ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 100

اَوَ کُلَّمَا عٰہَدُوۡا عَہۡدًا نَّبَذَہٗ فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾
اور کیا جب کبھی انھوں نے کوئی عہد کیا تو اسے ان میں سے ایک گروہ نے پھینک دیا، بلکہ ان کے اکثر ایمان نہیں رکھتے۔ En
ان لوگوں نے جب (خدا سے) عہد واثق کیا تو ان میں سے ایک فریق نے اس کو (کسی چیز کی طرح) پھینک دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر بے ایمان ہیں
En
یہ لوگ جب کبھی کوئی عہد کرتے ہیں توان کی ایک نہ ایک جماعت اسے توڑ دیتی ہے، بلکہ ان میں سے اکثر ایمان سے خالی ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 100) یہاں سے یہود کی ایک اور قبیح عادت کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ یہودیوں سے نبی آخر الزماں کی مدد کرنے اور اس پر ایمان لانے کا بھی عہد لیا گیا تھا، مگر وہ اس عہد سے پھر گئے اور کہنے لگے، ہم سے اس قسم کا کوئی عہد نہیں لیا گیا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ عہد شکنی تو ان لوگوں کا پرانا شیوہ ہے۔ جب بھی ان سے کوئی عہد لیا گیا ان میں سے ایک گروہ نے اسے پس پشت ڈال دیا، بلکہ ان میں سے بہت سے لوگ تو تورات پر سرے سے ایمان ہی نہیں رکھتے۔ ایسے لوگ اگر اب عہد شکنی کرتے ہیں تو تعجب کی کیا بات ہے۔ (رازی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

100۔ کیا (ہمیشہ ایسا ہی نہیں ہوا کہ) جب بھی ان یہود نے کوئی عہد کیا تو انہی کے ایک گروہ نے اسے پس پشت ڈال دیا۔ بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) ان میں سے اکثر اس پر ایمان ہی نہیں لاتے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سلیمان علیہ السلام جادوگر نہیں تھے ٭٭
یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے ایسی نشانیاں جو آپ کی نبوت کی صریح دلیل بن سکیں نازل فرما دی ہیں یہودیوں کی مخصوص معلومات کا ذخیرہ ان کی کتاب کی پوشیدہ باتیں ان کی تحریف و تبدیل احکام وغیرہ سب ہم نے اپنی معجزہ نما کتاب قرآن کریم میں بیان فرما دیئے ہیں جنہیں سن کر ہر زندہ ضمیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ یہودیوں کو ان کا حسد و بغض روک دے ورنہ ہر شخص جان سکتا ہے کہ ایک امی شخص سے ایسا پاکیزہ خوبیوں والا حکمتوں والا کلام کہا نہیں جا سکتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابن صوریا قطوبنی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ آپ بطور نبوت کوئی ایسی چیز نہیں لائے جس سے ہم پہچان لیں نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی ایسی خاص روشن دلیلیں ہیں اس پر یہ آیت پاک نازل ہوئی چونکہ یہودیوں نے اس بات سے انکار کر دیا تھا کہ ہم سے پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت کوئی عہد لیا گیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تو ان کی عادت ہی ہے کہ عہد کیا اور توڑا بلکہ ان کے اکثریت تو ایمان سے بالکل خالی ہے نَبَذَ کا معنی پھینک دینا ہے چونکہ ان لوگوں نے کتاب اللہ کو اور عہد باری تعالیٰ کو اس طرح چھوڑ رکھا تھا گویا پھینک دیا تھا اس لیے ان کی مذمت میں یہی لفظ لایا گیا

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ ان کے کثرت معاہدات اور پھر ان معاہدات کے ایفاء پر ان کے عدم صبر پر اظہار تعجب ہے۔ فرمایا: ﴿ كُلَّمَا جب بھی (كُلَّمَا) تکرار کا فائدہ دیتا ہے۔ یعنی جب کبھی وہ عہد کرتے ہیں تو وفا نہیں کرتے۔ اس کا کیا سبب ہے؟
اس کا سبب یہ ہے کہ ان میں سے اکثر ایمان نہیں رکھتے۔ ان کا ایمان نہ لانا ہی وہ سبب ہے جو ان کے نقض عہد کا موجب ہے۔ اگر ان کے ایمان میں کوئی صداقت ہوتی تو ان کی مثال ان لوگوں کی سی ہوتی جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ (الاحزاب: 33؍23) اور اہل ایمان میں سے کتنے ہی ایسے لوگ ہیں کہ جو عہد انھوں نے اللہ سے کیا تھا اسے سچ کر دکھایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا فيه التعجب من كثرة معاهداتهم وعدم صبرهم على الوفاء بها فكلما تفيد التكرار، فكلما وجد العهد ترتب عليه النقض، ما السبب في ذلك؟ السبب أن أكثرهم لا يؤمنون، فعدم إيمانهم هو الذي أوجب لهم نقض العهود، ولو صدق إيمانهم لكانوا مثل من قال الله فيهم: {من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه}.