تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَ الْبَصِيْرُ …:} یہ مشرک اور موحد کی مثال ہے، کیونکہ موحد دیکھنے والی آنکھ، سوچنے والا دل رکھتا ہے، جبکہ مشرک بصارت اور بصیرت دونوں سے خالی سر ا سر اندھا ہے۔ موحد نور توحید سے روشن ہوتا ہے، جبکہ مشرک ایک نہیں ہزاروں اندھیروں میں ہے۔ نور کو واحد اور ظلمات کو جمع لائے، کیونکہ ہدایت اور سیدھا راستہ ایک اور گمراہی کے راستے بے شمار ہیں۔
➌ {وَ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ:} وہی ہے جو ایک ہے، سب پر غالب ہے، کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا ان مشرکین کے مقرر کردہ شریک اللہ ان کے نزدیک کسی چیز کے خالق ہیں؟ کہ ان پر تمیز مشکل ہوگئی کہ کس چیز کا خالق اللہ ہے؟ اور کس چیز کے خالق ان کے معبود ہیں؟ حالانکہ ایسا نہیں اللہ کے مشابہ اس جیسا اس کے برابر کا اور اس کی مثل کا کوئی نہیں ‘۔
وہ وزیر سے، شریک سے، اولاد سے، بیوی سے، پاک ہے اور ان سب سے اس کی ذات بلند و بالا ہے۔ یہ تو مشرکین کی پوری بیوقوفی ہے کہ اپنے چھوٹے معبودوں کو اللہ کا پیدا کیا ہوا، اس کی مملوک سمجھتے ہوئے پھر بھی ان کی پوجا پاٹ میں لگے ہوئے ہیں۔ لبیک پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”یا اللہ ہم حاضر ہوئے تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ شریک کہ وہ خود تیری ملکیت میں ہے اور جس چیز کا وہ مالک ہے، وہ بھی دراصل تیری ہی ملکیت ہے۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:1185]
ان کے اس اعتقاد کی رگ گردن توڑتے ہوئے ارشاد ربانی ہوا کہ «وَلَا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ عِندَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ» ۱؎ [34-سبأ:23] ’ اس کے پاس کوئی بھی اس کی اجازت بغیر لب نہیں ہلا سکتا۔ آسمانوں کے فرشتے بھی شفاعت اس کی اجازت بغیر کر نہیں سکتے ‘۔
سورۃ مریم میں فرمایا «إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» ۱؎ [19-مريم:93-95] ’ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اللہ کے سامنے غلام بن کر آنے والی ہے، سب اس کی نگاہ میں اور اس کی گنتی میں ہیں اور ہر ایک تنہا تنہا اس کے سامنے قیامت کے دن حاضری دینے والا ہے ‘۔
پس جبکہ سب کے سب بندے اور غلام ہونے کی حیثیت میں یکساں ہیں پھر ایک کا دوسرے کی عبادت کرنا بڑی حماقت اور کھلی بے انصافی نہیں تو اور کیا ہے؟ پھر اس نے رسولوں کا سلسلہ شروع دنیا سے جاری رکھا۔ ہر ایک نے لوگوں کو سبق یہ دیا کہ اللہ ایک ہی عبادت کے لائق ہے۔ اس کے سوا کوئی اور عبادت کے لائق نہیں لیکن انہوں نے نہ اپنے اقرار کا پاس کیا نہ رسولوں کی متفقہ تعلیم کا لحاظ کیا، بلکہ مخالفت کی، رسولوں کو جھٹلایا تو کلمہ عذاب ان پر صادق آ گیا۔ «وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:49] ’ یہ رب کا ظلم نہیں ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: قل لهؤلاء المشركين به أوثاناً وأنداداً؛ يحبُّونها كما يحبُّون الله، ويبذُلون لها أنواع التقرُّبات والعبادات: أفتاهتْ عقولكم حتى اتَّخذتم من دونه أولياء تتولَّوْنهم بالعبادة وليسوا بأهل لذلك؛ فإنَّهم {لا يملِكون لأنفسهم نفعاً ولا ضَرًّا}، وتتركون ولاية من هو كامل الأسماء والصفات، المالك للأحياء والأموات، الذي بيده الخَلْق والتدبير والنفع والضُّرُّ؛ فما تستوي عبادة الله وحده وعبادة المشركين به، كما لا يستوي الأعمى والبصير، وكما لا {تستوي الظلماتُ والنور}: فإنْ كان عندهم شكٌّ واشتباهٌ وجعلوا له شركاء، زعموا أنَّهم خلقوا كخَلْقه، وفعلوا كفعله؛ فأزِلْ عنهم هذا الاشتباه واللَّبس بالبرهان الدالِّ على تَوَحُّدِ الإله بالوحدانيَّة، فقل لهم: اللهُ خالقُ كلِّ شيء؛ فإنه من المحال أن يَخْلُقَ شيءٌ من الأشياء نفسَه، ومن المحال أيضاً أن يوجدَ مِن دون خالقٍ، فتعيَّن أنَّ لها إلهاً خالقاً لا شريك له في خلقه؛ لأنَّه الواحدُ القهَّارُ؛ فإنَّه لا توجد الوحدة والقهر إلاَّ لله وحده؛ فالمخلوقات كلُّ مخلوق فوقه مخلوقٌ يقهره، ثم فوق ذلك القاهر قاهرٌ أعلى منه، حتى ينتهي القهر للواحد القهار؛ فالقهر والتوحيد متلازمان متعيِّنان لله وحده، فتبيَّن بالدليل العقليِّ القاهر أنَّ ما يُدعى من دون الله ليس له شيء من خَلْق المخلوقات، وبذلك كانت عبادته باطلة.