تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العاديات (100) — آیت 7

وَ اِنَّہٗ عَلٰی ذٰلِکَ لَشَہِیۡدٌ ۚ﴿۷﴾
اور بے شک وہ اس بات پر یقینا (خود) گواہ ہے۔ En
اور وہ اس سے آگاہ بھی ہے
En
اور یقیناً وه خود بھی اس پر گواه ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌ اور وہ اس پر گواہ ہے۔ یعنی انسان کے نفس کی طرف جو عدم سماحت اور ناشکری معروف ہے، بے شک وہ بذاتِ خود اس پر گواہ ہے، وہ اس کو جھٹلا سکتا ہے نہ اس کا انکار کر سکتا ہے، کیونکہ یہ بالکل ظاہر اور واضح ہے۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو، یعنی بے شک بندہ اپنے رب کا ناشکرا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے وعید اور سخت تہدید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے جو اپنے رب کا ناشکرا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإنَّه على ذلك لَشهيدٌ}؛ أي: إن الإنسانَ على ما يعرفُ من نفسه من المنع والكَنَد لشاهدٌ بذلك لا يجحده ولا ينكره؛ لأنَّ ذلك [أمرٌ] بيِّن واضحٌ، ويحتمل أنَّ الضمير عائدٌ إلى الله [تعالى]؛ أي: إنَّ العبد لربِّه لكنودٌ، والله شهيدٌ على ذلك؛ ففيه الوعيد والتهديد الشديد لمَن هو لربِّه كنودٌ بأنَّ الله عليه شهيدٌ.