الغیب والشہادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون اہدنی لما اختلف فیہ من الحق باذنک انک تہدی من تشاء الی صراط مستقیم» ۔ یعنی اے اللہ اے جبرائیل ومیکائل اور اسرافیل کے اللہ عزوجل اے آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے الہ العالمین۔ اے چھپے کھلے کے جاننے والے اللہ جل شانہ تو ہی اپنے بندوں کے آپس کے اختلافات کا فیصلہ کرتا ہے میری دعا ہے کہ جس جس چیز میں یہ اختلاف کریں تو مجھے اس میں حق بات سمجھا تو جسے چاہے راہ راست دکھلا دیتا ہے[صحیح مسلم:770]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دعا یہ بھی منقول ہے «اللہم ارنا الحق حق وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلاوارزقنا اجتنابہ ولا تجعلہ متلبسا علینا فنضل واجعلنا للمتقین اماما» ۔ اے اللہ ہمیں حق کو حق دکھا اور اس کی تابعدار نصیب فرما اور باطل کو باطل دکھا اور اس سے بچا کہیں ایسا نہ کہ حق و باطل ہم پر خلط ملط ہو جائے اور ہم بہک جائیں اے اللہ ہمیں نیکوکار اور پرہیزگار لوگوں کا امام بنا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
؛ [أي: كانوا مجتمعين على الهدى، وذلك عشرة قرون بعد نوح عليه السلام، فلما اختلفوا في الدِّين، فكفر فريقٌ منهم، وبقي الفريقُ الآخرُ على الهدى، وحصل النزاع، بعث اللهُ الرُّسل؛ ليفصلوا بين الخلائق، ويقيموا الحجة عليهم، وقيل: بل كانوا]؛ أي: كان الناس مجتمعين على الكفر والضلال والشقاء ليس لهم نور ولا إيمان، فرحمهم الله تعالى بإرسال الرسل إليهم {مبشرين}؛ من أطاع الله بثمرات الطاعات من الرزق والقوة في البدن والقلب والحياة الطيبة، وأعلى ذلك الفوز برضوان الله والجنة {ومنذرين}؛ من عصى الله بثمرات المعصية من حرمان الرزق والضعف والإهانة والحياة الضيقة، وأشد ذلك سخط الله والنار، وأنزل الكتب عليهم بالحق؛ وهو الإخبارات الصادقة والأوامر العادلة.
فكل ما اشتملت عليه الكتب فهو حق يفصل بين المختلفين في الأصول والفروع، وهذا هو الواجب عند الاختلاف والتنازع أن يرد الاختلاف إلى الله وإلى رسوله، ولولا أن في كتابه وسنة رسوله فصلَ النزاع لما أمر بالرد إليهما، ولما ذكر نعمته العظيمة بإنزال الكتب على أهل الكتاب، وكان هذا يقتضي اتفاقهم عليها واجتماعهم فأخبر تعالى أنهم بغى بعضهم على بعض، وحصل النزاع والخصام وكثرة الاختلاف، فاختلفوا في الكتاب الذي ينبغي أن يكونوا أولى الناس بالاجتماع عليه وذلك من بعد ما علموه وتيقنوه بالآيات البينات والأدلة القاطعات، وضلوا بذلك ضلالاً بعيداً، وهدى الله {الذين آمنوا}؛ من هذه الأمة {لما اختلفوا فيه من الحق}؛ فكل ما اختلف فيه أهل الكتاب، وأخطَؤوا فيه الحق والصواب، هدى الله للحق فيه هذه الأمة {بإذنه}؛ تعالى وتيسيره لهم ورحمته.
{والله يهدي من يشاء إلى صراط مستقيم}؛ فعم الخلق تعالى بالدعوة إلى الصراط المستقيم عدلاً منه تعالى وإقامة حجة على الخلق؛ لئلا يقولوا ما جاءنا من بشير ولا نذير، وهدى ـ بفضله ورحمته وإعانته ولطفه ـ مَنْ شاء مِنْ عباده، فهذا فضله وإحسانه، وذاك عدله وحكمته تبارك وتعالى.