تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ:} یہ اس کے مقابلے میں ہے جو فرمایا تھا کہ اپنے رب کی بات قبول کرنے والوں کے لیے بھلائی (بہترین بدلہ) ہے، یعنی یہ دعوت قبول نہ کرنے والوں کا بہت برا حساب ہو گا، انھیں کسی قسم کی معافی نہیں دی جائے گی اور ان کے ایک ایک گناہ پر بری طرح محاسبہ ہو گا۔ یہی مناقشہ فی الحساب ہے۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ حُوْسِبَ عُذِّبَ، قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ أَوَ لَيْسَ يَقُوْلُ اللّٰهُ تَعَالٰی: «فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا» [الإنشقاق: ۸] قَالَتْ، فَقَالَ إِنَّمَا ذٰلِكَ الْعَرْضُ، وَلَكِنْ مَنْ نُوْقِشَ الْحِسَابَ يَهْلِكْ] [بخاري، العلم، باب من سمع شیئًا فراجع …: ۱۰۳] ”جس کا حساب کیا گیا اسے عذاب دیا جائے گا۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ اس پر میں نے عرض کیا: ”اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا: «{ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا }» یعنی جسے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا گیا اس کا حساب آسان ہو گا (مطلب یہ ہے کہ یہاں حساب کے باوجود عذاب نہیں ہو گا تو اس کا مطلب کیا ہے)؟“ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ صرف پیش کیا جانا ہے اور لیکن جس سے مناقشہ ہوا (یعنی ایک ایک چیز کی پڑتال ہوئی) وہ ہلاک ہو جائے گا۔“
➌ { وَ بِئْسَ الْمِهَادُ:} مہد اور مہاد اصل میں بچے کے لیے تیار کر دہ جگہ کو کہتے ہیں، گود ہو یا بچھونا، اسی طرح ہر اچھی طرح آرام کے لیے بنائی ہوئی جگہ کو مہاد کہتے ہیں۔ آپ سوچیں کہ بچے کو آرام کے لیے آگ پر لٹا دیا جائے تو اس کا کیا حال ہو گا؟ اسی طرح اللہ کی دعوت قبول نہ کرنے والے کی آرام گاہ جہنم ہو گی۔ [نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْھَا]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ محض پیشی ہو گی۔ انھیں ان کے اعمال بتا دئیے جائیں گے اور جس کے حساب کی تحقیق شروع ہو گئی، سمجھ لو کہ وہ مارا گی“ [بخاري، كتاب التفسير، نيز كتاب العلم، باب من سمع شيأا فلم يفهمه]
اور جن لوگوں نے حق کو ٹھکرا دیا۔ ان کا پوری سختی سے حساب لیا جائے گا اور برے حساب سے یہی مراد ہے۔ اس کے چھوٹے اور بڑے سب گناہ کی تحقیق اور باز پرس ہو گی۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک آقا کو اگر اپنے ملازم کے متعلق یہ اعتماد ہو کہ وہ اس کا وفادار اور دیانتدار ہے تو مالک اس کی چھوٹی موٹی لغزشوں اور غلطیوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ لیکن اگر آقا کو ملازم کی وفاداری کا ہی اعتماد نہ ہو تو وہ ہر چھوٹی چھوٹی بات پر اس سے مزید باز پرس کرے گا یہی حال منکرین حق کا ہو گا اور انھیں اپنی نجات کی کوئی صورت نظر نہ آئے گی۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سب سے کم عذاب پانے والے دوزخی سے پوچھیں گے: ”اگر تیرے پاس ساری دنیا کا مال موجود ہو تو کیا تو اسے اپنے فدیہ میں دینا پسند کرے گا؟“وہ جواب دے گا ”ہاں“۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا”: جب تو انسانی شکل میں تھا، اس وقت تو میں نے تم سے اس سے آسان بات کا مطالبہ کیا تھا۔ (یعنی توحید پر قائم رہنا) اور کہا تھا کہ پھر میں تجھے جہنم میں داخل نہ کروں گا مگر تو شرک پر اڑا رہا“ [مسلم، كتاب صفة القيامة، باب طلب الكافر الفدائملء الارض ذهبا۔۔]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ذوالقرنین رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ «قَالَ أَمَّا مَن ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهُ ثُمَّ يُرَدُّ إِلَىٰ رَبِّهِ فَيُعَذِّبُهُ عَذَابًا نُّكْرًا وَأَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاءً الْحُسْنَىٰ وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنَا يُسْرًا» ۱؎ [18-الكهف:87،88] ’ ظلم کرنے والے کو ہم بھی سزا دیں گے اور اللہ کے ہاں بھی سخت عذاب دیا جائے گا اور ایماندار اور نیک اعمال لوگ بہترین بدلہ پائیں گے اور ہم بھی ان سے نرمی کی باتیں کریں گے ‘۔
اور آیت میں فرمان ربی ہے «لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ» ۱؎ [10-یونس:26] ’ نیکوں کے لیے نیک بدلہ ہے اور زیادتی بھی ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ جو لوگ اللہ کی باتیں نہیں مانتے یہ قیامت کے دن ایسے عذابوں کو دیکھیں گے کہ اگر ان کے پاس ساری زمین بھر کر سونا ہو تو وہ اپنے فدیے میں دینے کے لیے تیار ہو جائیں بلکہ اس جتنا اور بھی ‘۔
مگر قیامت کے روز نہ فدیہ ہوگا، نہ بدلہ، نہ عوض، نہ معاوضہ۔ ان سے سخت بازپرس ہو گی ایک ایک چھلکے اور ایک ایک دانے کا حساب لیا جائے گا حساب میں پورے نہ اتریں گے تو عذاب ہو گا۔ جہنم ان کا ٹھکانا ہو گا جو بدترین جگہ ہو گی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما بيَّن تعالى الحقَّ من الباطل؛ ذَكَرَ أنَّ الناس على قسمين: مستجيب لربِّه فذكر ثوابه، وغير مستجيب فذكر عقابه، فقال: {للذين استجابوا لربِّهم}؛ أي: انقادت قلوبُهم للعلم والإيمان، وجوارحُهم للأمر والنهي، وصاروا موافقين لربِّهم فيما يريده منهم؛ فلهم {الحسنى}؛ أي: الحالة الحسنة والثواب الحسن؛ فلهم من الصفات أجلُّها، ومن المناقب أفضلُها، ومن الثواب العاجل والآجل ما لا عينٌ رأت ولا أذنٌ سمعت ولا خطر على قلب بشر. {والذين لم يستجيبوا له}: بعدما ضَرَبَ لهم الأمثال وبيَّن لهم الحقَّ لهم الحالةُ غير الحسنة. فَـ {لو أنَّ لهم ما في الأرض جميعاً}: من ذهب وفضةٍ وغيرهما، {ومثلَه معه لافتَدَوْا به}: من عذاب يوم القيامة؛ ما تُقُبِّلَ منهم. وأنَّى لهم ذلك؟! {أولئك لهم سوء الحساب}: وهو الحساب الذي يأتي على كلِّ ما أسلفوه من عمل سيئ وما ضيعوه من حقوق الله وحقوق عباده، قد كُتِبَ ذلك وسُطِرَ عليهم: {وقالوا يا وَيْلَتَنا مالِ هذا الكتابِ لا يغادِرُ صغيرةً ولا كبيرةً إلا أحصاها ووَجَدوا ما عملوا حاضراً ولا يظلمُ ربُّك أحداً}. {و} بعد هذا الحساب السيئ، {مأواهم جهنَّم}: الجامعة لكلِّ عذابٍ من الجوع الشديد والعطش الوجيع والنار الحامية والزقُّوم والزمهرير والضَّريع، وجميع ما ذكره الله من أصناف العذاب. {وبئس المهادُ}؛ أي: المَقَرُّ والمسكن مسكنهم.