ترجمہ و تفسیر — سورۃ الرعد (13) — آیت 42

وَ قَدۡ مَکَرَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَلِلّٰہِ الۡمَکۡرُ جَمِیۡعًا ؕ یَعۡلَمُ مَا تَکۡسِبُ کُلُّ نَفۡسٍ ؕ وَ سَیَعۡلَمُ الۡکُفّٰرُ لِمَنۡ عُقۡبَی الدَّارِ ﴿۴۲﴾
اور بلاشبہ ان لوگوں نے تدبیریں کیں جو ان سے پہلے تھے، سو اصل تدبیر تو سب اللہ ہی کی ہے، وہ جانتا ہے جو کچھ ہر شخص کر رہا ہے اور عنقریب کفار جان لیں گے کہ اس گھر کا اچھا انجام کس کے لیے ہے۔ En
جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی (بہتری) چالیں چلتے رہے ہیں سو چال تو سب الله ہی کی ہے ہر متنفس جو کچھ کر رہا ہے وہ اسے جانتا ہے۔ اور کافر جلد معلوم کریں گے کہ عاقبت کا گھر (یعنی انجام محمود) کس کے لیے ہے
En
ان سے پہلے لوگوں نے بھی اپنی مکاری میں کمی نہ کی تھی، لیکن تمام تدبیریں اللہ ہی کی ہیں، جو شخص جو کچھ کر رہا ہے اللہ کے علم میں ہے۔ کافروں کو ابھی معلوم ہو جائے گا کہ (اس) جہان کی جزا کس کے لئے ہے؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت42){وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ …:} یعنی ان سے پہلے کفار نے بھی اپنے رسولوں کو ستانے اور اسلام کو نیچا دکھانے کی بہت تدبیریں کیں، یہ کوئی نئی بات آپ ہی کو پیش نہیں آ رہی، پھر کوئی تدبیر اللہ کی مشیت کے بغیر کچھ بھی نہیں کر سکتی، کیونکہ اختیار ہر چیز کا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ سو اگر ان کی کوئی تدبیر کامیاب ہوئی تو وہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہی کا تقاضا تھا، لہٰذا آپ پریشان نہ ہوں۔ ان کافروں کو بھی بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ اس دنیا کے گھر کا اچھا انجام کس کے حق میں ہوتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

42۔ 1 یعنی مشرکین مکہ سے قبل بھی لوگ رسولوں کے مقابلے میں مکر کرتے رہے ہیں، لیکن اللہ کی تدبیر کے مقابلے میں ان کی کوئی تدبیر اور حیلہ کارگر نہیں ہوا، اسی طرح آئندہ بھی ان کا کوئی مکر اللہ کی مشیت کے سامنے نہیں ٹھر سکے گا۔ 42۔ 2 وہ اس کے مطابق جزا اور سزا دے گا، نیک کو اس کی نیکی کی جزا دیتا ہے اور بد کو اس کی بد کی سزا دیتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

42۔ جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں وہ بھی بڑی چالیں [54] چل چکے ہیں مگر چال تو پوری کی پوری اللہ کے پاس ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر متنفس کیا کچھ کر رہا ہے اور جلد ہی کافروں کو معلوم ہو جائے گا کہ آخرت کا گھر کس کے لئے ہے؟
[54] یعنی آپ کی قوم سے پہلی قومیں بھی دین حق کی دعوت کو روکنے اور اس کے آگے بند باندھنے کی سر توڑ کوششیں کرتی رہیں۔ مگر بالآخر وہی کچھ ہوا جو اللہ کو منظور تھا۔ اللہ کی تقدیر کے سامنے ان کی تدبیریں کچھ بھی کام نہ آسکیں اور اب بھی یہی کچھ ہو گا۔ ان منکرین حق کو جلد ہی پتہ چل جائے گا کہ انجام بخیر کس فریق کے حق میں ہوتا ہے، اور جو کچھ یہ لوگ اسلام کو ختم کرنے کے سلسلہ میں تدبیریں کر رہے ہیں وہ سب اللہ کے علم میں ہیں اور ان کا توڑ وہ خوب جانتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

کافروں کے شرمناک کارنامے ٭٭
اگلے کافروں نے بھی اپنے نبیوں کے ساتھ مکر کیا، انہیں نکالنا چاہا، اللہ نے ان کے مکر کا بدلہ لیا۔ انجام کار پرہیزگاروں کا ہی بھلا ہوا۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کافروں کی کارستانی بیان ہو چکی ہے کہ «وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّـهُ وَاللَّـهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ» ۱؎ [8-الانفال:30]‏‏‏‏ ’ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قید کرنے یا قتل کرنے یا دیس سے نکال دینے کا مشورہ کر رہے تھے وہ گھات میں تھے اور اللہ ان کی گھات میں تھا۔ بھلا اللہ سے زیادہ اچھی پوشیدہ تدبیر کس کی ہو سکتی ہے؟ ‘
«وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَاهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُوا إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ» ۱؎ [27-النمل:52-50]‏‏‏‏ ’ ان کے مکر پر ہم نے بھی یہی کیا اور یہ بے خبر رہے۔ دیکھ لے کہ ان کے مکر کا انجام کیا ہوا؟ یہی کہ ہم نے انہیں غارت کر دیا اور ان کی ساری قوم کو برباد کر دیا ان کے ظلم کی شہادت دینے والے ان کی غیر آباد بستیوں کے کھنڈرات ابھی موجود ہیں ‘۔
ہر ایک کے ہر ایک عمل سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے، پوشیدہ عمل دل کے خوف اس پر ظاہر ہیں ہر عامل کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔
«الْكُفَّارُ» کی دوسری قرأت «الْكَافِرِ» بھی ہے۔ ان کافروں کو ابھی معلوم ہو جائے گا کہ انجام کار کس کا اچھا رہتا ہے، ان کا یا مسلمانوں کا؟
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ حق والوں کو ہی غالب رکھا ہے انجام کے اعتبار سے یہی اچھے رہتے ہیں دنیا آخرت انہی کی سنورتی ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَقَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ان سے پہلے لوگوں نے بھی چال چلی۔ یعنی انھوں نے اپنے رسولوں اور اس حق کے خلاف سازشیں کیں جنھیں لے کر رسول آئے تھے مگر ان کی چالیں اور سازشیں کسی کام نہ آئیں اور وہ کچھ بھی نہ کر سکے۔ کیونکہ وہ اللہ کے خلاف جنگ کرتے ہیں۔ ﴿ فَلِلّٰهِ الْمَؔكْرُ جَمِیْعًا پس اللہ کے ہاتھ میں ہے سب تدبیر یعنی کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی چال چلنے پر قادر نہیں اور یہ چال اللہ تعالیٰ کی قضاوقدر کے تحت آتی ہے۔ چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف سازشیں کرتے ہیں لہذا ان کی سازش اور چال ناکامی اور ندامت کا داغ لے کر انھی کی طرف لوٹے گی۔ ﴿ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُ٘لُّ نَ٘فْ٘سٍ وہ جانتا ہے جو کماتا ہے ہر نفس کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر جان کے بارے میں خوب جانتا ہے کہ اس نے کیا کمائی کی، یعنی اللہ تعالیٰ ہر ایک نفس کے عزم و ارادے اور ظاہری اور باطنی اعمال کو خوب جانتا ہے۔ مکر اور سازش بھی لازمی طور پر انسان کے اکتساب میں شمار ہوتے ہیں، پس ان کا مکر اللہ تعالیٰ سے چھپا ہوا نہیں۔ اس لیے یہ ممتنع ہے کہ ان کی چال حق اور اہل حق کو نقصان پہنچا کر ان کو کوئی فائدہ دے۔ فرمایا: ﴿ وَسَیَعْلَمُ الْ٘كُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ اور عنقریب جان لیں گے کافر کہ کس کے لیے ہے گھر عاقبت کا یعنی اچھا انجام کفار کے لیے ہے یا اللہ کے رسولوں کے لیے؟ اور یہ حقیقت معلوم ہے کہ اہل تقویٰ کی عاقبت اچھی ہے۔ کفر اور اہل کفر کی عاقبت اچھی نہیں ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {وقد مكر الذين من قبلهم}: برسلهم وبالحقِّ الذي جاءت به الرسل، فلم يُغْنِ عنهم مكرهم، ولم يصنعوا شيئاً؛ فإنَّهم يحاربون الله ويبارزونه. {فلله المكرُ جميعاً}؛ أي: لا يقدر أحدٌ أن يمكر مكراً إلاَّ بإذنه وتحت قضائه وقدره؛ فإذا كانوا يمكرون بدينه؛ فإنَّ مكرهم سيعود عليهم بالخيبة والندم؛ فإنَّ الله {يعلم ما تكسِبُ كلُّ نفسٍ}؛ أي: همومها وإراداتها وأعمالها الظاهرة والباطنة، والمكر لا بدَّ أن يكون من كسبها؛ فلا يخفى على الله مكرهم، فيمتنع أن يمكروا مكراً يضرُّ الحقَّ وأهله ويفيدهم شيئاً. {وسيعلم الكفَّار لمن عُقبى الدار}؛ أي: أَلَهُمْ أَوْ لِرُسُلِه؟ ومن المعلوم أنَّ العاقبةَ للمتَّقِينَ لِلْكُفْرِ، وَأَعْمَالِه.