تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ:} یعنی یہود و نصاریٰ کے علماء جیسے عبد اللہ بن سلام، سلمان فارسی، تمیم داری رضی اللہ عنھم اور ان میں سے دوسرے ایمان لانے والے۔ اہل کتاب کے علماء کی طرف رجوع کا حکم اس لیے دیا کہ مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں عموماً انھی کی طرف رجوع کرتے تھے اور ان کے علماء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور آپ کے متعلق بشارتوں سے آپ کے سچا رسول ہونے کو خوب سمجھتے تھے، جیسے فرمایا: «{ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ }» [البقرۃ: ۱۴۶] ”وہ آپ کو پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔“ مزید دیکھیے سورۂ اعراف (۱۵۷) اور شعراء (۱۹۷)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
علم کتاب جس کے پاس ہے اس سے مراد عبداللہ بن سلام ہیں رضی اللہ عنہ۔ یہ قول مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے لیکن بہت غریب قول ہے اس لیے کہ یہ آیت مکہ شریف میں اتری ہے اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تو ہجرت کے بعد مدینے میں مسلمان ہوئے ہیں۔
اس سے زیادہ ظاہر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”یہود و نصاری کے حق گو عالم مراد ہیں ہاں ان میں عبداللہ بن سلام بھی ہیں، سلمان اور تمیم داری وغیرہ رضی اللہ عنہم بھی۔“ مجاہد رحمہ اللہ سے ایک روایت میں مروی ہے کہ اس سے مراد بھی خود اللہ تعالیٰ ہے۔ سعید رحمہ اللہ اس سے انکاری تھے کہ اس سے مراد عبداللہ بن سلام لیے جائیں کیونکہ یہ آیت مکیہ ہے اور آیت کو «مِنْ عِنْدِ اللَّهِ» پڑھتے تھے۔ یہی قرأت مجاہد اور حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے بھی مروی ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی قرأت ہے لیکن وہ حدیث ثابت نہیں۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:5574:ضعیف]
صحیح بات یہی ہے کہ یہ اسم جنس ہے ہر وہ عالم جو اگلی کتاب کا علم ہے اس میں داخل ہے ان کی کتابوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت موجود تھی۔ ان کے نبیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت پیش گوئی کر دی تھی۔
جیسے فرمان رب ذی شان ہے «وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُم بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ» ۱؎ [7-الأعراف:156-157] یعنی ’ میری رحمت نے تمام چیزوں کو گھیر رکھا ہے میں اسے ان لوگوں کے نام لکھ دوں گا جو متقی ہیں، زکوٰۃ کے ادا کرنے والے ہیں، ہماری آیتوں پر ایمان رکھنے والے ہیں، رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے ہیں، جس کا ذکر اپنی کتاب تورات وانجیل میں موجود پاتے ہیں ‘۔
اور آیت میں ہے کہ «أَوَلَمْ يَكُن لَّهُمْ آيَةً أَن يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ» ۱؎ [26-الشعراء:197] ’ کیا یہ بات بھی ان کے لیے کافی نہیں کہ اس کے حق ہونے کا علم علماء بنی اسرائیل کو بھی ہے ‘۔
یہ بھی مع اپنے ساتھیوں کے کھڑے ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھ کر پوچھا کہ آپ ہی عبداللہ بن سلام ہیں، کہا ہاں فرمایا: { قریب آؤ } جب قریب گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میرا ذکر تورات میں نہیں پاتے؟“، انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے اوصاف میرے سامنے بیان فرمائیے۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو گئے اور حکم دیا کہ کہو آیت «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ اللَّـهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ» ۱؎ [112-الإخلاص:4-1] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری سورت پڑھ سنائی۔ ابن سلام نے اسی وقت کلمہ پڑھ لیا، مسلمان ہو گئے، مدینے واپس چلے آئے لیکن اپنے اسلام کو چھپائے رہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینے پہنچے اس وقت آپ کھجور کے ایک درخت پر چڑھے ہوئے کھجوریں اتار رہے تھے جو آپ کو خبر پہنچی اسی وقت درخت سے کود پڑے۔ ماں کہنے لگیں کہ اگر موسیٰ علیہ السلام بھی آ جاتے تو تم درخت سے نہ کودتے۔ کیا بات ہے؟ جواب دیا کہ اماں جی موسیٰ علیہ السلام کی نبوت سے بھی زیادہ خوشی مجھے ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی یہاں تشریف آوری سے ہوئی ہے }۔ ۱؎ [ابو نعیم فی الدلائل:246:ضعیف و باطل] اس میں انقطاع ہے۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۂ رعد کی تفسیر ختم ہوئی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ويقول الذين كفروا لستَ مرسلاً}؛ أي: يكذِّبونك ويكذِّبون ما أرسلت به. {قل} لهم إن طلبوا على ذلك شهيداً: {كفى بالله شهيداً بيني وبينَكم}: وشهادته بقوله وبفعله وإقراره: أما قوله؛ فبما أوحاه الله إلى أصدق خلقه مما يُثْبِتُ به رسالته. وأما فعله؛ فلأنَّ الله تعالى أيَّد رسوله ونصره نصراً خارجاً عن قدرته وقدرة أصحابه وأتباعه، وهذا شهادةٌ منه له بالفعل والتأييد، وأما إقراره؛ فإنَّه أخبر الرسول عنه أنه رسول ، وأنه أمر الناس باتباعه؛ فمن اتَّبعه؛ فله رضوانُ الله وكرامته، ومن لم يتَّبعه؛ فله النار والسخط، وحلَّ له مالُه ودمه، والله يقرُّه على ذلك؛ فلو تقوَّل عليه بعض الأقاويل؛ لعاجله بالعقوبة.
{ومَنْ عندَه علمُ الكتاب}: وهذا شاملٌ لكلِّ علماء أهل الكتابين؛ فإنَّهم يشهدون للرسول، من آمن واتَّبع الحقَّ، صرَّح بتلك الشهادة التي عليه، ومن كتم ذلك؛ فإخبار الله عنه أنَّ عنده شهادةً أبلغ من خبره، ولو لم يكن عنده شهادةٌ؛ لردَّ استشهاده بالبرهان؛ فسكوته يدلُّ على أن عنده شهادةً مكتومةً، وإنَّما أمر الله باستشهاد أهل الكتاب لأنَّهم أهل هذا الشأن، وكلُّ أمر إنما يُستشهد فيه أهله ومن هم أعلم به من غيرهم؛ بخلاف مَنْ هو أجنبيٌّ عنه؛ كالأميِّين من مشركي العرب وغيرهم؛ فلا فائدة في استشهادهم؛ لعدم خبرتهم ومعرفتهم. والله أعلم.