تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الرعد (13) — آیت 42

وَ قَدۡ مَکَرَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَلِلّٰہِ الۡمَکۡرُ جَمِیۡعًا ؕ یَعۡلَمُ مَا تَکۡسِبُ کُلُّ نَفۡسٍ ؕ وَ سَیَعۡلَمُ الۡکُفّٰرُ لِمَنۡ عُقۡبَی الدَّارِ ﴿۴۲﴾
اور بلاشبہ ان لوگوں نے تدبیریں کیں جو ان سے پہلے تھے، سو اصل تدبیر تو سب اللہ ہی کی ہے، وہ جانتا ہے جو کچھ ہر شخص کر رہا ہے اور عنقریب کفار جان لیں گے کہ اس گھر کا اچھا انجام کس کے لیے ہے۔ En
جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی (بہتری) چالیں چلتے رہے ہیں سو چال تو سب الله ہی کی ہے ہر متنفس جو کچھ کر رہا ہے وہ اسے جانتا ہے۔ اور کافر جلد معلوم کریں گے کہ عاقبت کا گھر (یعنی انجام محمود) کس کے لیے ہے
En
ان سے پہلے لوگوں نے بھی اپنی مکاری میں کمی نہ کی تھی، لیکن تمام تدبیریں اللہ ہی کی ہیں، جو شخص جو کچھ کر رہا ہے اللہ کے علم میں ہے۔ کافروں کو ابھی معلوم ہو جائے گا کہ (اس) جہان کی جزا کس کے لئے ہے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَقَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ان سے پہلے لوگوں نے بھی چال چلی۔ یعنی انھوں نے اپنے رسولوں اور اس حق کے خلاف سازشیں کیں جنھیں لے کر رسول آئے تھے مگر ان کی چالیں اور سازشیں کسی کام نہ آئیں اور وہ کچھ بھی نہ کر سکے۔ کیونکہ وہ اللہ کے خلاف جنگ کرتے ہیں۔ ﴿ فَلِلّٰهِ الْمَؔكْرُ جَمِیْعًا پس اللہ کے ہاتھ میں ہے سب تدبیر یعنی کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی چال چلنے پر قادر نہیں اور یہ چال اللہ تعالیٰ کی قضاوقدر کے تحت آتی ہے۔ چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف سازشیں کرتے ہیں لہذا ان کی سازش اور چال ناکامی اور ندامت کا داغ لے کر انھی کی طرف لوٹے گی۔ ﴿ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُ٘لُّ نَ٘فْ٘سٍ وہ جانتا ہے جو کماتا ہے ہر نفس کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر جان کے بارے میں خوب جانتا ہے کہ اس نے کیا کمائی کی، یعنی اللہ تعالیٰ ہر ایک نفس کے عزم و ارادے اور ظاہری اور باطنی اعمال کو خوب جانتا ہے۔ مکر اور سازش بھی لازمی طور پر انسان کے اکتساب میں شمار ہوتے ہیں، پس ان کا مکر اللہ تعالیٰ سے چھپا ہوا نہیں۔ اس لیے یہ ممتنع ہے کہ ان کی چال حق اور اہل حق کو نقصان پہنچا کر ان کو کوئی فائدہ دے۔ فرمایا: ﴿ وَسَیَعْلَمُ الْ٘كُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ اور عنقریب جان لیں گے کافر کہ کس کے لیے ہے گھر عاقبت کا یعنی اچھا انجام کفار کے لیے ہے یا اللہ کے رسولوں کے لیے؟ اور یہ حقیقت معلوم ہے کہ اہل تقویٰ کی عاقبت اچھی ہے۔ کفر اور اہل کفر کی عاقبت اچھی نہیں ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {وقد مكر الذين من قبلهم}: برسلهم وبالحقِّ الذي جاءت به الرسل، فلم يُغْنِ عنهم مكرهم، ولم يصنعوا شيئاً؛ فإنَّهم يحاربون الله ويبارزونه. {فلله المكرُ جميعاً}؛ أي: لا يقدر أحدٌ أن يمكر مكراً إلاَّ بإذنه وتحت قضائه وقدره؛ فإذا كانوا يمكرون بدينه؛ فإنَّ مكرهم سيعود عليهم بالخيبة والندم؛ فإنَّ الله {يعلم ما تكسِبُ كلُّ نفسٍ}؛ أي: همومها وإراداتها وأعمالها الظاهرة والباطنة، والمكر لا بدَّ أن يكون من كسبها؛ فلا يخفى على الله مكرهم، فيمتنع أن يمكروا مكراً يضرُّ الحقَّ وأهله ويفيدهم شيئاً. {وسيعلم الكفَّار لمن عُقبى الدار}؛ أي: أَلَهُمْ أَوْ لِرُسُلِه؟ ومن المعلوم أنَّ العاقبةَ للمتَّقِينَ لِلْكُفْرِ، وَأَعْمَالِه.