کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس نے اپنے غلام یا لونڈی کو کسی متعین سامان، یا سامان اور نقد رقم کے عوض مکاتب بنایا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ الْحِيرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ حَفْصَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتَبَتْ عَبْدًا لَهَا عَلَى رَقِيقٍ، قَالَ نَافِعٌ: فَأَدْرَكْتُ أَنَا ثَلَاثَةً مِنَ الَّذِينَ أَدَّوْا فِي مُكَاتَبَتِهِمْ..
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی بیوی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اپنے غلام سے غلاموں کے عوض مکاتبت کی۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے خود ان میں سے تین غلاموں کو پایا جو اس کی مکاتبت میں ادا کیے گئے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا بِالْكِتَابَةِ عَلَى الْوُصَفَاءِ..
حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نو عمر غلاموں کے عوض مکاتبت کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
وَقَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: هَذِهِ مُكَاتَبَةُ سِيرِينَ عِنْدَنَا: " هَذَا مَا كَاتَبَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ غُلَامَهُ سِيرِينَ، كَاتَبَهُ عَلَى كَذَا وَكَذَا أَلْفًا، وَعَلَى غُلَامَيْنِ يَعْمَلَانِ مِثْلَ عَمَلِهِ "..
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی بکر بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیرین کی مکاتبت ہمارے پاس ہے، یہ مکاتبت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام سیرین سے کی، اتنے ہزار کی اور دو غلام، وہ اسی طرح کا کام کیا کرتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَسْلَمَةُ بْنُ عُلَيٍّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، أَنَّ الْأَوْزَاعِيَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي رَجُلٍ كَاتَبَ عَبْدًا لَهُ عَلَى ثَلَاثَةِ وُصَفَاءَ: " إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ ". قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کے بارے میں فرمایا جس نے اپنے غلام سے تین نو عمر غلاموں کے عوض مکاتبت کی تھی: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔