تو کیا جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے گمان کر لیا ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو حمایتی بنا لیں گے۔ بے شک ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے بطور مہمانی تیار کر رکھا ہے۔
En
کیا کافر یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے بندوں کو ہمارے سوا (اپنا) کارساز بنائیں گے (تو ہم خفا نہیں ہوں گے) ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے جہنم کی (مہمانی) تیار کر رکھی ہے
کیا کافر یہ خیال کیے بیٹھے ہیں؟ کہ میرے سوا وه میرے بندوں کو اپنا حمایتی بنا لیں گے؟ (سنو) ہم نے تو ان کفار کی مہمانی کے لئے جہنم کو تیار کر رکھا ہے
En
(آیت 102) ➊ {اَفَحَسِبَالَّذِيْنَكَفَرُوْۤا …:} سورت کی ابتدا اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد بتانے والوں کو ڈرانے اور اصحابِ کہف کے اعلانِ توحید کے ذکر سے ہوئی تھی، آخر میں پھر وہی بات دہرائی، یعنی کیا ان کفار نے میرے خاص بندوں، جیسے مسیح، عزیر، روح القدس اور فرشتوں وغیرہ کو اپنا معبود بنا کر یہ سمجھ رکھا ہے کہ انھیں میرے مقابلے میں لا کھڑا کریں گے اور اپنا حمایتی بنا لیں گے۔ استفہام انکاری ہے، یعنی یہ گمان سراسر غلط ہے، بلکہ وہ سب ان کی عبادت سے بے زاری کا اعلان کریں گے اور ان کے مقابل مدعی بن کر کھڑے ہوں گے۔ دیکھیے سورۂ مریم (۸۲) اور احقاف (۵، ۶) اگرچہ {”عِبَادِيْ“} سے نیک و بد سبھی مراد ہو سکتے ہیں، کیونکہ سب اللہ کے بندے ہیں (دیکھیے مریم: ۹۳) مگر پہلا معنی زیادہ صحیح ہے، کیونکہ ”میرے بندے“ کہہ کر اپنا بنا لینے میں جو عزت افزائی ہے وہ خاص بندوں ہی کا حصہ ہے۔ ➋ {اِنَّاۤاَعْتَدْنَاجَهَنَّمَلِلْكٰفِرِيْنَنُزُلًا: ”نُزُلًا“} کا معنی وہ چیزیں ہیں جو مہمان نوازی کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔ جہنم بطور مہمانی کفار کو مذاق ہے۔ {”نُزُلًا“} کا ایک معنی منزل بھی ہے، یعنی ہم نے جہنم کو کافروں کی منزل کے طور پر تیار کررکھا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
12۔ 1 حسب، بمعنی ظن ہے اور عبادی (میرے بندوں) سے مراد ملائکہ، مسیح ؑ اور دیگر صالحین ہیں، جن کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا جاتا ہے، اسی طرح شیاطین و جنات ہیں جن کی عبادت کی جاتی ہے اور استفہام زجر وتوبیخ کے لیے ہے۔ یعنی غیر اللہ کے یہ پجاری کیا یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مجھے چھوڑ کر اور میرے بندوں کی عبادت کر کے ان کی حمایت سے میرے عذاب سے بچ جائیں گے؟ یہ ناممکن ہے، ہم نے تو ان کافروں کے لئے جہنم تیار کر رکھی ہے جس میں جانے سے ان کو وہ بندے نہیں روک سکیں گے جن کی یہ عبادت کرتے اور ان کو اپنا حمایتی سمجھتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
102۔ کیا کافروں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو ہی کارساز بنا لیں؟ [84] ہم نے ایسے کافروں کی مہمانی کے لئے جہنم تیار کر رکھی ہے
[84] یہاں کچھ عبارت محذوف ہے جسے مخاطب کے فہم پر چھوڑ دیا گیا ہے یعنی کافروں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو کارساز بنا لیں تو وہ انھیں اللہ کی گرفت سے بچا سکیں گے بات یوں نہیں بلکہ ہم ایسے کافروں کی جہنم کی آگ سے مہمانی کریں گے جو ان کے وہاں پہنچتے ہی انھیں مل جائے گی۔ دوسری قابل غور بات یہ ہے اس آیت میں عبادی کے لفظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سے ایسے کارساز مراد ہیں جو ذوی العقول ہوں جیسے فرشتے، جن، نیک یا بد ارواح، فوت شدہ انسان، پیغمبر یا پیران طریقت اور اصطلاحی اولیاء اللہ وغیرہم۔ کیونکہ بے جان اشیاء مثلاً بتوں اور حجرو شجر وغیرہ پر لفظ عبد کا اطلاق نہیں ہوتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ مشرکین اور کافروں کے دعوے کے بطلان کی دلیل ہے جنھوں نے بعض انبیائے کرام اور اولیاء اللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا دیا، وہ ان کی عبادت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ اولیائے کرام ان کے مددگار ہوں گے جو ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلائیں گے اور ثواب عطا کریں گے، حالانکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں سے کفر کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ استفہام اور انکار کے پیرائے میں، جس سے ان کے اس عقیدے کا عقلی طور پر بطلان متحقق ہوتا ہے… فرماتا ہے: ﴿ اَفَحَسِبَالَّذِیْنَكَفَرُوْۤااَنْیَّؔتَّؔخِذُوْاعِبَادِیْمِنْدُوْنِیْۤاَوْلِیَآءَ ﴾”کیا سمجھتے ہیں کافر لوگ کہ ٹھہرائیں میرے بندوں کو میرے سوا دوست“ یعنی ایسا نہیں ہو سکتا اور کوئی ولی اللہ، اللہ تعالیٰ کے کسی دشمن کو اپنا دوست نہیں بنا سکتا کیونکہ تمام اولیاء اللہ، اللہ تعالیٰ سے محبت، اس کی رضا، اس کی ناراضی اور اس کے بغض کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی موافقت کرتے ہیں۔ اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد، اس کے اس ارشاد کے مشابہہ ہے۔ ﴿ وَیَوْمَیَحْشُ٘رُهُمْجَمِیْعًاثُمَّیَقُوْلُلِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠اَهٰۤؤُلَآءِاِیَّاكُمْكَانُوْایَعْبُدُوْنَ۰۰قَالُوْاسُبْحٰؔنَكَاَنْتَوَلِیُّنَامِنْدُوْنِهِمْ ﴾ (سبا:34؍40-41) ”جس روز اللہ تمام لوگوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے (ان مشرکین کے متعلق) پوچھے گا کیا یہی وہ لوگ ہیں جو تمھاری عبادت کیا کرتے تھے؟ تو وہ جواب میں عرض کریں گے تو پاک ہے ان کی بجائے تو ہمارا ولی (دوست) ہے۔“
پس جو کوئی اس زعم میں مبتلا ہے کہ اس نے ولی اللہ کو اپنا دوست بنا لیا ہے جبکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے۔ تو وہ سخت جھوٹا ہے … ظاہر میں اس آیت میں اس معنیٰ کا احتمال ہے کہ کیا کفار نے، جو اللہ تعالیٰ کے منکر اور اس کے رسولوں کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں یہ گمان کیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اپنا ولی و مددگار بنا لیں گے جو ان کی مدد کریں گے، ان کو فائدہ پہنچائیں گے اور ان سے تکلیفوں کو دور کریں گے؟ یہ ان کا باطل خیال اور فاسد گمان ہے کیونکہ مخلوق میں سے کسی کے قبضہء قدرت میں نفع ونقصان نہیں۔ یہ معنیٰ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے مشابہت رکھتا ہے۔ ﴿ قُ٘لِادْعُواالَّذِیْنَزَعَمْتُمْمِّنْدُوْنِهٖفَلَایَمْلِكُوْنَكَشْفَالضُّ٘رِّعَنْكُمْوَلَاتَحْوِیْلًا ﴾ (بنی اسرائیل:17؍56) ”کہہ دیجیے کہ تم پکار دیکھو اپنے ان خود ساختہ معبودوں کو جن کو تم اللہ کے سوا کارساز سمجھتے ہو تو (یاد رکھو) وہ تمھاری تکلیف دور کرنے کی قدرت رکھتے ہیں نہ بدلنے کی۔“ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مشابہہ ہے۔ ﴿ وَلَایَمْلِكُالَّذِیْنَیَدْعُوْنَمِنْدُوْنِهِالشَّفَاعَةَ ﴾ (الزخرف:43؍86) ”وہ لوگ جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، سفارش کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔“ اور اس قسم کی دیگر آیات جن میں اللہ تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی کو ولی و مددگار بناتا ہے تاکہ وہ اس کی مدد کرے اور اس سے موالات رکھے وہ گمراہ ہے، وہ خائب و خاسر ہے اس کی امید پوری نہیں ہو گی اور نہ وہ اپنے مقصد کو پا سکے گا۔
﴿ اِنَّـاۤ٘اَعْتَدْنَاجَهَنَّمَلِلْ٘كٰفِرِیْنَنُزُلًا ﴾”بے شک ہم نے تیار کیا ہے جہنم کو کافروں کی مہمانی کے لیے۔“ یعنی ہم نے کفار کی ضیافت اور مہمانی کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے۔ پس کیا بدترین قیام گاہ ان کا مسکن ہے اور کیا بدترین جہنم ان کی مہمانی ہے!
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا برهانٌ وبيانٌ لبطلان دعوى المشركين الكافرين، الذين اتَّخذوا بعض الأنبياء والأولياء شركاء لله يعبُدونهم، ويزعمون أنَّهم يكونون لهم أولياء، ينجُّونهم من عذاب الله، ويُنيلونهم ثوابه، وهم قد كفروا بالله وبرسوله ، يقول الله لهم على وجه الاستفهام والإنكار المتقرِّر بطلانه في العقول: {أفَحَسِبَ الذين كفروا أن يَتَّخِذوا عبادي من دوني أولياءَ}؛ أي: لا يكون ذلك، ولا يوالي وليُّ الله معادياً لله أبداً؛ فإنَّ الأولياء موافقون لله في محبَّته ورضاه وسخطه وبغضه، فيكون على هذا المعنى مشابهاً لقوله تعالى: {ويوم يَحْشُرُهم جميعاً ثم يقولُ للملائكةِ أهؤلاءِ إيَّاكُم كانوا يعبُدونَ * قالوا سبحانك أنت وَلِيُّنا من دونِهِم}؛ فمن زعم أنه يتَّخِذُ وليَّ الله وليًّا له وهو معادٍ لله؛ فهو كاذبٌ. ويُحتمل ـ وهو الظاهر ـ أنَّ المعنى: أفحسِبَ الكفارُ بالله المنابذون لرسلِهِ أن يتَّخذوا من دونِ الله أولياء ينصرونهم وينفعونهم من دونِ الله ويدفعونَ عنهم الأذى؟ هذا حسبانٌ باطلٌ وظنٌّ فاسدٌ؛ فإنَّ جميع المخلوقين ليس بيدهم من النفع والضرِّ شيءٌ، ويكون هذا كقوله تعالى: {قل ادْعوا الذين زَعَمْتُم من دونِهِ فلا يملِكونَ كَشْفَ الضُّرِّ عنكم ولا تحويلاً}، {ولا يملِكُ الذين يدعونَ من دونِهِ الشفاعةَ}. ونحو ذلك من الآيات التي يَذْكُرُ الله فيها أن المتَّخِذ من دونه وليًّا ينصُرُه ويواليه ضالٌّ خائبُ الرجاء غير نائل لبعض مقصودِهِ. {إنَّا أعْتَدْنا جهنَّمَ للكافرين نُزُلاً}؛ أي: ضيافة وقِرىً؛ فبئس النُّزل نُزُلهم، وبئست جهنم ضيافتهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔