تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
شوکانی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ دو مثالیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کی بیان فرمائی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ باطل بعض اوقات حق کے اوپر غالب آ جائے، مگر آخر کار اللہ تعالیٰ اسے مٹا دیتا ہے اور بے قدر و قیمت بنا دیتا ہے، حسن انجام حق اور اہل حق ہی کا ہوتا ہے۔ جیسا کہ جھاگ اور خس و خاشاک بے شک پانی کو ڈھانپ لیتے ہیں، مگر آخر کار پانی انھیں کناروں پر پھینک کر بے کار کر دیتا ہے اور خالص پانی سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح سونا چاندی اور دوسری دھاتوں کو پگھلایا جائے تو ان کا میل کچیل بھی اوپر آ جاتا ہے مگر آخر کار کچھ اتار کر پھینک دیا جاتا ہے اور کچھ جل جاتا ہے۔ غرض، سارا میل کچیل بے کار جاتا ہے اور لوگوں کے لیے نفع مند دھات خالص حالت میں باقی رہ جاتی ہے، جیسے سونا اور چاندی، جس سے وہ زیور بناتے ہیں، یا لوہا، تانبا اور پیتل وغیرہ جس سے برتن، اسلحہ اور دوسرا سامان بنتا ہے۔ استاذ محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ان دونوں مثالوں میں حق (قرآن) کو پانی سے تشبیہ دی ہے اور نالوں سے مراد انسانوں کے دل ہیں جو اپنے اپنے ظرف و استعداد کے مطابق حق سے فیض حاصل کرتے ہیں، یا حق وہ زیور ہے جس سے نفوسِ انسانی آراستہ ہوتے ہیں اور لوگ معاش و معاد میں اس سے انواع و اقسام کے منافع اور فوائد حاصل کرتے ہیں۔ باطل کی مثال جھاگ کی سی ہے جو حق سے کشمکش کے موقع پر وقتی طور پر ابھر کر اوپر آ جاتا ہے مگر آخر کار مٹ جاتا ہے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَثَلُ مَا بَعَثَنِيَ اللّٰهُ مِنَ الْهُدَی وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ الْغَيْثِ الْكَثِيْرِ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَ مِنْهَا نَقِيَّةٌ، قَبِلَتِ الْمَاءَ، فَأَنْبَتَتِ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيْرَ وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ، فَنَفَعَ اللّٰهُ بِهَا النَّاسَ فَشَرِبُوْا وَسَقَوْا وَزَرَعُوْا، وَأَصَابَ مِنْهَا طَائِفَةً أُخْرَی، إِنَّمَا هِيَ قِيْعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلَأً فَذٰلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ وَنَفَعَهُ مَا بَعَثَنِيَ اللّٰهُ بِهِ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذٰلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَی اللّٰهِ الَّذِيْ أُرْسِلْتُ بِهِ] [بخاری، العلم، باب فضل من علم و علّم: ۷۹] ”اللہ تعالیٰ نے مجھے جو علم اور ہدایت دے کر بھیجا ہے اس کی مثال بہت زیادہ بارش کی ہے جو ایک زمین پر برسی۔ اس زمین کا ایک حصہ بہت عمدہ (زرخیز) تھا، اس نے پانی قبول کیا (جذب کر لیا)، پھر بہت سی گھاس اور چارا اگایا اور اس کے کچھ حصے سخت زمین کے گڑھے تھے جنھوں نے پانی روک لیا تو اللہ نے اس کے ساتھ لوگوں کو نفع پہنچایا، چنانچہ انھوں نے پیا اور پلایا اور کھیتی باڑی کی اور اس کے بعض حصے چٹیل میدان تھے جو نہ پانی روکتے تھے اور نہ گھاس اگاتے تھے، تو یہ اس شخص کی مثال ہے جس نے اللہ کے دین کی سمجھ حاصل کی اور اسے اس (علم و ہدایت) نے نفع دیا جسے دے کر مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا اور اس شخص کی مثال جس نے اس کی طرف نہ سر اٹھایا اور نہ اللہ کی وہ ہدایت قبول کی جو دے کر مجھے بھیجا گیا (ان تینوں میں سے آخری مثال کافر کی ہے)۔“
➋ {كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ:} یعنی بات سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے جیسے یہاں دو مثالیں بیان فرمائیں، ایک صحرائی اور پہاڑی لوگوں کو پیش آنے والی (نالوں کی) اور ایک شہری لوگوں کو پیش آنے والی (دھاتوں کی)۔ اسی طرح سورۂ بقرہ کے شروع میں منافقین کی دو مثالیں اور سورۂ نور (۳۹، ۴۰) میں کافروں کی دو مثالیں بیان فرمائیں۔ غرض قرآن و حدیث میں بہت سی مثالیں دے کر سمجھایا گیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دوسری مثال سونے چاندی لوہے تانبے کی ہے کہ ’ اسے آگ میں تپایا جاتا ہے سونے چاندی زیور کے لیے لوہا تانبا برتن بھانڈے وغیرہ کے لیے ان میں بھی جھاگ ہوتے ہیں تو جیسے ان دونوں چیزوں کے جھاگ مٹ جاتے ہیں، اسی طرح باطل جو کبھی حق پر چھا جاتا ہے، آخر چھٹ جاتا ہے اور حق نتھر آتا ہے ‘۔ جیسے پانی نتھر کر صاف ہو کر رہ جاتا ہے اور جیسے چاندی سونا وغیرہ تپا کر کھوٹ سے الگ کر لیے جاتے ہیں۔ اب سونے چاندی پانی وغیرہ سے تو دنیا نفع اٹھاتی رہتی ہے اور ان پر جو کھوٹ اور جھاگ آ گیا تھا، اس کا نام و نشان بھی نہیں رہتا۔
اللہ تعالیٰ لوگوں کے سمجھانے کے لیے کتنی صاف صاف مثالیں بیان فرما رہا ہے کہ سوچیں سمجھیں۔ جیسے فرمایا ہے کہ «وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ» ۱؎ [29-العنکبوت:43] ’ ہم یہ مثالیں لوگوں کے سامنے بیان فرماتے ہیں لیکن اسے علماء خوب سمجھتے ہیں ‘۔ بعض سلف کی سمجھ میں جو کوئی مثال نہیں آتی تھی تو وہ رونے لگتے تھے کیونکہ انہیں نہ سمجھنا علم سے خالی لوگوں کا وصف ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”پہلی مثال میں بیان ہے ان لوگوں کا جن کے دل یقین کے ساتھ علم الٰہی کے حامل ہوتے ہیں اور بعض دل وہ بھی ہیں، جن میں رشک باقی رہ جاتا ہے پس شک کے ساتھ کا علم بےسود ہوتا ہے۔ یقین پورا فائدہ دیتا ہے۔“
ابد سے مراد شک ہے جو کمتر چیز ہے، یقین کار آمد چیز ہے، جو باقی رہنے والی ہے۔ جیسے زیور جو آگ میں تپایا جاتا ہے تو کھوٹ جل جاتا ہے اور کھری چیز رہ جاتی ہے، اسی طرح اللہ کے ہاں یقین مقبول ہے شک مردود ہے۔
پس جس طرح پانی رہ گیا اور پینے وغیرہ کے کام آیا اور جس طرح سونا چاندی اصلی رہ گیا اور اس کے سازو سامان بنے، اسی طرح نیک اور خالص اعمال عامل کو نفع دیتے ہیں اور باقی رہتے ہیں۔ ہدایت وحق پر جو عامل رہے، وہ نفع پاتا ہے۔ جیسے لوہے کی چھری تلوار بغیر تپائے بن نہیں سکتی۔ اسی طرح باطل، شک اور ریاکاری والے اعمال اللہ کے ہاں کار آمد نہیں ہو سکتے۔ قیامت کے دن باطل ضائع ہو جائے گا۔ اور اہل حق کو حق نفع دے گا۔
سورۃ النور میں کافروں کی دو مثالیں بیان فرمائیں۔ «وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً» ۱؎ [24-النور:39] ایک سراب یعنی ریت کی، دوسری «أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُّجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ سَحَابٌ» ۱؎ [24-النور:40] ’ سمندر کی تہہ کے اندھیروں کی ‘۔ ریت کا میدان موسم گرما میں دور سے بالکل لہریں لیتا ہوا دریا کا پانی معلوم ہوتا ہے۔
چنانچہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { قیامت کے دن یہودیوں سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا مانگتے ہو؟ کہیں گے پیاسے ہو رہے ہیں، پانی چاہیئے تو ان سے کہا جائے گا کہ پھر جاتے کیوں نہیں ہو؟ چنانچہ جہنم انہیں ایسی نظر آئے گی جیسے دنیا میں ریتیلے میدان }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:183]
دوسری آیت میں فرمایا «أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُّجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ سَحَابٌ» ۱؎ [24-النور:40] بخاری و مسلم میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { جس ہدایت وعلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے اس کی مثال اس بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی۔ زمین کے ایک حصہ نے تو پانی کو قبول کیا، گھاس چارہ بکثرت آ گیا۔ بعض زمین جاذب تھی، اس نے پانی کو روک لیا پس اللہ نے اس سے بھی لوگوں کو نفع پہنچایا۔ پانی ان کے پینے کے، پلانے کے، کھیت کے کام آیا اور جو ٹکڑا زمین کا سنگلاخ اور سخت تھا نہ اس میں پانی ٹھہرا نہ وہاں کچھ پیداوار ہوئی۔ پس یہ اس کی مثال ہے جس نے دین میں سمجھ حاصل کی اور میری بعثت سے اللہ نے اسے فائدہ پہنچایا اس نے خود علم سیکھا دوسروں کو سکھایا اور مثال ہے اس کی جس نے اس کے لیے سر بھی نہ اٹھایا اور نہ اللہ کی وہ ہدایت قبول کی جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں۔ پس وہ سنگلاخ زمین کی مثل ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:79]
ایک اور حدیث میں ہے { میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی جب آگ نے اپنے آس پاس کی چیزیں روشن کر دیں تو پتنگے اور پروانے وغیرہ کیڑے اس میں گر گر کر جان دینے لگے وہ انہیں ہر چند روکتا ہے لیکن بس پھر بھی وہ برابر گر رہے ہیں بالکل یہی مثال میری اور تمہاری ہے کہ میں تمہاری کمر پکڑ پکڑ کر تمہیں روکتا ہوں اور کہہ رہا ہوں کہ آگ سے پرے ہٹو لیکن تم میری نہیں سنتے، نہیں مانتے، مجھ سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گرے چلے جاتے ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3426] پس حدیث میں بھی پانی اور آگ کی دونوں مثالیں آ چکی ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
شبَّه تعالى الهدى الذي أنزل على رسوله لحياة القلوب والأرواح بالماء الذي أنزله لحياة الأشباح. وشبَّه ما في الهدى من النفع العام الكثير الذي يضطرُّ إليه العباد بما في المطر من النفع العامِّ الضروريِّ. وشبَّه القلوب الحاملة للهدى وتفاوتها بالأودية التي تسيل فيها السيول؛ فَوَادٍ كبيرٌ يَسَعُ ماءً كثيراً كقلبٍ كبيرٍ يسعُ علماً كثيراً، ووادٍ صغيرٌ يأخذ ماءً قليلاً كقلبٍ صغيرٍ يسعُ علماً قليلاً ... وهكذا. وشبَّه ما يكون في القلوب من الشهوات والشُّبهات عند وصول الحقِّ إليها بالزَّبد الذي يعلو الماءَ ويعلو ما يوقَدُ عليه النار من الحلية التي يُراد تخليصُها وسبكها، وأنها لا تزال فوق الماء طافيةً مكدِّرةً له حتى تذهب وتضمحلَّ، ويبقى ما ينفع الناس من الماء الصافي والحلية الخالصة، كذلك الشبهاتُ والشَّهوات لا يزال القلب يكرهها ويجاهدها بالبراهين الصادقة والإرادات الجازمة حتى تذهب وتضمحلَّ ويبقى القلبُ خالصاً صافياً ليس فيه إلاَّ ما ينفعُ الناس من العلم بالحقِّ وإيثاره والرغبة فيه؛ فالباطل يذهبُ ويَمْحَقُهُ الحقُّ؛ {إنَّ الباطل كان زهوقاً}، وقال هنا: {كذلك يضرِبُ الله الأمثال}: ليتَّضح الحقُّ من الباطل والهدى من الضلال.