السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : ما جاء في تفسير قوله عز وجل: إن علمتم فيهم خيرا باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان کی تفسیر کا بیان: ”اگر تم ان میں بھلائی جانو“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنّهُ قَالَ لِعَطَاءٍ: مَا الْخَيْرُ؟ الْمَالُ، أَوِ الصَّلَاحُ، أَمْ كُلُّ ذَلِكَ؟ قَالَ: مَا نَرَاهُ إِلَّا الْمَالَ، قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مَالٌ وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ؟ قَالَ: مَا أَحْسِبُ خَيْرًا إِلَّا ذَلِكَ: الْمَالَ وَالصَّلَاحَ. قَالَ: وَقَالَ مُجَاهِدٌ: {إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا} [النور: ٣٣]، " الْمَالَ، كَائِنَةً أَخْلَاقُهُمْ وَأَدْيَانُهُمْ مَا كَانَتْ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: الْخَيْرُ كَلِمَةٌ يُعْرَفُ مَا أُرِيدَ بِهَا بِالْمُخَاطَبَةِ بِهَا، قَالَ اللهُ تَعَالَى: {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ} [البينة: ٧] فَعَقَلْنَا أَنَّهُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ بِالْإِيمَانِ وَعَمَلِ الصَّالِحَاتِ، لَا بِالْمَالِ، وَقَالَ اللهُ تَعَالَى: {وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ ⦗٥٣٧⦘ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ} [الحج: ٣٦] فَعَقَلْنَا أَنَّ الْخَيْرَ الْمَنْفَعَةُ بِالْأَجْرِ، لَا أَنَّ فِيَ الْبُدْنِ لَهُمْ مَالًا، وَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ: {إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا} [البقرة: ١٨٠] فَعَقَلْنَا أَنَّهُ إِنْ تَرَكَ مَالًا، لِأَنَّ الْمَالَ الْمَتْرُوكُ، وَبِقَوْلِهِ: {الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ} [البقرة: ١٨٠] فَلَمَّا قَالَ اللهُ تَعَالَى: {فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا} [النور: ٣٣] كَانَ أَظْهَرَ مَعَانِيهَا بِدَلَالَةِ مَا اسْتَدْلَلْنَا بِهِ مِنَ الْكِتَابِ: قُوَّةٌ عَلَى اكْتِسَابِ الْمَالِ وَأَمَانَةٌ؛ لِأَنَّهُ قَدْ يَكُونُ قَوِيًّا فَيَكْتَسِبُ، فَلَا يُؤَدِّي إِذَا لَمْ يَكُنْ ذَا أَمَانَةٍ، وَأَمِينًا فَلَا يَكُونُ قَوِيًّا عَلَى الْكَسْبِ، فَلَا يُؤَدِّي. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَيْسَ الظَّاهِرُ مِنَ الْقَوْلِ إِنْ عَلِمْتَ فِي عَبْدِكَ مَالًا بِمَعْنَيَيْنِ: أَحَدُهُمَا: أَنَّ الْمَالَ لَا يَكُونُ فِيهِ، إِنَّمَا يَكُونُ عِنْدَهُ، وَلَكِنْ يَكُونُ فِيهِ الِاكْتِسَابُ الَّذِي يُفِيدُ الْمَالَ، وَالثَّانِي: أَنَّ الْمَالَ الَّذِي فِي يَدِهِ لِسَيِّدِهِ، قَالَ: وَلَعَلَّ مَنْ ذَهَبَ إِلَى أَنَّ الْخَيْرَ الْمَالُ، أَنَّهُ أَفَادَ بِكَسْبِهِ مَالًا لِلسَّيِّدِ، فَيَسْتَدِلُّ عَلَى أَنَّهُ يُفِيدُ مَالًا يَعْتِقُ بِهِ كَمَا أَفَادَ أَوَّلًا ".ابن جریج نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا کہ خیر سے مراد مال ہے یا اصلاح یا یہ سب؟ وہ فرماتے ہیں: ہمارے خیال میں اس سے مراد صرف مال ہے۔ میں نے کہا: اگر اس کے پاس مال نہ ہو اور آدمی بھی سچا ہو؟ وہ کہنے لگے کہ میں «خَيْرًا» ”خیر“ سے یہی مراد سمجھتا ہوں: مال اور اصلاح۔
مجاہد رحمہ اللہ ﴿إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا﴾ [سورة النور: 33] کے بارے میں فرماتے ہیں: (اس سے مراد) مال ہے، ان کے اخلاق اور دین جیسے بھی ہوں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خیر ایسا کلمہ ہے جس کی مراد خطاب کے سیاق سے پہچانی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ﴾ [سورة البينة: 7]، تو ہم نے سمجھا کہ وہ ایمان اور نیک عمل کی وجہ سے بہترین مخلوق ہیں، مال کی وجہ سے نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ﴾ [سورة الحج: 36] تو ہم نے سمجھا کہ یہاں خیر سے مراد اجر و ثواب کا فائدہ ہے، یہ نہیں کہ قربانی کے اونٹوں میں ان کے لیے مال ہے۔ اور اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا﴾ [سورة البقرة: 180] تو ہم نے سمجھا کہ مراد یہ ہے کہ اگر وہ مال چھوڑ جائے، کیونکہ چھوڑی جانے والی چیز مال ہی ہے، اور (یہی بات) اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة البقرة: 180] سے (معلوم ہوتی ہے)۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا﴾ [سورة النور: 33] تو کتاب اللہ سے ہمارے استدلال کی روشنی میں اس کا سب سے ظاہر معنی یہ ہے: مال کمانے کی قوت اور امانت داری، کیونکہ کبھی غلام طاقتور ہوتا ہے اور کماتا ہے، لیکن امانت دار نہ ہونے کی وجہ سے ادا نہیں کرتا، اور کبھی امانت دار ہوتا ہے لیکن کمانے کی طاقت نہیں رکھتا، اس لیے ادا نہیں کر پاتا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اگر تم اپنے غلام میں مال جانو“ والا معنی دو وجہوں سے ظاہر نہیں ہے: ایک یہ کہ مال اس کے اندر نہیں ہوتا بلکہ اس کے پاس ہوتا ہے، البتہ اس کے اندر کمانے کی وہ صلاحیت ہوتی ہے جو مال حاصل کرتی ہے، دوسری یہ کہ جو مال اس کے ہاتھ میں ہے وہ اس کے مالک کا ہے۔ فرمایا: شاید جس نے خیر سے مراد مال لیا ہے، اس کا مطلب یہ ہو کہ اس غلام نے اپنی کمائی سے مالک کے لیے مال حاصل کیا، تو اس سے یہ دلیل لی جاتی ہے کہ وہ ایسا مال بھی حاصل کر لے گا جس سے وہ آزاد ہو جائے، جیسے اس نے پہلے حاصل کیا۔