کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان کی تفسیر کا بیان: ”اگر تم ان میں بھلائی جانو“۔
رَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا} [النور: ٣٣] قَالَ: " إِنْ عَلِمْتُمْ مِنْهُمْ حِرْفَةً، وَلَا تُرْسِلُوهُمْ كِلَابًا عَلَى النَّاسِ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ﴿فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا﴾ [سورة النور: 33] ”ان سے مکاتبت کرلو، اگر تم ان میں بھلائی دیکھو۔“ یعنی اگر تم ان میں کوئی فن یا ہنر دیکھو اور ان کو لوگوں کے سہارے پر نہ چھوڑ دو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَقُولُ: {فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا} [النور: ٣٣]: " إِنْ عَلِمْتَ أَنَّ مُكَاتِبَكَ يَقْضِيكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ﴿فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا﴾ [سورة النور: 33] اگر جان لیں کہ وہ مکاتبت کی رقم ادا کر دے گا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " إِنْ عَلِمْتُمْ لَهُمْ حِيلَةً، وَلَا تُلْقُوا مُؤْنَتَهُمْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر تم ان میں کوئی حیلہ محسوس کرو تو ان کا خرچہ مسلمانوں پر نہ ڈالو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِرْدَاسٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي رَوْقٍ، ثنا أَبِي، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا} [النور: ٣٣] قَالَ: " أَمَانَةً وَوَفَاءً ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک اس قول ﴿فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا﴾ [سورة النور: 33] سے مراد امانت اور وفا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُوسَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُكَاتِبَ الْعَبْدَ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ حِرْفَةٌ، وَيَقُولُ: " تُطْعِمُنِي أَوْسَاخَ النَّاسِ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ ایسے غلام سے مکاتبت کو ناپسند فرماتے تھے جو کوئی پیشہ نہ جانتا ہو، وہ فرماتے: تو مجھے لوگوں کی میل کچیل کھلائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ سَمْعَانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّهُ قَالَ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا} [النور: ٣٣] يَقُولُ: " إِنْ عَلِمْتُمْ لَهُمْ حِرْفَةً أَوْ مَالًا ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما اس قول ﴿فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا﴾ [سورة النور: 33] ”اگر تم ان میں کوئی فن یا مال کے بارے میں جانتے ہو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ مُحَمَّدٌ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْيَافِعِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ كَانَ يَقُولُ: مَا نَرَاهُ إِلَّا الْمَالَ، قَالَ: ثُمَّ تَلَا: {كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ} [البقرة: ١٨٠] قَالَ عَطَاءٌ: الْخَيْرُ فِيمَا نَرَى الْمَالُ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ {إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا} [النور: ٣٣]، {لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ} [العاديات: ٨]: الْمَالُ، {إِنْ تَرَكَ خَيْرًا} [البقرة: ١٨٠]: الْمَالُ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ اس سے مال مراد ہے، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ﴾ [سورة البقرة: 180]، عطاء کہتے ہیں کہ یہاں «خَيْر» سے مراد مال ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما ﴿إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا﴾ [سورة النور: 33] اور ﴿وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ﴾ [سورة العاديات: 8] کے متعلق فرماتے ہیں اس سے مراد مال ہے۔ ﴿إِنْ تَرَكَ خَيْرًا﴾ [سورة البقرة: 180] خیر سے مراد مال ہے۔ [ضعیف]
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنّهُ قَالَ لِعَطَاءٍ: مَا الْخَيْرُ؟ الْمَالُ، أَوِ الصَّلَاحُ، أَمْ كُلُّ ذَلِكَ؟ قَالَ: مَا نَرَاهُ إِلَّا الْمَالَ، قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مَالٌ وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ؟ قَالَ: مَا أَحْسِبُ خَيْرًا إِلَّا ذَلِكَ: الْمَالَ وَالصَّلَاحَ. قَالَ: وَقَالَ مُجَاهِدٌ: {إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا} [النور: ٣٣]، " الْمَالَ، كَائِنَةً أَخْلَاقُهُمْ وَأَدْيَانُهُمْ مَا كَانَتْ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: الْخَيْرُ كَلِمَةٌ يُعْرَفُ مَا أُرِيدَ بِهَا بِالْمُخَاطَبَةِ بِهَا، قَالَ اللهُ تَعَالَى: {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ} [البينة: ٧] فَعَقَلْنَا أَنَّهُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ بِالْإِيمَانِ وَعَمَلِ الصَّالِحَاتِ، لَا بِالْمَالِ، وَقَالَ اللهُ تَعَالَى: {وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ ⦗٥٣٧⦘ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ} [الحج: ٣٦] فَعَقَلْنَا أَنَّ الْخَيْرَ الْمَنْفَعَةُ بِالْأَجْرِ، لَا أَنَّ فِيَ الْبُدْنِ لَهُمْ مَالًا، وَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ: {إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا} [البقرة: ١٨٠] فَعَقَلْنَا أَنَّهُ إِنْ تَرَكَ مَالًا، لِأَنَّ الْمَالَ الْمَتْرُوكُ، وَبِقَوْلِهِ: {الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ} [البقرة: ١٨٠] فَلَمَّا قَالَ اللهُ تَعَالَى: {فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا} [النور: ٣٣] كَانَ أَظْهَرَ مَعَانِيهَا بِدَلَالَةِ مَا اسْتَدْلَلْنَا بِهِ مِنَ الْكِتَابِ: قُوَّةٌ عَلَى اكْتِسَابِ الْمَالِ وَأَمَانَةٌ؛ لِأَنَّهُ قَدْ يَكُونُ قَوِيًّا فَيَكْتَسِبُ، فَلَا يُؤَدِّي إِذَا لَمْ يَكُنْ ذَا أَمَانَةٍ، وَأَمِينًا فَلَا يَكُونُ قَوِيًّا عَلَى الْكَسْبِ، فَلَا يُؤَدِّي. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَيْسَ الظَّاهِرُ مِنَ الْقَوْلِ إِنْ عَلِمْتَ فِي عَبْدِكَ مَالًا بِمَعْنَيَيْنِ: أَحَدُهُمَا: أَنَّ الْمَالَ لَا يَكُونُ فِيهِ، إِنَّمَا يَكُونُ عِنْدَهُ، وَلَكِنْ يَكُونُ فِيهِ الِاكْتِسَابُ الَّذِي يُفِيدُ الْمَالَ، وَالثَّانِي: أَنَّ الْمَالَ الَّذِي فِي يَدِهِ لِسَيِّدِهِ، قَالَ: وَلَعَلَّ مَنْ ذَهَبَ إِلَى أَنَّ الْخَيْرَ الْمَالُ، أَنَّهُ أَفَادَ بِكَسْبِهِ مَالًا لِلسَّيِّدِ، فَيَسْتَدِلُّ عَلَى أَنَّهُ يُفِيدُ مَالًا يَعْتِقُ بِهِ كَمَا أَفَادَ أَوَّلًا ".
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا کہ خیر سے مراد مال ہے یا اصلاح یا یہ سب؟ وہ فرماتے ہیں: ہمارے خیال میں اس سے مراد صرف مال ہے۔ میں نے کہا: اگر اس کے پاس مال نہ ہو اور آدمی بھی سچا ہو؟ وہ کہنے لگے کہ میں «خَيْرًا» ”خیر“ سے یہی مراد سمجھتا ہوں: مال اور اصلاح۔
مجاہد رحمہ اللہ ﴿إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا﴾ [سورة النور: 33] کے بارے میں فرماتے ہیں: (اس سے مراد) مال ہے، ان کے اخلاق اور دین جیسے بھی ہوں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خیر ایسا کلمہ ہے جس کی مراد خطاب کے سیاق سے پہچانی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ﴾ [سورة البينة: 7]، تو ہم نے سمجھا کہ وہ ایمان اور نیک عمل کی وجہ سے بہترین مخلوق ہیں، مال کی وجہ سے نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ﴾ [سورة الحج: 36] تو ہم نے سمجھا کہ یہاں خیر سے مراد اجر و ثواب کا فائدہ ہے، یہ نہیں کہ قربانی کے اونٹوں میں ان کے لیے مال ہے۔ اور اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا﴾ [سورة البقرة: 180] تو ہم نے سمجھا کہ مراد یہ ہے کہ اگر وہ مال چھوڑ جائے، کیونکہ چھوڑی جانے والی چیز مال ہی ہے، اور (یہی بات) اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة البقرة: 180] سے (معلوم ہوتی ہے)۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا﴾ [سورة النور: 33] تو کتاب اللہ سے ہمارے استدلال کی روشنی میں اس کا سب سے ظاہر معنی یہ ہے: مال کمانے کی قوت اور امانت داری، کیونکہ کبھی غلام طاقتور ہوتا ہے اور کماتا ہے، لیکن امانت دار نہ ہونے کی وجہ سے ادا نہیں کرتا، اور کبھی امانت دار ہوتا ہے لیکن کمانے کی طاقت نہیں رکھتا، اس لیے ادا نہیں کر پاتا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اگر تم اپنے غلام میں مال جانو“ والا معنی دو وجہوں سے ظاہر نہیں ہے: ایک یہ کہ مال اس کے اندر نہیں ہوتا بلکہ اس کے پاس ہوتا ہے، البتہ اس کے اندر کمانے کی وہ صلاحیت ہوتی ہے جو مال حاصل کرتی ہے، دوسری یہ کہ جو مال اس کے ہاتھ میں ہے وہ اس کے مالک کا ہے۔ فرمایا: شاید جس نے خیر سے مراد مال لیا ہے، اس کا مطلب یہ ہو کہ اس غلام نے اپنی کمائی سے مالک کے لیے مال حاصل کیا، تو اس سے یہ دلیل لی جاتی ہے کہ وہ ایسا مال بھی حاصل کر لے گا جس سے وہ آزاد ہو جائے، جیسے اس نے پہلے حاصل کیا۔
مجاہد رحمہ اللہ ﴿إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا﴾ [سورة النور: 33] کے بارے میں فرماتے ہیں: (اس سے مراد) مال ہے، ان کے اخلاق اور دین جیسے بھی ہوں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خیر ایسا کلمہ ہے جس کی مراد خطاب کے سیاق سے پہچانی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ﴾ [سورة البينة: 7]، تو ہم نے سمجھا کہ وہ ایمان اور نیک عمل کی وجہ سے بہترین مخلوق ہیں، مال کی وجہ سے نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ﴾ [سورة الحج: 36] تو ہم نے سمجھا کہ یہاں خیر سے مراد اجر و ثواب کا فائدہ ہے، یہ نہیں کہ قربانی کے اونٹوں میں ان کے لیے مال ہے۔ اور اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا﴾ [سورة البقرة: 180] تو ہم نے سمجھا کہ مراد یہ ہے کہ اگر وہ مال چھوڑ جائے، کیونکہ چھوڑی جانے والی چیز مال ہی ہے، اور (یہی بات) اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة البقرة: 180] سے (معلوم ہوتی ہے)۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا﴾ [سورة النور: 33] تو کتاب اللہ سے ہمارے استدلال کی روشنی میں اس کا سب سے ظاہر معنی یہ ہے: مال کمانے کی قوت اور امانت داری، کیونکہ کبھی غلام طاقتور ہوتا ہے اور کماتا ہے، لیکن امانت دار نہ ہونے کی وجہ سے ادا نہیں کرتا، اور کبھی امانت دار ہوتا ہے لیکن کمانے کی طاقت نہیں رکھتا، اس لیے ادا نہیں کر پاتا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اگر تم اپنے غلام میں مال جانو“ والا معنی دو وجہوں سے ظاہر نہیں ہے: ایک یہ کہ مال اس کے اندر نہیں ہوتا بلکہ اس کے پاس ہوتا ہے، البتہ اس کے اندر کمانے کی وہ صلاحیت ہوتی ہے جو مال حاصل کرتی ہے، دوسری یہ کہ جو مال اس کے ہاتھ میں ہے وہ اس کے مالک کا ہے۔ فرمایا: شاید جس نے خیر سے مراد مال لیا ہے، اس کا مطلب یہ ہو کہ اس غلام نے اپنی کمائی سے مالک کے لیے مال حاصل کیا، تو اس سے یہ دلیل لی جاتی ہے کہ وہ ایسا مال بھی حاصل کر لے گا جس سے وہ آزاد ہو جائے، جیسے اس نے پہلے حاصل کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَطَاوُسٍ، فِي قَوْلِهِ: {إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا} [النور: ٣٣] قَالَ: " مَالًا وَأَمَانَةً ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن ابی نجیح، مجاہد اور طاؤس رحمہما اللہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا﴾ [سورة النور: 33] کے بارے میں فرماتے ہیں: اس میں «خَيْر» سے مراد ”مال اور امانت“ ہے۔
(ب) حضرت یونس، حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سچائی، پورا پورا ادا کرنا اور امانت ہے۔
(ج) مغیرہ، ابراہیم رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سچائی اور پورا کرنا ہے۔
(ب) حضرت یونس، حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سچائی، پورا پورا ادا کرنا اور امانت ہے۔
(ج) مغیرہ، ابراہیم رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سچائی اور پورا کرنا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، فِي قَوْلِهِ: {إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا} [النور: ٣٣] قَالَ: يَقُولُ: " أَدَاءً وَأَمَانَةً ".
حافظ ثناء اللہ
ابوصالح رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا﴾ [سورة النور: 33] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ادا کرنا اور امانت ہے۔ [ضعیف]
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدٌ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أنبأ أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ يَقُولُ: بَلَغَنِي أَنَّ مَكْحُولًا كَانَ يَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا} [النور: ٣٣] قَالَ: الْكَسْبُ.
حافظ ثناء اللہ
مکحول رحمہ اللہ اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں: ﴿إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا﴾ [سورة النور: 33] اس سے مراد مال کا کمانا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الزَّاهِدُ، وَأَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ قَالَا: ثنا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ الْكَجِّيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللهِ عَوْنُهُمُ: الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَالنَّاكِحُ يُرِيدُ الْعَفَافَ، وَالْمُكَاتَبُ يُرِيدُ الْأَدَاءَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین بندوں کی مدد کرنا اللہ کے ذمے ہے: ۱۔ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا۔ ۲۔ پاک دامنی کے لیے نکاح کرنے والا۔ ۳۔ ادا کے ارادے سے مکاتبت کرنے والا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا ⦗٥٣٨⦘ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْوَازِعِ، حَدَّثَنِي جَدِّي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْوَازِعِ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ مَنْ فَعَلَهُنَّ ثِقَةً بِاللهِ، وَاحْتِسَابًا كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُعِينَهُ، وَأَنْ يُبَارِكَ لَهُ: مَنْ سَعَى فِي فِكَاكِ رَقَبَتِهِ ثِقَةً بِاللهِ وَاحْتِسَابًا كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُعِينَهُ، وَأَنْ يُبَارِكَ لَهُ، وَمَنْ تَزَوَّجَ ثِقَةً بِاللهِ وَاحْتِسَابًا كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُعِينَهُ، وَأَنْ يُبَارِكَ لَهُ، وَمَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً ثِقَةً بِاللهِ وَاحْتِسَابًا كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُعِينَهُ، وَأَنْ يُبَارِكَ لَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”تین بندے جنہوں نے اللہ پر اعتماد اور ثواب کی نیت سے کوئی کام کیا ان کی مدد کرنا اللہ کے ذمے ہے اور اللہ ان کے کاموں میں برکت بھی دے گا۔
1 غلام کو آزاد کروانے کی کوشش کرنے والا۔ اللہ پر بھروسہ اور ثواب کی نیت سے اس کی مدد کرنا اللہ کے ذمے ہے اور اس کے کام میں برکت دی جائے گی۔
2 جس نے اللہ پر توکل اور ثواب کی نیت سے شادی کی تو اس کی مدد کرنا اللہ کے ذمے ہے اور اس کے کام میں برکت دی جائے گی۔
3 جس نے بنجر زمین کو آباد کیا اللہ پر توکل اور ثواب کی نیت سے اس کی مدد کرنا بھی اللہ کے ذمے ہے اور اس کے کام میں برکت دی جائے گی۔“
1 غلام کو آزاد کروانے کی کوشش کرنے والا۔ اللہ پر بھروسہ اور ثواب کی نیت سے اس کی مدد کرنا اللہ کے ذمے ہے اور اس کے کام میں برکت دی جائے گی۔
2 جس نے اللہ پر توکل اور ثواب کی نیت سے شادی کی تو اس کی مدد کرنا اللہ کے ذمے ہے اور اس کے کام میں برکت دی جائے گی۔
3 جس نے بنجر زمین کو آباد کیا اللہ پر توکل اور ثواب کی نیت سے اس کی مدد کرنا بھی اللہ کے ذمے ہے اور اس کے کام میں برکت دی جائے گی۔“