ترجمہ و تفسیر — سورۃ النحل (16) — آیت 110

ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا فُتِنُوۡا ثُمَّ جٰہَدُوۡا وَ صَبَرُوۡۤا ۙ اِنَّ رَبَّکَ مِنۡۢ بَعۡدِہَا لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۱۰﴾٪
پھر بے شک تیرا رب ان لوگوں کے لیے جنھوں نے وطن چھوڑا، اس کے بعد کہ فتنے میں ڈالے گئے، پھر انھوں نے جہاد کیا اور صبر کیا، یقینا تیرا رب اس کے بعد ضرور بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ En
پھر جن لوگوں نے ایذائیں اٹھانے کے بعد ترک وطن کیا۔ پھر جہاد کئے اور ثابت قدم رہے تمہارا پروردگار ان کو بےشک ان (آزمائشوں) کے بعد بخشنے والا (اور ان پر) رحمت کرنے والا ہے
En
جن لوگوں نے فتنوں میں ڈالے جانے کے بعد ہجرت کی پھر جہاد کیا اور صبر کا ﺛبوت دیا بیشک تیرا پروردگار ان باتوں کے بعد انہیں بخشنے واﻻ اور مہربانیاں کرنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت110) {ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ هَاجَرُوْا …:} مکہ کے بعض مسلمان کافروں کے مظالم سے تنگ آ کر بظاہر کچھ لچک کھا گئے، یا بعض ناجائز الفاظ منہ سے کہنے پر مجبور ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت نہ کر سکے، مگر اس کے بعد انھوں نے ایمان کے تقاضے ممکن حد تک پورے کیے، یعنی ہجرت کی، جہاد میں حصہ لیا اور اپنے موقف پر خوب ڈٹے رہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ غلطی معاف فرما دی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

110۔ 1 یہ مکہ کے ان مسلمانوں کا تذکرہ ہے جو کمزور تھے اور قبول اسلام کی وجہ سے کفار کے ظلم وستم کا نشانہ بنے رہے۔ بالآخر انھیں ہجرت کا حکم دیا گیا تو اپنے خویش و اقارب، وطن مالوف اور مال جائداد سب کچھ چھوڑ کر حبشہ یا مدینہ چلے گئے، پھر جب کفار کے ساتھ معرکہ آرائی کا مرحلہ آیا تو مردانہ وار لڑے اور جہاد میں بھرپور حصہ لیا اور پھر اس کی راہ کی شدتوں اور الم ناکیوں کو صبر کے ساتھ برداشت کیا۔ ان تمام باتوں کے بعد یقیناً تیرا رب ان کے لئے غفور ورحیم ہے یعنی رب کی مغفرت و رحمت کے حصول کے لئے ایمان اور اعمال صالح کی ضرورت ہے، جیسا کہ مذکورہ مہاجرین نے ایمان وعمل کا عمدہ نمونہ پیش کیا تو رب کی رحمت و مغفرت سے وہ شاد کام ہوئے۔ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَ رَضُو ا عَنْہُ۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

110۔ پھر جن لوگوں نے مصائب اٹھانے کے بعد ہجرت [114] کی پھر جہاد کیا اور صبر کرتے رہے تو آپ کا پروردگار بلا شبہ ان (آزمائشوں) کے بعد انھیں معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے
[114] ہجرت حبشہ:۔
اس آیت میں ان مظلوم مسلمانوں کا ذکر ہے جن پر قریش مکہ نے عرصہ حیات تنگ کر رکھا تھا۔ اور جو با لآخر حبشہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ یہ ہجرت 4 یا 5 نبوی میں ہوئی تھی۔ اور تقریباً اسی (80) صحابہ اپنا گھر بار، رشتہ دار، اموال و جائداد اور اپنا وطن مالوف چھوڑ کر مکہ سے حبشہ کی طرف چلے گئے تھے۔ پھر انھیں لوگوں نے دوبارہ حبشہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوات میں بھی شریک ہوتے رہے اور ہر طرح کے مصائب خوشدلی سے برداشت کرتے رہے۔ ایسے لوگوں کی چھوٹی موٹی لغزشیں اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

صبر و استقامت ٭٭
یہ دوسری قسم کے لوگ ہیں جو بوجہ اپنی کمزوری اور مسکینی کے مشرکین کے ظلم کے شکار تھے اور ہر وقت ستائے جاتے تھے آخر انہوں نے ہجرت کی۔ مال، اولاد، ملک، وطن چھوڑ کر اللہ کی راہ میں چل کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کی جماعت میں مل کر پھر جہاد کے لیے نکل پڑے اور صبر و استقامت سے اللہ کے کلمے کی بلندی میں مشغول ہوگئے، انہیں اللہ تعالیٰ ان کاموں یعنی قبولیت فتنہ کے بعد بھی بخشنے والا اور ان پر مہربانیاں کرنے والا ہے۔ روز قیامت ہر شخص اپنی نجات کی فکر میں لگا ہوگا، کوئی نہ ہو گا جو اپنی ماں یا باپ یا بھائی یا بیوی کی طرف سے کچھ کہہ سن سکے اس دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ نہ ثواب گھٹے نہ گناہ بڑھے۔ اللہ ظلم سے پاک ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی پھر بلاشبہ آپ کا رب جس نے اپنے مخلص بندوں کی، اپنے لطف و احسان کے ذریعے سے تربیت کی اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو اس کی راہ میں ہجرت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کی خاطر اپنا گھر بار اور مال اسباب سب چھوڑ دیتا ہے، دین کی وجہ سے اسے ستایا جاتا ہے تاکہ وہ کفر کی طرف دوبارہ لوٹ آئے مگر وہ ایمان پر ثابت قدم رہتا ہے اور اپنے یقین کو بچا لیتا ہے، پھر وہ اپنے ہاتھ اور زبان سے اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرتا ہے تاکہ ان کو اللہ کے دین میں داخل کرے اور وہ ان عبادات پر صبر کرتا ہے جو اکثر لوگوں پر بہت شاق گزرتی ہیں۔ یہ سب سے بڑے اسباب ہیں جن کے ذریعے سے سب سے بڑے عطیات اور بہترین مواہب حاصل ہوتے ہیں اور وہ عطیات و مواہب یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ہر امر مکروہ کو اس سے دور کر دیتا ہے اور وہ اپنی عظیم رحمت سے اسے ڈھانپ لیتا ہے جس سے بندوں کے احوال صحیح اور ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں۔ پس قیامت کے روز ان کے لیے رحمت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ثم {إنَّ ربَّك}: الذي ربَّى عباده المخلصين بلطفه وإحسانه {لغفور رحيمٌ} لمن هاجر في سبيله، وخلَّى دياره وأمواله طالباً لمرضاةِ الله، وفُتِنَ على دينه ليرجعَ إلى الكفر، فثبت على الإيمان، وتخلَّص ما معه من اليقين، ثم جاهد أعداء الله لِيُدْخِلَهم في دين الله بلسانِهِ ويدِهِ، وصَبَرَ على هذه العبادات الشاقَّة على أكثر الناس؛ فهذه أكبرُ الأسباب التي تُنال بها أعظم العطايا وأفضل المواهب، وهي مغفرة الله للذنوب صغارها وكبارها، المتضمِّن ذلك زوال كلِّ أمرٍ مكروه، ورحمته العظيمة التي بها صلحت أحوالهم واستقامت أمور دينهم ودنياهم؛ فلهم الرحمة من الله في يوم القيامة.