السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : ما جاء في تفسير قوله عز وجل: إن علمتم فيهم خيرا باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان کی تفسیر کا بیان: ”اگر تم ان میں بھلائی جانو“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا ⦗٥٣٨⦘ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْوَازِعِ، حَدَّثَنِي جَدِّي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْوَازِعِ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ مَنْ فَعَلَهُنَّ ثِقَةً بِاللهِ، وَاحْتِسَابًا كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُعِينَهُ، وَأَنْ يُبَارِكَ لَهُ: مَنْ سَعَى فِي فِكَاكِ رَقَبَتِهِ ثِقَةً بِاللهِ وَاحْتِسَابًا كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُعِينَهُ، وَأَنْ يُبَارِكَ لَهُ، وَمَنْ تَزَوَّجَ ثِقَةً بِاللهِ وَاحْتِسَابًا كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُعِينَهُ، وَأَنْ يُبَارِكَ لَهُ، وَمَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً ثِقَةً بِاللهِ وَاحْتِسَابًا كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُعِينَهُ، وَأَنْ يُبَارِكَ لَهُ ".سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”تین بندے جنہوں نے اللہ پر اعتماد اور ثواب کی نیت سے کوئی کام کیا ان کی مدد کرنا اللہ کے ذمے ہے اور اللہ ان کے کاموں میں برکت بھی دے گا۔
1 غلام کو آزاد کروانے کی کوشش کرنے والا۔ اللہ پر بھروسہ اور ثواب کی نیت سے اس کی مدد کرنا اللہ کے ذمے ہے اور اس کے کام میں برکت دی جائے گی۔
2 جس نے اللہ پر توکل اور ثواب کی نیت سے شادی کی تو اس کی مدد کرنا اللہ کے ذمے ہے اور اس کے کام میں برکت دی جائے گی۔
3 جس نے بنجر زمین کو آباد کیا اللہ پر توکل اور ثواب کی نیت سے اس کی مدد کرنا بھی اللہ کے ذمے ہے اور اس کے کام میں برکت دی جائے گی۔“