السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : من كاتب عبده، أو أمته على عرض موصوف، أو على عرض ونقد. باب: جس نے اپنے غلام یا لونڈی کو کسی متعین سامان، یا سامان اور نقد رقم کے عوض مکاتب بنایا۔
حدیث نمبر: 21628
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ الْحِيرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ حَفْصَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتَبَتْ عَبْدًا لَهَا عَلَى رَقِيقٍ، قَالَ نَافِعٌ: فَأَدْرَكْتُ أَنَا ثَلَاثَةً مِنَ الَّذِينَ أَدَّوْا فِي مُكَاتَبَتِهِمْ..حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی بیوی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اپنے غلام سے غلاموں کے عوض مکاتبت کی۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے خود ان میں سے تین غلاموں کو پایا جو اس کی مکاتبت میں ادا کیے گئے تھے۔