اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول اس کی تصدیق کرنے والا آیا جو ان کے پاس ہے تو ان لوگوں میں سے ایک گروہ نے، جنھیں کتاب دی گئی تھی، اللہ کی کتاب کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا، جیسے وہ نہیں جانتے۔
En
اور جب ان کے پاس الله کی طرف سے پیغمبر (آخرالزماں) آئے، اور وہ ان کی (آسمانی) کتاب کی بھی تصدیق کرتے ہیں تو جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی، ان میں سے ایک جماعت نے خدا کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا، گویا وہ جانتے ہی نہیں
جب کبھی ان کے پاس اللہ کا کوئی رسول ان کی کتاب کی تصدیق کرنے واﻻ آیا، ان اہل کتاب کے ایک فرقہ نے اللہ کی کتاب کو اس طرح پیٹھ پیچھے ڈال دیا، گویا جانتے ہی نہ تھے
En
(آیت 101) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں وہ تمام اوصاف موجود تھے جو تورات اور دوسری آسمانی کتب { ”لِمَامَعَهُمْ“ } میں نبی آخر الزماں کے مذکور تھے۔ اس اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تورات اور ان کے پاس موجود دوسری آسمانی کتب {”لِمَامَعَهُمْ“} کے پوری طرح مصداق تھے، مگر یہود کی بدنصیبی کہ جب آپ ان کے پاس آئے تو انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا کر تورات کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا، گویا انھیں اپنی کتاب کا بھی پتا نہیں۔ (ابن کثیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
11۔ 1 اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے فرما رہا ہے کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سی آیات بیّنات عطا کی ہیں، جن کو دیکھ کر یہود کو بھی ایمان لے آنا چاہیے تھا۔ علاوہ ازیں خود ان کی کتاب تورات میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کا ذکر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا عہد موجود ہے، لیکن انہوں نے پہلے بھی کسی عہد کی کب پرواہ کی ہے جو اس عہد کی وہ کریں گے؟ عہد شکنی ان کے گروہ کی ہمیشہ عادت رہی ہے۔ حتٰی کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو بھی اس طرح پس پشت ڈال دیا، جیسے وہ اسے جانتے ہی نہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
101۔ اور جب بھی ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی ایسا رسول آیا جو ان کے پاس موجود کتاب کی تصدیق بھی کرتا تھا تو انہی اہل کتاب کے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو یوں اپنے پس پشت [117] ڈال دیا۔ جیسے وہ (اسے) جانتے ہی نہیں
[117] یہود کا آیات کو پس پشت ڈال دینا:۔
یہاں دوبارہ یہود کے اس کردار پر گرفت کی گئی ہے کہ تورات میں مذکور نشانیوں کے مطابق یہود نے نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری طرح پہچان تو لیا۔ مگر ایمان لانے سے انکار کرنے کے بعد انہوں نے اس کتاب کے ان حصوں کو یوں فراموش کر دیا جیسے وہ انہیں کبھی جانتے ہی نہ تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
دوسری جگہ صاف بیان ہے کہ ان کی کتابوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر موجود تھا فرمایا آیت «يَجِدُوْنَهٗمَكْتُوْبًاعِنْدَهُمْفِيالتَّوْرٰىةِوَالْاِنْجِيْلِ»[7۔ الاعراف: 157] یعنی یہ لوگ توراۃ وانجیل میں حضور کا ذکر موجود پاتے ہیں یہاں بھی فرمایا ہے کہ جب ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والا ہمارے پیغمبر ان کے پاس آیا تو ان کے ایک فریق نے اللہ رب العزت کی کتاب سے بےپرواہی برت کر اس طرح اسے چھوڑ دیا جیسے کوئی علم ہی نہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی جب ان کے پاس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس حق کے ساتھ یہ عظیم کتاب لے کر آئے جو ان کے پاس موجود کتاب کے موافق تھی اور وہ یہ دعویٰ بھی کرتے تھے کہ وہ اپنی کتاب پر عمل کرتے ہیں۔ تو انھوں نے اس رسول اور اس کتاب کو ماننے سے انکار کر دیا جس کو یہ رسول لے کر آئے۔ ﴿ نَبَذَفَرِیْقٌمِّنَالَّذِیْنَاُوْتُواالْكِتٰبَ١ۙۗكِتٰبَاللّٰهِ ﴾”اہل کتاب کے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو پھینک دیا“ یعنی وہ کتاب جو ان کی طرف نازل کی گئی تھی اس کو بے رغبتی کے ساتھ دور پھینک دیا ﴿ وَرَآءَظُ٘هُوْرِهِمْ ﴾”اپنی پیٹھوں کے پیچھے“ روگردانی اور اعراض کے لیے یہ بلیغ ترین محاورہ ہے گویا وہ اپنے اس فعل کے ارتکاب میں سخت جہالت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ اس رسول کی صداقت اور جو کچھ وہ لایا ہے اس کی حقیقت کو خوب جانتے ہیں۔ اس سے واضح ہو گیا کہ اہل کتاب کے اس گروہ کے ہاتھ میں کچھ بھی باقی نہیں جبکہ یہ اس رسول پر ایمان نہیں لائے۔ ان کا اس رسول کو نہ ماننا اپنی کتاب کا انکار کرنا ہے مگر وہ اس بات کو سمجھتے نہیں۔
حکمت الٰہی اور عادت قدسی یہ ہے کہ جو کوئی اس چیز کو ترک کرتا ہے جو اسے فائدہ دیتی ہے اور جس سے فائدہ اٹھانا اس کے لیے ممکن ہو لیکن وہ فائدہ نہ اٹھائے تو اسے ایسے کام میں مشغول کر دیا جاتا ہے جو اس کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ موڑتا ہے، اسے بتوں کی عبادت میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی محبت، اس سے خوف اور اس پرامید کو ترک کرتا ہے وہ غیر اللہ کی محبت، اس سے خوف اور اس سے امید میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مال خرچ نہیں کرتا، اسے شیطان کی فرماں برداری میں مال خرچ کرنا پڑتا ہے۔ جو کوئی اپنے رب کے سامنے ذلت اور فروتنی کا اظہار نہیں کرتا اسے بندوں کے سامنے ذلیل ہونا پڑتا ہے اور جو کوئی حق کو چھوڑ دیتا ہے اسے باطل میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ولما جاءهم هذا الرسول الكريم بالكتاب العظيم بالحق الموافق لما معهم وكانوا يزعمون أنهم متمسكون بكتابهم، فلما كفروا بهذا الرسول وبما جاء به {نبذ فريق من الذين أوتوا الكتاب كتاب الله}؛ الذي أنزل إليهم أي طرحوه رغبة عنه {وراء ظهورهم}؛ وهذا أبلغ في الإعراض كأنهم في فعلهم هذا من الجاهلين وهم يعلمون صدقه وحقيقة ما جاء به، تبين بهذا أن هذا الفريق من أهل الكتاب لم يبق في أيديهم شيء حيث لم يؤمنوا بهذا الرسول، فصار كفرهم به كفراً بكتابهم من حيث لا يشعرون.
ولما كان من العوائد القدرية والحكمة الإلهية أن من ترك ما ينفعه وأمكنه الانتفاع به ولم ينتفع؛ ابتلي بالاشتغال بما يضره، فمن ترك عبادة الرحمن؛ ابتليَ بعبادة الأوثان، ومن ترك محبة الله وخوفه ورجاءه؛ ابتليَ بمحبة غير الله وخوفه ورجائه، ومن لم ينفق ماله في طاعة الله أنفقه في طاعة الشيطان، ومن ترك الذلَّ لربه؛ ابتليَ بالذل للعبيد، ومن ترك الحق؛ ابتليَ بالباطل.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔