ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 101

الَّذِیۡنَ کَانَتۡ اَعۡیُنُہُمۡ فِیۡ غِطَـآءٍ عَنۡ ذِکۡرِیۡ وَ کَانُوۡا لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ سَمۡعًا ﴿۱۰۱﴾٪
وہ لوگ کہ ان کی آنکھیں میرے ذکر سے پردے میں تھیں اور وہ سن ہی نہ سکتے تھے۔ En
جن کی آنکھیں میری یاد سے پردے میں تھیں اور وہ سننے کی طاقت نہیں رکھتے تھے
En
جن کی آنکھیں میری یاد سے پردے میں تھی اور (امر حق) سن بھی نہیں سکتے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 101){ الَّذِيْنَ كَانَتْ اَعْيُنُهُمْ …: غِطَآءٍ } میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، معنی ہے سخت گاڑھا پردہ، یعنی اپنی عقل کی آنکھ نہ تھی کہ قدرتیں دیکھ کر یقین لاتے اور ضد کی وجہ سے کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہ تھے کہ سمجھانے سے سمجھ جاتے۔ مزید دیکھیے سورۂ ملک (۱۰)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

101۔ جن کی آنکھوں پر میرے ذکر سے (غفلت کا) پردہ پڑا ہوا تھا اور وہ [83] کچھ سننے کو تیار ہی نہ تھے۔
[83] یعنی جس مقصد حقیقی کے لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں آنکھیں اور کان عطا کیے تھے۔ اس کے لیے ان لوگوں نے ان اعضاء سے کوئی کام نہ لیا اور وہ مقصد یہ تھا کہ آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا مشاہدہ کریں اور حق بات سننے کے لیے ان کے کان ہر وقت آمادہ ہوں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جہنم کو دیکھ کر ٭٭
کافر جہنم میں جانے سے پہلے جہنم کو اور اس کے عذاب کو دیکھ لیں گے اور یہ یقین کر کے کہ وہ اسی میں داخل ہونے والے ہیں، داخل ہونے سے پہلے ہی جلنے کڑھنے لگیں گے۔ غم و رنج، ڈر خوف کے مارے گھلنے لگیں گے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ جہنم کو قیامت کے دن گھسیٹ کر لایا جائے گا جس کی ستر ہزار لگامیں ہونگی۔ ہر ایک لگام پر ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ [صحیح مسلم:2842]‏‏‏‏ یہ کافر دنیا کی ساری زندگی میں اپنی آنکھوں اور کانوں کو بے کار کئے بیٹھے رہے، «وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ» [43-الزخرف: 36]‏‏‏‏ نہ حق دیکھا نہ حق سنا، نہ مانا نہ عمل کیا۔ شیطان کا ساتھ دیا اور رحمان کے ذکر سے غفلت برتی۔ اللہ کے احکام اور ممانعت کو پس پشت ڈالے رہے۔ یہی سمجھتے رہے کہ ان کے جھوٹے معبود ہی انہیں سارا نفع پہنچائیں گے اور کل سختیاں دور کریں گے۔ محض غلط خیال ہے بلکہ وہ تو ان کی عبادت کے بھی منکر ہو جائیں گے اور ان کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔ ان کافروں کی منزل تو جہنم ہی ہے جو ابھی سے تیار ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ ان کے اعمال کا نتیجہ اور ان کے افعال کی جزا ہے۔یہ لوگ دنیا میں اس حال میں تھے: ﴿ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا تھا میری یاد سے یعنی یہ لوگ ذکر حکیم اور قرآن کریم سے روگردانی کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے: ﴿ قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَ كِنَّةٍ مِّؔمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ (حمٓ السجدۃ:41؍5) جس چیز کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں۔ اور ان کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں جو ان کو اللہ تعالیٰ کی فائدہ مند نشانیوں کو دیکھنے سے روکتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ (البقرۃ:2؍7) اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ۠ سَمْعًا اور وہ نہیں طاقت رکھتے تھے سننے کی یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو، جو ایمان تک پہنچاتی ہیں، قرآن اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے سن نہیں سکتے کیونکہ بغض رکھنے والا شخص جس کے خلاف بغض رکھتا ہے اس کی بات کو غور سے سن نہیں سکتا۔ جب وہ علم اور بھلائی کے راستوں سے محجوب ہو جاتے ہیں تب ان کے پاس سننے کے لیے کان ہوتے ہیں نہ دیکھنے کے لیے آنکھیں اور نہ سمجھنے کے لیے عقل نافع۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کفر کیا، اس کی آیات کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا، اس لیے وہ جہنم کے مستحق ٹھہرے جو بہت برا ٹھکانا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا آثار أعمالهم وجزاء أفعالهم؛ فإنَّهم في الدُّنيا كانت أعينُهم في غطاءٍ عن ذكر الله؛ أي: معرضين عن الذكر الحكيم والقرآن الكريم، {وقالوا قلوبُنا في أكِنَّةٍ مما تَدْعونا إليه}، وفي أعينهم أغطيةٌ تمنعهم من رؤية آيات الله النافعة؛ كما قال تعالى: {وعلى أبصارِهم غِشاوةٌ}. {وكانوا لا يستطيعونَ سمعاً}؛ أي: لا يقدرون على سمع آيات الله، الموصلة إلى الإيمان؛ لبغضهم القرآن والرسول؛ فإنَّ المبغِضَ لا يستطيع أن يلقي سمعه إلى كلام من أبغضه؛ فإذا انحجبتْ عنهم طرقُ العلم والخير؛ فليس لهم سمعٌ ولا بصرٌ ولا عقلٌ نافعٌ؛ فقد كفروا بالله، وجحدوا آياته، وكذَّبوا رسله، فاستحقُّوا جهنَّم، وساءت مصيراً.