تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اس پر یہود، منافقین اور مشرکین سبھی نے اعتراضات شروع کر دیے کہ اگر وہ پہلا قبلہ درست تھا تو اسے بدلنے کی کیا ضرورت تھی؟ اور اگر یہ درست ہے تو اتنی دیر بیت المقدس قبلہ کیوں رہا؟ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ یہ لوگ بے وقوفی کی وجہ سے ایسی باتیں کہہ رہے ہیں، مشرق یا مغرب کی اپنی کچھ حیثیت نہیں کہ ان کی طرف منہ کرنا باعث ثواب ہو، بلکہ اصل چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کی فرماں برداری ہے، کیونکہ مشرق و مغرب دونوں کا مالک وہی ہے۔ وہ جب چاہے، جدھر چاہے منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم دے سکتا ہے۔ تمھارا کام حکم ماننا ہے، کیونکہ صراط مستقیم وہی ہے جس کا وہ حکم دے، مگر اس پر چلنے کی توفیق وہ جسے چاہے دیتا ہے، جو توفیق سے محروم ہیں وہ بے وقوفی سے بے کار باتیں بناتے رہتے ہیں، اس آیت: «لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ …» [البقرۃ: ۱۷۷] میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
مدینہ میں آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ کو قبلہ بنانے کی آرزو کیوں پیدا ہوئی؟ ہجرت کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو اب صورت حال بالکل مختلف تھی۔ مسلمانوں کی ایک آزاد چھوٹی سی ریاست وجود میں آ چکی تھی اور اب بیت المقدس کو قبلہ بنائے رکھنا ذہنی طور پر یہود کی امامت کو تسلیم کرنے کے مترادف تھا۔ لہٰذا اب آپ یہ چاہتے تھے کہ حقیقی قبلہ اول یعنی خانہ کعبہ ہی مستقل طور پر مسلمانوں کا قبلہ قرار پائے اور اس توقع میں کئی بار آسمان کی طرف رخ پھیرتے کہ شاید کسی وقت جبرئیل ایسا حکم لے کر نازل ہو۔ چنانچہ براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ اسی طرف رخ کر کے نماز پڑھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے یہ تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبلہ کعبہ کی طرف ہو۔ چنانچہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز کعبہ کی طرف رخ کر کے پڑھی اور لوگوں نے بھی پڑھی۔ پھر ان میں سے ایک شخص جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ چکا تھا۔ دوسری مسجد والوں پر گزرا جبکہ وہ نماز ادا کر رہے تھے۔ اس نے کہا ”اللہ گواہ ہے میں نے ابھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ (کعبہ) کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ہے“ تو اسی حالت میں کعبہ کی طرف گھوم گئے (بخاری، کتاب التفسیر زیر آیت مذکورہ) یہی مسجد بعد میں مسجد قبلتین کے نام سے مشہور ہوئی۔
[175] یہود کے اس اعتراض کا جواب اللہ تعالیٰ نے نہایت خوبصورت انداز میں پیش کر دیا۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہیے کہ مشرق بھی اللہ کے لیے ہے اور مغرب بھی۔ اس نے بیت المقدس کو قبلہ بنانے کا حکم دیا تو ہم نے اس کو تسلیم کر لیا اور اب کعبہ کو قبلہ بنایا تو بھی ہم نے تسلیم کر لیا اور اللہ کا حکم تسلیم کر لینا ہی سیدھی راہ ہے اور یہ راہ وہ جسے چاہے دکھا دے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بعض بزرگ تو کہتے ہیں یہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اجتہادی امر تھا اور مدینہ آنے کے بعد کئی ماہ تک اسی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں پڑھتے رہے گو چاہت اور تھی۔ یہاں تک کہ پروردگار نے بیت العتیق کی طرف منہ پھیرنے کو فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرف منہ کر کے پہلے نماز عصر پڑھی اور پھر لوگوں کو اپنے خطبہ میں اس امر سے آگاہ کیا۔
بعض روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ یہ ظہر کی نماز تھی۔ سیدنا ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے اور میرے ساتھی نے اول اول کعبہ کی طرف نماز پڑھی ہے اور ظہر کی نماز تھی“ بعض مفسرین وغیرہ کا بیان ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب قبلہ بدلنے کی آیت نازل ہوئی۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بنی سلمہ میں ظہر کی نماز پڑھ رہے تھے، دو رکعت ادا کر چکے تھے پھر باقی کی دو رکعتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ شریف کی طرف پڑھیں، اسی وجہ سے اس مسجد کا نام ہی مسجد ذو قبلتین یعنی دو قبلوں والی مسجد ہے۔“
اب باطل پرست کمزور عقیدے والے باتیں بنانے لگے کہ اس کی کیا وجہ ہے کبھی اسے قبلہ کہتا ہے کبھی اسے قبلہ قرار دیتا ہے۔ انہیں جواب ملا کہ حکم اور تصرف اور امر اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جدھر منہ کرو۔ اسی طرف اس کا منہ ہے بھلائی اسی میں نہیں آ گئی بلکہ اصلیت تو ایمان کی مضبوطی ہے جو ہر حکم کے ماننے پر مجبور کر دیتی ہے اور اس میں گویا مومنوں کو ادب سکھایا گیا ہے کہ ان کا کام صرف حکم کی بجا آوری ہے جدھر انہیں متوجہ ہونے کا حکم دیا جائے یہ متوجہ ہو جاتے ہیں اطاعت کے معنی اس کے حکم کی تعمیل کے ہیں اگر وہ ایک دن میں سو مرتبہ ہر طرف گھمائے تو ہم بخوشی گھوم جائیں گے ہم اس کے غلام ہیں ہم اس کے ماتحت ہیں اس کے فرمانبردار ہیں اور اس کے خادم ہیں جدھر وہ حکم دے گا پھیر لیں گے۔ امت محمدیہ پر یہ بھی اللہ تعالیٰ کا اکرام ہے کہ انہیں خلیل الرحمن علیہ السلام کے قبلہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوا جو اسی اللہ لا شریک کے نام پر بنایا گیا ہے اور تمام تر فضیلتیں جسے حاصل ہیں۔
مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث ہے کہ یہودیوں کو ہم سے اس بات پر بہت حسد ہے کہ اللہ نے ہمیں جمعہ کے دن کی توفیق دی اور یہ اس سے بھٹک گئے اور اس پر کہ ہمارا قبلہ یہ ہے اور وہ اس سے گمراہ ہو گئے اور بڑا حسد ان کو ہماری آمین کہنے پر بھی ہے جو ہم امام کے پیچھے کہتے ہیں۔ [مسند احمد:130/1-136:حسن لغیرہ]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قد اشتملت الآية الأولى على معجزة وتسلية وتطمين قلوب المؤمنين واعتراض، وجوابه من ثلاثة أوجه وصفة المعترض وصفة المُسلِّم لحكم الله دينه، فأخبر تعالى أنه سيعترض السفهاء من الناس وهم الذين لا يعرفون مصالح أنفسهم بل يضيعونها ويبيعونها بأبخس ثمن وهم اليهود والنصارى ومن أشبههم من المعترضين على أحكام الله وشرائعه، وذلك أن المسلمين كانوا مأمورين باستقبال بيت المقدس مدة مقامهم بمكة ثم بعد الهجرة إلى المدينة نحو سنة ونصف لما لله [تعالى] في ذلك من الحكم التي سيشير إلى بعضها، وكانت حكمته تقتضي أمرهم باستقبال الكعبة فأخبرهم أنه لا بد أن يقول السفهاء من الناس: {ما ولاَّهم عن قبلتهم التي كانوا عليها}؛ وهي استقبال بيت المقدس أيْ: أيُّ شيء صرفهم عنه؟ وفي ذلك الاعتراض على حكم الله وشرعه وفضله وإحسانه، فسَّلاهم وأخبر بوقوعه وأنه إنما يقع ممن اتصف بالسفه قليل العقل والحلم والديانة، فلا تبالوا بهم إذ قد عُلِم مصدر هذا الكلام، فالعاقل لا يبالي باعتراض السفيه ولا يلقي له ذهنه.
ودلت الآية على أنه لا يعترض على أحكام الله إلا سفيه جاهل معاند، وأما الرشيد المؤمن العاقل فيتلقى أحكام ربه بالقبول والانقياد والتسليم كما قال تعالى: {وما كان لمؤمن ولا مؤمنة إذا قضى الله ورسوله أمراً أن يكون لهم الخيرة من أمرهم}؛ {فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم}؛ الآية {إنما كان قول المؤمنين إذا دعوا إلى الله ورسوله ليحكم بينهم أن يقولوا سمعنا وأطعنا}؛ وقد كان في قوله السفهاء ما يغني عن رد قولهم وعدم المبالاة به، ولكنه تعالى مع هذا لم يترك هذه الشبهة حتى أزالها وكشفها مما سيعرض لبعض القلوب من الاعتراض فقال تعالى: {قل}؛ لهم مجيباً: {لله المشرق والمغرب يهدي من يشاء إلى صراط مستقيم}؛ أي: فإذا كان المشرق والمغرب ملكاً لله ليس جهة من الجهات خارجة عن ملكه ومع هذا يهدي من يشاء إلى صراط مستقيم ومنه هدايتكم إلى هذه القبلة التي هي ملة أبيكم إبراهيم فلأي شيء يعترض المعترض بتوليتكم قبلة داخلة تحت ملك الله؟ لم تستقبلوا جهة ليست ملكاً له فهذا يوجب التسليم لأمره بمجرد ذلك، فكيف وهو من فضل الله عليكم وهدايته وإحسانه أن هداكم لذلك، فالمعترض عليكم معترض على فضل الله حسداً لكم وبغياً.
ولما كان قوله: {يهدي من يشاء إلى صراط مستقيم}؛ مطلقاً والمطلق يُحمَل على المقيد فإن الهداية والضلال لهما أسباب أوجبتها حكمة الله وعدله وقد أخبر في غير موضع من كتابه بأسباب الهداية التي إذا أتى بها العبد حصل له الهدى كما قال تعالى: {يهدي به الله من اتبع رضوانه سبل السلام}؛ ذكر في هذه الآية السبب الموجب لهداية هذه الأمة مطلقاً بجميع أنواع الهداية ومنَّة الله عليها فقال: