تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ ان کے کثرت معاہدات اور پھر ان معاہدات کے ایفاء پر ان کے عدم صبر پر اظہار تعجب ہے۔ فرمایا: ﴿ كُلَّمَا﴾”جب بھی“ (كُلَّمَا) تکرار کا فائدہ دیتا ہے۔ یعنی جب کبھی وہ عہد کرتے ہیں تو وفا نہیں کرتے۔ اس کا کیا سبب ہے؟
اس کا سبب یہ ہے کہ ان میں سے اکثر ایمان نہیں رکھتے۔ ان کا ایمان نہ لانا ہی وہ سبب ہے جو ان کے نقض عہد کا موجب ہے۔ اگر ان کے ایمان میں کوئی صداقت ہوتی تو ان کی مثال ان لوگوں کی سی ہوتی جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ مِنَالْمُؤْمِنِیْنَرِجَالٌصَدَقُوْامَاعَاهَدُوااللّٰهَعَلَیْهِ﴾ (الاحزاب: 33؍23) ”اور اہل ایمان میں سے کتنے ہی ایسے لوگ ہیں کہ جو عہد انھوں نے اللہ سے کیا تھا اسے سچ کر دکھایا۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا فيه التعجب من كثرة معاهداتهم وعدم صبرهم على الوفاء بها فكلما تفيد التكرار، فكلما وجد العهد ترتب عليه النقض، ما السبب في ذلك؟ السبب أن أكثرهم لا يؤمنون، فعدم إيمانهم هو الذي أوجب لهم نقض العهود، ولو صدق إيمانهم لكانوا مثل من قال الله فيهم: {من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔