ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 99

وَ لَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ ۚ وَ مَا یَکۡفُرُ بِہَاۤ اِلَّا الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۹۹﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تیری طرف واضح آیات نازل کی ہیں اور ان سے کفر نہیں کرتے مگر جو فاسق ہیں۔ En
اور ہم نے تمہارے پاس سلجھی ہوئی آیتیں ارسال فرمائی ہیں، اور ان سے انکار وہی کرتے ہیں جو بدکار ہیں
En
اور یقیناً ہم نے آپ کی طرف روشن دلیلیں بھیجی ہیں جن کا انکار سوائے بدکاروں کے کوئی نہیں کرتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 99) {اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ:} یعنی کھلی نشانیاں، جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا واضح ثبوت موجود ہے، قرآن کریم کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام معجزات اس کے تحت آ سکتے ہیں۔ (ابن کثیر، رازی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

99۔ ہم نے آ پکی طرف نہایت واضح آیات نازل کی ہیں، جن کا بد کرداروں کے سوا کوئی بھی انکار نہیں کرتا

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سلیمان علیہ السلام جادوگر نہیں تھے ٭٭
یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے ایسی نشانیاں جو آپ کی نبوت کی صریح دلیل بن سکیں نازل فرما دی ہیں یہودیوں کی مخصوص معلومات کا ذخیرہ ان کی کتاب کی پوشیدہ باتیں ان کی تحریف و تبدیل احکام وغیرہ سب ہم نے اپنی معجزہ نما کتاب قرآن کریم میں بیان فرما دیئے ہیں جنہیں سن کر ہر زندہ ضمیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ یہودیوں کو ان کا حسد و بغض روک دے ورنہ ہر شخص جان سکتا ہے کہ ایک امی شخص سے ایسا پاکیزہ خوبیوں والا حکمتوں والا کلام کہا نہیں جا سکتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابن صوریا قطوبنی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ آپ بطور نبوت کوئی ایسی چیز نہیں لائے جس سے ہم پہچان لیں نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی ایسی خاص روشن دلیلیں ہیں اس پر یہ آیت پاک نازل ہوئی چونکہ یہودیوں نے اس بات سے انکار کر دیا تھا کہ ہم سے پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت کوئی عہد لیا گیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تو ان کی عادت ہی ہے کہ عہد کیا اور توڑا بلکہ ان کے اکثریت تو ایمان سے بالکل خالی ہے نَبَذَ کا معنی پھینک دینا ہے چونکہ ان لوگوں نے کتاب اللہ کو اور عہد باری تعالیٰ کو اس طرح چھوڑ رکھا تھا گویا پھینک دیا تھا اس لیے ان کی مذمت میں یہی لفظ لایا گیا

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے: ﴿ وَلَقَدْ اَ٘نْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰؔتٍ اور ہم نے آپ کی طرف روشن آیات نازل کیں ان سے اس کو ہدایت حاصل ہوتی ہے جو ہدایت کا طلب گار ہو۔ اور اس پر حجت قائم ہوتی ہے جو عناد کا مظاہرہ کرے۔ یہ آیات حق پر اپنی دلالت اور وضاحت کے اعتبار سے ایک ایسے بلند مقام اور ایسی حالت پر پہنچی ہوئی ہیں کہ کوئی ان کو قبول کرنے سے انکار نہیں کر سکتا سوائے اس شخص کے جس نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی، اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل گیا اور اس نے انتہائی درجے کے تکبر سے کام لیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول لنبيه - صلى الله عليه وسلم -: {ولقد أنزلنا إليك آيات بينات}؛ تحصل بها الهداية لمن استهدى وإقامة الحجة على من عاند، وهي في الوضوح والدلالة على الحق قد بلغت مبلغاً عظيماً، ووصلت إلى حالة لا يمتنع من قبولها إلا من فسق عن أمر الله وخرج عن طاعة الله، واستكبر غاية التكبر.