تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اللّٰهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ:} کیونکہ اس کے فیصلے پر نظر ثانی کرکے اسے وہی بدل سکتا ہے جو اس پر غالب ہو، جب کہ ایسی کسی ہستی کا کہیں وجود ہی نہیں۔
➌ { وَ هُوَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ:} یعنی اس کے حساب لینے کا وقت نہایت تیزی کے ساتھ آ رہا ہے، حتیٰ کہ اس کے آنے پر مجرم قسمیں کھا کر کہیں گے کہ ہم دنیا میں صرف ایک گھڑی رہے ہیں۔ (روم: ۵۵) دوسرا مطلب یہ ہے کہ اسے حساب لینے میں ذرہ برابر دیر نہیں لگتی بلکہ قیامت کے دن پل بھر میں سارا حساب سامنے آ جائے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو تیرے قبضے میں دیتے آ رہے ہیں؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ آباد اور عالی شان محل کھنڈر اور ویرانے بنتے جا رہے ہیں؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ مسلمان کافروں کو دباتے چلے آ رہے کیا وہ نہیں دیکھتے کہ برکتیں اٹھتی جا رہی ہیں خرابیاں آتی جا رہی ہیں؟ لوگ مرتے جا رہے ہیں زمین اجڑتی جا رہی ہے؟ خود زمین ہی اگر تنگ ہوتی جاتی تو تو انسان کو چھپڑ ڈالنا بھی محال ہو جاتا مقصد انسان کا اور درختوں کا کم ہوتے رہنا ہے۔ مراد اس سے زمین کی تنگی نہیں بلکہ لوگوں کی موت ہے علماء فقہاء اور بھلے لوگوں کی موت بھی زمین کی بربادی ہے۔
عرب شاعر کہتا ہے «الْأَرْضُ تَحْيَا إِذَا مَا عَاشَ عَالِمُهَا مَتَى يَمُتْ عَالِمٌ مِنْهَا يَمُتْ طَرَف» «كَالْأَرْضِ تَحْيَا إِذَا مَا الْغَيْثُ حَلَّ بِهَا وَإِنْ أَبَى عَادَ فِي أَكْنَافِهَا التَّلَفُ» یعنی جہاں کہیں جو عالم دین ہے وہاں کی زمین کی زندگی اسی سے ہے۔ اس کی موت اس زمین کی ویرانی اور خرابی ہے۔
جیسے کہ بارش جس زمین پر برسے لہلہانے لگتی ہے اور اگر نہ برسے تو سوکھنے اور بنجر ہونے لگتی ہے۔ پس آیت میں مراد اسلام کا شرک پر غالب آنا ہے، ایک کے بعد ایک بستی کو تابع کرنا ہے۔
جیسے فرمایا آیت «وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُم مِّنَ الْقُرَىٰ» ۱؎ [46-الأحقاف:27] الخ، یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا بھی پسندیدہ ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال متوعِّداً للمكذبين: {أو لم يروا أنا نأتي الأرضَ ننقُصُها من أطرافها}: قيل: بإهلاك المكذبين واستئصال الظالمين، وقيل: بفتح بلدان المشركين ونقصهم في أموالهم وأبدانهم، وقيل غير ذلك من الأقوال. والظاهر ـ والله أعلم ـ أنَّ المراد بذلك أنَّ أراضي هؤلاء المكذِّبين جعل الله يفتحها ويجتاحها ويُحِلُّ القوارع بأطرافها تنبيهاً لهم قبل أن يجتاحهم النقص ويوقع الله بهم من القوارع ما لا يردُّه أحدٌ، ولهذا قال: {والله يحكم لا مُعَقِّبَ لحكمِهِ}: ويدخل في هذا حكمه الشرعيُّ والقدريُّ والجزائيُّ؛ فهذه الأحكام التي يحكم الله فيها توجد في غاية الحكمة والإتقان، لا خلل فيها ولا نقص، بل هي مبنيَّة على القسط والعدل والحمد؛ فلا يتعقَّبها أحدٌ، ولا سبيل إلى القدح فيها؛ بخلاف حكم غيره؛ فإنَّه قد يوافق الصواب وقد لا يوافقه. {وهو سريع الحساب}؛ أي: فلا يستعجلوا بالعذاب؛ فإنَّ كل ما هو آتٍ فهو قريبٌ.