السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : ما جاء في تفسير قوله عز وجل: إن علمتم فيهم خيرا باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان کی تفسیر کا بیان: ”اگر تم ان میں بھلائی جانو“۔
حدیث نمبر: 21609
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَطَاوُسٍ، فِي قَوْلِهِ: {إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا} [النور: ٣٣] قَالَ: " مَالًا وَأَمَانَةً ".حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن ابی نجیح، مجاہد اور طاؤس رحمہما اللہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا﴾ [سورة النور: 33] کے بارے میں فرماتے ہیں: اس میں «خَيْر» سے مراد ”مال اور امانت“ ہے۔
(ب) حضرت یونس، حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سچائی، پورا پورا ادا کرنا اور امانت ہے۔
(ج) مغیرہ، ابراہیم رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سچائی اور پورا کرنا ہے۔