ترجمہ و تفسیر — سورۃ العاديات (100) — آیت 6

اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوۡدٌ ۚ﴿۶﴾
بے شک انسان اپنے رب کا یقینا بہت ناشکرا ہے ۔ En
کہ انسان اپنے پروردگار کا احسان ناشناس (اور ناشکرا) ہے
En
یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 7،6) {اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ …: كَنَدَ يَكْنُدُ (ن) كُنُوْدًا} (کاف کے ضمہ کے ساتھ) {اَلنِّعْمَةَ} نعمت کا انکار کرنا، ناشکری کرنا۔ { كَنُوْدٌ } (کاف کے فتحہ کے ساتھ) بروزن { فَعُوْلٌ} بمعنی فاعل برائے مبالغہ ہے، بہت ناشکری کرنے والا۔ یہ مذکر و مؤنث دونوں کے لیے آتا ہے۔ اصل میں {كَنُوْدٌ} اس زمین کو کہتے ہیں جو کوئی چیز نہ اگاتی ہو۔ اس سورت میں پہلی پانچ آیات میں قسمیں اٹھانے کے بعد چھٹی آیت میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ انسان یقینا اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ یہ پانچوں قسمیں اس دعوے کی دلیل اور شاہد کے طور پر لائی گئی ہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ گھوڑے اپنے مالک کے ایسے وفادار اور شکر گزار ہیں کہ رات جب وہ انھیں لے کر نکلتے ہیں تو وہ بلاچون و چرا چل پڑتے ہیں، نہ اپنے آرام کی پروا کرتے ہیں اور نہ رات کی تاریکی کی، پھر وہ مالک کے کہنے پر صدق نیت کے ساتھ اس طرح سرپٹ دوڑتے ہیں کہ ان کے جوف سے آواز نکلنے لگتی ہے اور تیزی سے دوڑتے ہوئے ان کے سم جہاں پڑتے ہیں ان کی ٹھوکر اور رگڑ کے ساتھ پتھروں سے چنگاریاں نکلتی جاتی ہیں۔ پھر صبح کے وقت جب ہر چیز آرام کر رہی ہوتی ہے، ان کے مالک انھیں لے کر دشمن کو لوٹنے کے لیے دھاوا بولتے ہیں تو اس وقت بھی وہ غبار اڑاتے ہوئے دوڑتے چلے جاتے ہیں، خواہ غبار کے ساتھ سانس گھٹ رہا ہو، یا آگے دشمن کی تلواریں، تیر اور نیزے ان کے سینے چھید رہے ہوں، یہ کسی بھی چیز کی پروا نہ کرتے ہوئے اسی حالت میں دشمن کی جماعت کے وسط میں جا گھستے ہیں۔ گھوڑے اپنے اس مالک کے لیے اتنی تگ و دو کرتے ہیں جو ان کی تھوڑی بہت خدمت کرتا ہے، جس نے نہ انھیں پیدا کیا ہے اور نہ ان کا حقیقی رازق ہے، تو کیا انسان اللہ تعالیٰ کے کہنے پر جو اس کا خالق بھی ہے، مالک اور رازق بھی اتنی تگ و دو کرنے اور قربانی دینے پر تیار ہے؟ وہ خود مانے گا کہ یقینا نہیں، تو پھر اس کے ناشکرا ہونے میں کیا شک ہے؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

1۔ 6 یہ جواب قسم ہے۔ انسان سے مراد کافر، یعنی بعض افراد ہیں۔ کنود بمعنی کفور، ناشکرا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ کہ انسان اپنے پروردگار کا سخت ناشکرا [6] ہے
[6] یعنی آخرت کے مالک بھی ہم ہیں اور دنیا کے بھی۔ اب جو شخص ہم سے دنیا ہی طلب کرتا ہے اسے ہم دنیا ہی دیتے ہیں وہ بھی اتنی جتنی ہم چاہتے ہیں اور جو ہم سے آخرت کا طلبگار ہوتا ہے اسے آخرت تو ضرور دیتے ہیں اور دنیا بھی اتنی ضرور دے دیتے ہیں جتنی اس کے مقدر ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جو اب قسم اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ بے شک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ یعنی وہ اس بھلائی سے محروم کرنے والا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس کو نوازا ہے۔ انسان کی فطرت اور جبلت یہ ہے کہ اس کا نفس ان حقوق کے بارے میں جو اس کے ذمے عائد ہوتے ہیں، فیاضی نہیں کرتا کہ ان کو کامل طور پر اور پورے پورے ادا کر دے بلکہ اس کے ذمے جو مالی یا بدنی حقوق عائد ہوتے ہیں، ان کے بارے میں اس کی فطرت میں سستی اور حقوق سے منع کرنا ہے، سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے بہرہ مند کیا اور اس نے اس وصف سے باہر نکل کر حقوق کی ادائیگی میں فیاضی کے وصف کو اختیار کر لیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

والمقسَم عليه قوله: {إنَّ الإنسانَ لربِّه لَكَنودٌ}؛ أي: منوعٌ للخير الذي لله عليه ؛ فطبيعة الإنسان وجِبِلَّتُه أنَّ نفسه لا تسمح بما عليه من الحقوق فتؤديها كاملة موفرة، بل طبيعتها الكسل والمنع لما عليها من الحقوق الماليَّة والبدنيَّة؛ إلاَّ مَن هداه الله وخرج عن هذا الوصف إلى وصف السماح بأداء الحقوق.