اس آیت کی تفسیر آیت 6 میں تا آیت 8 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
7۔ 1 یعنی انسان خود بھی اپنی ناشکری کی گواہی دیتا ہے۔ بعض لشہید کا فاعل اللہ کو قرار دیتے ہیں۔ لیکن امام شوکانی نے پہلے مفہوم کو راجح قرار دیا ہے، کیونکہ مابعد کی آیات میں ضمیر کا مرجع انسان ہی ہے۔ اس لیے یہاں بھی انسان ہی ہونا زیادہ صحیح ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ اور اس بات کا یقیناً[7] وہ (خود بھی) گواہ ہے
[7] جہنم میں گناہگار مسلمانوں کا داخلہ اور فرقہ مرجیہ کا رد :۔
اس آیت سے فرقہ مرجیہ نے استدلال کیا ہے کہ جہنم میں صرف کافر ہی داخل کیے جائیں گے گناہگار مومن داخل نہیں کیے جائیں گے۔ ان کا یہ نظریہ اس لیے غلط ہے کہ انہوں نے قرآن کی بے شمار دوسری آیات اور اسی طرح احادیث کو نظر انداز کر دیا ہے جن میں بصراحت مذکور ہے کہ مومن گنہگاروں کو بھی دوزخ میں داخل کیا جائے گا اور جب ان کے گناہوں کی سزا پوری ہو چکے گی تو انہیں دوزخ سے نکال لیا جائے گا اور شفاعت کی نہایت ثقہ اور متواتر حدیثوں میں مذکور ہے کہ گنہگار مسلمانوں کا ایک گروہ دوزخ میں چلا جائے گا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش سے دوزخ سے نکالا جائے گا۔ لہٰذا اس آیت کا مطلب صرف یہ ہے کہ دوزخ کے اس خاص مقام میں جو اللہ نے تیار ہی کافروں اور مشرکوں کے لیے کیا ہے۔ اس میں اسی بد بخت کو داخل کیا جائے گا جس نے حق بات کو ٹھکرا دیا اور اس سے اعراض ہی کرتا رہا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاِنَّهٗعَلٰىذٰلِكَلَشَهِیْدٌ﴾”اور وہ اس پر گواہ ہے۔“ یعنی انسان کے نفس کی طرف جو عدم سماحت اور ناشکری معروف ہے، بے شک وہ بذاتِ خود اس پر گواہ ہے، وہ اس کو جھٹلا سکتا ہے نہ اس کا انکار کر سکتا ہے، کیونکہ یہ بالکل ظاہر اور واضح ہے۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو، یعنی بے شک بندہ اپنے رب کا ناشکرا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے وعید اور سخت تہدید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے جو اپنے رب کا ناشکرا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإنَّه على ذلك لَشهيدٌ}؛ أي: إن الإنسانَ على ما يعرفُ من نفسه من المنع والكَنَد لشاهدٌ بذلك لا يجحده ولا ينكره؛ لأنَّ ذلك [أمرٌ] بيِّن واضحٌ، ويحتمل أنَّ الضمير عائدٌ إلى الله [تعالى]؛ أي: إنَّ العبد لربِّه لكنودٌ، والله شهيدٌ على ذلك؛ ففيه الوعيد والتهديد الشديد لمَن هو لربِّه كنودٌ بأنَّ الله عليه شهيدٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔