(آیت 8){ وَاِنَّهٗلِحُبِّالْخَيْرِلَشَدِيْدٌ:} یعنی اس ناشکری کا سبب مال کی شدید محبت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی حرص، طمع اور بخل کی بد عادتیں ہیں جن کی وجہ سے یہ اپنے منعم حقیقی کو بھلا بیٹھا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
8۔ 1 خَیْر،ُ سے مراد مال ہے، اور ایک دوسرا مفہوم یہ ہے کہ نہایت حریص اور بخیل ہے جو مال کی شدید محبت کا لازمی نتیجہ ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ اور وہ مال کی محبت [8] میں بری طرح مبتلا ہے
[8] یعنی جو لوگ اپنی ساری زندگی اللہ سے ڈرتے ہوئے گزارتے ہیں ان کو جہنم کی ہوا تک نہیں لگے گی۔ اس لیے کہ انہیں جہنم سے دور رکھ کر صاف بچا لیا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاِنَّهٗ﴾ اور بلاشبہ انسان ﴿ لِحُبِّالْخَیْرِ﴾ مال کی محبت میں ﴿ لَشَدِیْدٌ﴾”بہت سخت ہے۔“ یعنی مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اور مال کی محبت ہی اس کے لیے حقوق واجبہ کو ترک کرنے کی موجب بنی اور یوں اس نے اپنی شہوت نفس کو اپنے رب کی رضا پر ترجیح دی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اس نے اپنی نظر کو صرف اسی دنیا پر مرکوز رکھا اور آخرت سے غافل رہا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإنه}؛ أي: الإنسان {لحبِّ الخير}؛ أي: المال، {لشديدٌ}؛ أي: كثير الحبِّ للمال، وحبُّه لذلك هو الذي أوجب له ترك الحقوق الواجبة عليه؛ قَدَّمَ شهوة نفسه على رضا ربِّه، وكلُّ هذا لأنَّه قصر نظره على هذه الدار، وغفل عن الآخرة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔