تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ كَذٰلِكَ …:} یعنی جس طرح یہ دو باتیں تمھارے پاس پوری ہیں اور تمھارے مخالفوں کے پاس ناقص، ایک یہ کہ تم تمام انبیاء کو مانتے ہو اور یہود و نصاریٰ کسی کو مانتے ہیں کسی کو نہیں، دوسری یہ کہ تمھارا قبلہ کعبہ ہے، جو ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے مقرر ہے اور ابراہیم علیہ السلام سب کے پیشوا ہیں، یہود و نصاریٰ اور ان کے قبلے بعد کی بات ہیں۔ اسی طرح ہم نے تمھیں ہر کام میں افضل امت بنا دیا ہے۔ اس لیے اب تمھارا کام ہے کہ تم دوسروں کی راہنمائی کرو، ان کا کام نہیں کہ تمھاری راہنمائی کریں۔ (موضح)
➌{ لِتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ } …: اس سے تین طرح کی شہادت مراد ہے، پہلی یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم شہادت دیں گے کہ انھوں نے صحابہ تک پیغام حق پہنچا دیا، صحابہ تابعین پر اور اسی طرح امت کا ہر طبقہ آنے والوں پر یہ شہادت دے گا۔ اس امت کے افضل ہونے کا سبب بھی یہی ہے کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں، جیسا کہ سورۂ آل عمران (۱۱۰) میں فرمایا: «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ» ، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خطبہ دیا: ”اے لوگو! تم اللہ کے سامنے ننگے پاؤں، ننگے جسم اور بغیر ختنہ کے اکٹھے کیے جانے والے ہو۔“ پھر فرمایا: ”اور میری امت کے کچھ لوگوں کو بائیں طرف لے جایا جائے گا تو میں کہوں گا، پروردگارا! یہ تو میرے ساتھی ہیں، تو کہا جائے گا، آپ نہیں جانتے انھوں نے آپ کے بعد کیا نیا کام کیا تھا۔ تو میں کہوں گا جیسے صالح بندے (عیسیٰ علیہ السلام) نے کہا تھا: «وَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ» [المائدۃ: ۱۱۷] ”اور میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان میں رہا، پھر جب تونے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔“ [بخاری، التفسیر، باب: «و کنت علیہم شہیدًا …» :۴۶۲۵] یہی بات جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھی: ”کیا میں نے (اللہ تعالیٰ کا) پیغام(آپ لوگوں تک) پہنچا دیا؟“ تو سب نے کہا: ”بے شک آپ نے پہنچا دیا۔“ [بخاری، الحج، باب الخطبۃ أیام منٰی: ۱۷۴۱]
اب ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ یہ پیغام آنے والوں تک پہنچائے، تبھی وہ ان پر شہادت دے سکے گا اور تبھی وہ امتِ وسط کہلانے کا حق دار ہو گا اور جو امتِ مسلمہ کی تمام گمراہی دیکھ کر بھی خاموش رہے گا وہ نہ گواہی دے سکے گا اور نہ امتِ وسط کا مصداق ہو گا۔ دوسری وہ شہادت ہے جو امت مسلمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے خبر دینے کی بنا پر پہلی تمام امتوں پر دے گی کہ ان کے انبیاء نے اللہ کے احکام ان تک پہنچا دیے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”نوح علیہ السلام اور ان کی امت آئے گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا، تم نے پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ عرض کریں گے، ہاں اے میرے رب! پھر ان کی امت کو فرمائے گا، کیا انھوں نے تمھیں پیغام پہنچا دیا تھا؟ تو وہ کہیں گے، نہیں! ہمارے پاس تو کوئی نبی آیا ہی نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نوح(علیہ السلام) سے فرمائے گا، تمھاری شہادت کون دے گا؟ وہ عرض کریں گے، محمد(صلی اللہ علیہ و سلم) اور ان کی امت، پھر ہم شہادت دیں گے کہ یقینًا انھوں نے پیغام پہنچا دیا تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: «وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ» [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ عزوجل: «ولقد أرسلنا …» : ۳۳۳۹، ۴۴۸۷، عن أبی سعید الخدری رضی اللہ عنہ]
تیسری شہادت دنیا ہی میں مسلمانوں کی کسی کے حق میں نیک یا بد ہونے کی شہادت ہے، جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک جنازے کے لیے جنت اور دوسرے کے لیے جہنم واجب ہونے کا اعلان فرمایا اور فرمایا: [أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللّٰهِ فِي الْاَرْضِ] ”تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔“ [بخاری، الجنائز، باب ثناء الناس علی المیت: ۱۳۶۷]
➍ {وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ…:} یہ تحویلِ قبلہ کی ایک حکمت بیان فرمائی ہے۔ قریش کو بطور قبلہ بیت اللہ عزیز تھا اور اہلِ کتاب کو بیت المقدس۔ پہلے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کرکے قریش اور ان کے ساتھیوں کی آزمائش ہوئی، پھر بیت اللہ کو مقرر کرکے اہل کتاب کی۔ اپنے محبوب قبلہ کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی فرماں برداری میں ترک کرنا ہدایت یافتہ لوگوں کے سوا دوسروں کے لیے نہایت مشکل تھا، اس لیے جنھیں یہ ہدایت نصیب نہ تھی وہ ڈگمگا گئے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلے جس قبلے کی طرف آپ رخ کرتے تھے وہ بھی اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا تھا، اگرچہ قرآنِ مجید میں اس حکم کا ذکر نہیں ہے۔ یہ دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر قرآن مجید کے علاوہ بھی احکام نازل ہوتے تھے، جنھیں وحی خفی یا حدیث کہا جاتا ہے اور انھیں ماننا بھی قرآن کی طرح فرض ہے۔
➎ {وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ:} براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تحویل قبلہ سے قبل کئی آدمی پہلے قبلے کے زمانے میں قتل ہو کر فوت ہو چکے تھے، ہمیں معلوم نہ ہو سکا کہ ہم ان کے متعلق کیا کہیں تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا: «وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ» ”اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ تمھارا ایمان ضائع کر دے۔“ یعنی تمھاری پہلی نمازیں اللہ کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ [بخاری، الإیمان، باب الصلاۃ من الإیمان: ۴۰] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نماز کو ایمان قرار دیا۔ معلوم ہوا کہ جو لوگ صرف دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کو ایمان قرار دیتے ہیں ان کی بات درست نہیں، بلکہ اعمال بھی ایمان کا جز ہیں اور نماز اور زکوٰۃ تو ایسا جز ہیں جن کے بغیر بندہ اسلامی برادری «اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَة» کا حصہ ہی نہیں بنتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ» [التوبۃ: ۱۱] ”پس اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو دین میں تمھارے بھائی ہیں۔“ اور جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [إِنَّ بَیْنَ الرَّجُلِ وَ بَیْنَ الشِّرْکِ وَالْکُفْرِ تَرْکَ الصَّلاَۃِ] [مسلم، الإیمان، باب بیان إطلاق اسم …: ۸۲] ”آدمی کے درمیان اور شرک و کفر کے درمیان (فرق) نماز کا چھوڑنا ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[177۔ 1]
[178] براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ بہت سے مسلمان تحویل قبلہ سے پہلے شہید ہو چکے تھے، ہمیں ان کے متعلق شبہ ہوا کہ ان کی ادا کردہ نمازوں کا کیا بنے گا، تب یہ آیت نازل ہوئی ﴿وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ﴾ [بخاري، كتاب التفسير، ترمذي، ابواب التفسير]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور چونکہ تمام امتوں میں یہ امت بھی بہتر افضل اور اعلیٰ تھی اس لیے انہیں شریعت بھی کامل راستہ بھی بالکل درست ملا اور دین بھی بہت واضح دیا گیا جیسے فرمایا «هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ» [22۔ الحج: 78] اس اللہ نے تمہیں چن لیا اور تمہارے دین میں کوئی تنگی نہیں کی تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کے دین پر تم ہو۔ اسی نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے اس سے پہلے بھی اور اس میں بھی تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نوح علیہ السلام کو قیامت کے دن بلایا جائے گا اور ان سے دریافت کیا جائے گا کہ کیا تم نے میرا پیغام میرے بندوں کو پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے کہ ہاں اللہ پہنچا دیا تھا۔ ان کی امت کو بلایا جائے گا اور ان سے پرسش ہو گی کیا نوح علیہ السلام نے میری باتیں تمہیں پہنچائی تھیں وہ صاف انکار کریں گے اور کہیں گے ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا نوح علیہ السلام سے کہا جائے گا تمہاری امت انکار کرتی ہے تم گواہ پیش کرو یہ کہیں گے کہ ہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میری گواہ ہے یہی مطلب اس آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» [2۔ البقرہ: 143] کا ہے «وسط» کے معنی عدل کے ہیں اب تمہیں بلایا جائے گا اور تم گواہی دو گے اور میں تم پر گواہی دوں گا۔ [صحیح بخاری:3339]
مستدرک حاکم کی ایک حدیث میں ہے کہ بنی مسلمہ کے قبیلے کے ایک شخص کے جنازے میں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے لوگ کہنے لگے حضور یہ بڑا نیک آدمی تھا۔ بڑا متقی پارسا اور سچا مسلمان تھا اور بھی بہت سی تعریفیں کیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ کس طرح کہ رہے ہو؟ اس شخص نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدگی کا علم تو اللہ ہی کو ہے لیکن ظاہرداری تو اس کی ایسی ہی حالت تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی پھر بنو حارثہ کے ایک شخص کے جنازے میں تھے لوگ کہنے لگے یہ برا آدمی تھا بڑا بدزبان اور کج خلق تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی برائیاں سن کر پوچھا تم کیسے کہہ رہے ہو اس شخص نے بھی یہی کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے لیے واجب ہو گئی۔ حضرت محمد بن کعب رحمہ اللہ اس حدیث کو سن کر فرمانے لگے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں دیکھو قرآن بھی کہہ رہا ہے «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» [2۔ البقرہ: 143] مستدرک حاکم268/2]
مسند احمد میں ہے۔ ابوالاسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں مدینہ میں آیا یہاں بیماری تھی لوگ بکثرت مر رہے تھے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا جو ایک جنازہ نکلا اور لوگوں نے مرحوم کی نیکیاں بیان کرنی شروع کیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے لیے واجب ہو گئی اتنے میں دوسرا جنازہ نکلا لوگوں نے اس کی برائیاں بیان کیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے لیے واجب ہو گئی میں نے کہا امیر المؤمنین کیا واجب ہو گئی؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے وہی کہا جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس مسلمان کی بھلائی کی شہادت چار شخص دیں اسے جنت میں داخل کرتا ہے ہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر تین دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین بھی ہم نے کہا اگر دو ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو بھی۔ پھر ہم نے ایک کی بابت کا سوال نہ کیا۔ [صحیح بخاری:1368]
ابن مردویہ کی ایک حدیث میں ہے قریب ہے کہ تم اپنے بھلوں اور بروں کو پہچان لیا کرو۔ لوگوں نے کہا حضور کس طرح؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم [سنن ابن ماجه:4221، قال الشيخ الألباني:] نے فرمایا اچھی تعریف اور بری شہادت سے تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔
اور جگہ فرمان ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» [17۔ الاسرآء: 82] یعنی ہمارا اتارا ہوا قرآن مومنوں کے لیے سراسر شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کا نقصان ہی بڑھتا رہتا ہے اس واقعہ میں بھی تمام بزرگ صحابہ رضی اللہ عنہم ثابت قدم رہے اول سبقت کرنے والے مہاجر اور انصار دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھنے والے ہیں۔ چنانچہ اوپر حدیث بیان ہو چکی کہ کس طرح وہ نماز پڑھتے ہوئے یہ خبر سن کر گھوم گئے۔ مسلم شریف میں روایت ہے کہ رکوع کی حالت میں تھے اور اسی میں کعبہ کی طرف پھر گئے۔ [صحیح مسلم:525] جس سے ان کی کمال اطاعت اور اعلیٰ درجہ کی فرمان برداری ثابت ہوئی۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تمھارے ایما کو ضائع نہیں کرے گا۔ یعنی تمھاری بیت المقدس کی طرف پڑھی ہوئی نمازیں رد نہیں ہوں گی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بلکہ ان کی اعلیٰ ایمانداری ثابت ہوئی انہیں دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھنے کا ثواب عطا ہو گا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان کے ساتھ تمھارے گھوم جانے کو ضائع نہ کرے گا پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ رؤف و رحیم ہے۔
صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی قیدی عورت کو دیکھا جس سے اس کا بچہ چھوٹ گیا تھا وہ اپپنے بچے کو پاگلوں کی طرح تلاش کر رہی تھی اور جب وہ نہیں ملا تو قیدیوں میں سے جس کسی بچے کو دیکھتی اسی کو گلے لگا لیتی یہاں تک کہ اس کا اپنا بچہ مل گیا خوشی خوشی لپک کر اسے گود میں اٹھا لیا سینے سے لگایا پیار کیا اور اس کے منہ میں دودھ دیا یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا بتاؤ یہ اپنا بس چلتے ہوئے اس بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ لوگوں نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر گز نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم جس قدر یہ ماں اپنے بچہ پہ مہربان ہے اس سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ اپنے بندؤں پر رؤف و رحیم ہے۔[صحیح بخاری:5999]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {وما جعلنا القبلة التي كنت عليها}؛ وهي: استقبال بيت المقدس أولاً، {إلا لنعلم}؛ أي: علماً يتعلق به الثواب والعقاب، وإلا فهو تعالى عالم بكل الأمور قبل وجودها، ولكن هذا العلم لا يعلق عليه ثواباً ولا عقاباً لتمام عدله وإقامة الحجة على عباده، بل إذا وجدت أعمالهم ترتب عليها الثواب والعقاب، أي شرعنا تلك القبلة لنعلم ونمتحن {من يتبع الرسول}؛ ويؤمن به فيتبعه على كل حال لأنه عبد مأمور مدبر، ولأنه قد أخبرت الكتب المتقدمة أنه يستقبل الكعبة فالمنصف الذي مقصوده الحق مما يزيده ذلك إيماناً وطاعة للرسول، وأما من انقلب على عقبيه وأعرض عن الحق واتبع هواه فإنه يزداد كفراً إلى كفره وحيرة إلى حيرته ويدلي بالحجة الباطلة المبنية على شبهة لا حقيقة لها {وإن كانت}؛ أي: صرفك عنها {لكبيرة}؛ أي: شاقة {إلا على الذين هدى الله}؛ فعرفوا بذلك نعمة الله عليهم وشكروا وأقروا له بالإحسان حيث وجههم إلى هذا البيت العظيم الذي فضله على سائر بقاع الأرض وجعل قصده ركناً من أركان الإسلام وهادماً للذنوب والآثام، فلهذا خفَّ عليهم ذلك وشقَّ على من سواهم.
ثم قال تعالى: {وما كان الله ليضيع إيمانكم}؛ أي: ما ينبغي له ولا يليق به تعالى بل هي من الممتنعات عليه، فأخبر أنه ممتنع عليه ومستحيل أن يضيع إيمانكم، وفي هذا بشارة عظيمة لمن منَّ الله عليهم بالإسلام والإيمان بأن الله سيحفظ عليهم إيمانهم فلا يضيعه، وحفظه نوعان: حفظ عن الضياع والبطلان بعصمته لهم عن كل مفسد ومزيل له ومنقص من المحن المقلقة والأهواء الصادة، وحفظ بتنميته لهم وتوفيقهم لما يزداد به إيمانهم ويتم به إيقانهم، فكما ابتدأكم بأن هداكم للإيمان فسيحفظه لكم ويتم نعمته بتنميته وتنمية أجره وثوابه وحفظه من كل مكدر، بل إذا وجدت المحن التي المقصود منها تبيين المؤمن الصادق من الكاذب فإنها تمحص المؤمنين وتظهر صدقهم، وكأن في هذا احترازاً عما قد يقال أن قوله: {وما جعلنا القبلة التي كنت عليها إلا لنعلم من يتبع الرسول ممن ينقلب على عقبيه}؛ قد يكون سبباً لترك بعض المؤمنين إيمانهم فدفع هذا الوهم بقوله: {وما كان الله ليضيع إيمانكم}؛ بتقديره لهذه المحنة أو غيرها، ودخل في ذلك من مات من المؤمنين قبل تحويل الكعبة فإن الله لا يضيع إيمانهم لكونهم امتثلوا أمر الله وطاعة رسوله في وقتها، وطاعة الله امتثال أمره في كل وقت بحسب ذلك. وفي هذه الآية دليل لمذهب أهل السنة والجماعة أن الإيمان تدخل فيه أعمال الجوارح.
وقوله: {إن الله بالنَّاسِ لرءوفٌ رحيمٌ}؛ أي: شديد الرحمة بهم عظيمها، فمن رأفته ورحمته بهم أن يُتِمَّ عليهم نعمته التي ابتدأهم بها، وأن ميز عنهم من دخل في الإيمان بلسانه دون قلبه، وأن امتحنهم امتحاناً زاد به إيمانهم وارتفعت به درجتهم، وأن وجههم إلى أشرف البيوت وأجلها.