اس نے آسمان سے کچھ پانی اتارا تو کئی نالے اپنی اپنی وسعت کے مطابق بہ نکلے، پھر اس ریلے نے ابھرا ہوا جھاگ اٹھا لیا۔ اور جن چیزوں کو کوئی زیور یا سامان بنانے کی غرض سے آگ پر تپاتے ہیں ان سے بھی اسی طرح کا جھاگ (ابھرتا) ہے۔ اسی طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے، پھر جو جھاگ ہے سو بے کار چلا جاتا ہے اور رہی وہ چیز جو لوگوں کو نفع دیتی ہے، سو زمین میں رہ جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ مثالیں بیان کرتا ہے۔
En
اسی نے آسمان سے مینہ برسایا پھر اس سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہہ نکلے پھر نالے پر پھولا ہوا جھاگ آگیا۔ اور جس چیز کو زیور یا کوئی اور سامان بنانے کے لیے آگ میں تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی جھاگ ہوتا ہے۔ اس طرح خدا حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے۔ سو جھاگ تو سوکھ کر زائل ہو جاتا ہے۔ اور (پانی) جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ زمین میں ٹھہرا رہتا ہے۔ اس طرح خدا (صحیح اور غلط کی) مثالیں بیان فرماتا ہے (تاکہ تم سمجھو)
اسی نے آسمان سے پانی برسایا پھر اپنی اپنی وسعت کے مطابق نالے بہہ نکلے۔ پھر پانی کے ریلے نے اوپر چڑھے جھاگ کو اٹھا لیا، اور اس چیز میں بھی جس کو آگ میں ڈال کر تپاتے ہیں زیور یا ساز وسامان کے لئے اسی طرح کے جھاگ ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ حق وباطل کی مثال بیان فرماتا ہے، اب جھاگ تو ناکاره ہو کر چلا جاتا ہے لیکن جو لوگوں کو نفع دینے والی چیز ہے وه زمین میں ٹھہری رہتی ہے، اللہ تعالیٰ اسی طرح مثالیں بیان فرماتا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہدایت کو جسے قلب و روح کی زندگی کے لیے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا، پانی سے تشبیہ دی ہے جسے اس نے بدن کی زندگی کے لیے نازل فرمایا۔ ہدایت الٰہی میں جو عام اور کثیر نفع ہے اور بندے جس کے محتاج ہیں، اس کو بارش میں موجود اس نفع عام سے تشبیہ دی ہے جو بندوں کے لیے بہت ضروری ہے اور ہدایت کے حامل قلوب اور ان کے تفاوت (باہمی فرق) کو ان وادیوں سے تشبیہ دی ہے جن کے اندر سیلاب بہتے ہیں۔ پس بڑی وادی، جس میں بہت زیادہ پانی سما جاتا ہے اس بڑے دل کی مانند ہے جو بہت زیادہ علم سے لبریز ہے اور چھوٹی وادی جو تھوڑے سے پانی کی متحمل ہوتی ہے اس چھوٹے دل کی مانند ہوتی ہے جس میں بہت تھوڑا علم سماتا ہے۔ وصول حق کے وقت دلوں کے اندر جو شہوات و شبہات ہوتے ہیں ان کو اس جھاگ سے تشبیہ دی ہے جو سیلاب کے پانی کی سطح پر آ جاتا ہے اور یہ جھاگ اس وقت بھی اوپر آجاتا ہے جب زیور کو کھوٹ سے خالص کرنے کے لیے آگ میں تپایا جاتا ہے اور جھاگ برابر پانی کے اوپر رہتا ہے اور پانی کو مکدر کرنے والا میل کچیل پانی کی سطح پر تیرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ مضمحل ہو کر ختم ہو جاتا ہے اور صاف پانی اور خالص زیور باقی رہ جاتا ہے جو لوگوں کے لیے فائدہ مند ہے۔
یہی حال شبہات و شہوات کا ہے قلب ان شبہات و شہوات کو ناپسند کرتا ہے، وہ دلائل و براہین اور پختہ ارادے کے ذریعے سے ان کے خلاف جدوجہد کرتا ہے حتیٰ کہ یہ شبہات و شہوات مضمحل ہو کر ختم ہو جاتے ہیں اور قلب پاک صاف اور خالص ہو جاتا ہے اور حق کے علم، اس کو ترجیح دینے اور اس کی رغبت کے سوا اس میں کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ باطل زائل ہو جاتا ہے اور حق اس کو مٹا دیتا ہے۔ ﴿اِنَّالْبَاطِلَكَانَزَهُوْقًا﴾ (بنی اسرائیل: 17؍81) ”بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے۔“ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ كَذٰلِكَیَضْرِبُاللّٰهُالْاَمْثَالَ﴾”اس طرح بیان کرتا ہے اللہ مثالیں “ تاکہ باطل میں سے حق اور گمراہی میں سے ہدایت واضح ہو جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
شبَّه تعالى الهدى الذي أنزل على رسوله لحياة القلوب والأرواح بالماء الذي أنزله لحياة الأشباح. وشبَّه ما في الهدى من النفع العام الكثير الذي يضطرُّ إليه العباد بما في المطر من النفع العامِّ الضروريِّ. وشبَّه القلوب الحاملة للهدى وتفاوتها بالأودية التي تسيل فيها السيول؛ فَوَادٍ كبيرٌ يَسَعُ ماءً كثيراً كقلبٍ كبيرٍ يسعُ علماً كثيراً، ووادٍ صغيرٌ يأخذ ماءً قليلاً كقلبٍ صغيرٍ يسعُ علماً قليلاً ... وهكذا. وشبَّه ما يكون في القلوب من الشهوات والشُّبهات عند وصول الحقِّ إليها بالزَّبد الذي يعلو الماءَ ويعلو ما يوقَدُ عليه النار من الحلية التي يُراد تخليصُها وسبكها، وأنها لا تزال فوق الماء طافيةً مكدِّرةً له حتى تذهب وتضمحلَّ، ويبقى ما ينفع الناس من الماء الصافي والحلية الخالصة، كذلك الشبهاتُ والشَّهوات لا يزال القلب يكرهها ويجاهدها بالبراهين الصادقة والإرادات الجازمة حتى تذهب وتضمحلَّ ويبقى القلبُ خالصاً صافياً ليس فيه إلاَّ ما ينفعُ الناس من العلم بالحقِّ وإيثاره والرغبة فيه؛ فالباطل يذهبُ ويَمْحَقُهُ الحقُّ؛ {إنَّ الباطل كان زهوقاً}، وقال هنا: {كذلك يضرِبُ الله الأمثال}: ليتَّضح الحقُّ من الباطل والهدى من الضلال.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔