السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : من كاتب عبده، أو أمته على عرض موصوف، أو على عرض ونقد. باب: جس نے اپنے غلام یا لونڈی کو کسی متعین سامان، یا سامان اور نقد رقم کے عوض مکاتب بنایا۔
حدیث نمبر: 21631
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَسْلَمَةُ بْنُ عُلَيٍّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، أَنَّ الْأَوْزَاعِيَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي رَجُلٍ كَاتَبَ عَبْدًا لَهُ عَلَى ثَلَاثَةِ وُصَفَاءَ: " إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ ". قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ مِثْلَهُ.حافظ ثناء اللہ
عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک آدمی کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنے غلام سے مکاتبت کی تھی، تین قسم کی خوبیوں کو بیان کرنے پر کوئی حرج نہیں ہے۔