کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جرِ ولاء (ولاء کے منتقل ہونے) کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِذَا كَانَتِ الْحُرَّةُ تَحْتَ الْمَمْلُوكِ فَوَلَدَتْ لَهُ وَلَدًا، فَإِنَّهُ يَعْتِقُ بِعِتْقِ أُمِّهِ، وَوَلَاؤُهُ لِمَوَالِي أُمِّهِ، فَإِذَا أَعْتَقَ الْأَبُ جَرَّ الْوَلَاءَ إِلَى مَوَالِي أَبِيهِ ". ⦗٥١٦⦘ هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ..
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب آزاد عورت غلام کے نکاح میں ہو، بچے کو بھی جنم دیا ہو، وہ بچہ اپنی ماں کی آزادی کے ساتھ ہی آزاد ہو جائے گا اور اس کی ولاء اس کی ماں کو آزاد کرنے والوں کے پاس ہو گی، جب اس کا باپ آزاد کر دیا گیا تو اس بچے کی ولاء پھر باپ کو آزاد کرنے والوں کی طرف منتقل ہو جائے گی۔
یہ روایت منقطع ہے، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ متصل سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔
یہ روایت منقطع ہے، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ متصل سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ، أنبأ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا تَزَوَّجَ الْمَمْلُوكُ الْحُرَّةَ فَوَلَدَتْ، فَوَلَدُهَا يُعْتَقُونَ بِعِتْقِهَا، وَيَكُونُ وَلَاؤُهُمْ لِمَوْلَى أُمِّهِمْ، فَإِذَا أَعْتَقَ الْأَبُ جَرَّ الْوَلَاءَ ".
حافظ ثناء اللہ
اسود رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب غلام آزاد عورت سے شادی کرے اور وہ بچے کو جنم دے، تو اولاد اپنی ماں کی آزادی کے ساتھ آزاد ہو جائے گی، ان بچوں کی ولاء ان کی ماں کو آزاد کرنے والوں کے پاس ہو گی، جب باپ آزاد کر دیا گیا تو ولاء باپ کو آزاد کرنے والوں کی طرف منتقل ہو جائے گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ، ثنا أَبُو قُدَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ الزُّبَيْرَ، وَرَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، اخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فِي مَوْلَاةٍ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ كَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ، فَوَلَدَتْ مِنْهُ أَوْلَادًا، فَاشْتَرَى الزُّبَيْرُ الْعَبْدَ فَأَعْتَقَهُ، فَقَضَى عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْوَلَاءِ لِلزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ..
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ زبیر اور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے جھگڑا پیش کیا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی آزاد کردہ لونڈی ایک غلام کے نکاح میں تھی، اس لونڈی کی اس غلام سے اولاد ہوئی تو زبیر رضی اللہ عنہ نے غلام خرید کر آزاد کر دیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ولاء کا فیصلہ زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں فرمایا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُمَا اخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَضَى بِهِ لِلزُّبَيْرِ فِي هَذَا. . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ وَالزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مُرْسَلًا..
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے جھگڑا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا، تو فیصلہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں کیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدِمَ خَيْبَرَ، فَرَأَى فِتْيَةً لُعْسًا ظُرْفًا، فَأَعْجَبَهُ ظَرْفُهُمْ، فَسَأَلَ عَنْهُمْ، فَقِيلَ: هُمْ مَوَالٍ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أُمُّهُمْ حُرَّةٌ، مَوْلَاةٌ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَأَبُوهُمْ مَمْلُوكٌ لِأَشْجَعَ لِبَعْضِ الْحُرْقَةِ، فَأَرْسَلَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاشْتَرَى أَبَاهُمْ فَأَعْتَقَهُ، ثُمَّ قَالَ لِفِتْيَتِهِ: انْتَسِبُوا إِلِيَّ، فَإِنَّمَا أَنْتُمُ مَوَالِيَّ، فَقَالَ رَافِعٌ: بَلْ هُمْ مَوَالِيَّ، وُلِدُوا وَأُمُّهُمْ حُرَّةٌ، وَأَبُوهُمْ مَمْلُوكٌ، فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَضَى بِوَلَائِهِمْ لِلزُّبَيْرِ. . هَذَا هُوَ الْمَشْهُورُ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَرُوِيَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُنْقَطِعًا بِخِلَافِهِ..
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ خیبر تشریف لائے، انہوں نے کچھ ذہین نوجوان دیکھے، ان کی ذہانت انہیں اچھی لگی، ان کے بارے میں سوال کیا تو جواب ملا کہ یہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ ہیں۔ ان کی والدہ آزاد ہے، جو رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی آزاد کردہ لونڈی ہے اور ان کا باپ قبیلہ اشجع کا غلام ہے، تو زبیر رضی اللہ عنہ نے ان کے باپ کو خرید کر آزاد کر دیا، پھر ان نوجوانوں سے کہا: ”اپنی نسبت میری طرف کرو، کیونکہ تم میرے آزاد کردہ ہو“، تو رافع رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”بلکہ وہ میرے آزاد کردہ ہیں، یہ اس وقت پیدا ہوئے جب ان کی والدہ آزاد تھی اور ان کا باپ غلام تھا“۔ وہ دونوں جھگڑا لے کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں فیصلہ فرما دیا۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے یہی مشہور ہے، اور زہری کے واسطے سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے منقطع سند کے ساتھ اس کے خلاف بھی مروی ہے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے یہی مشہور ہے، اور زہری کے واسطے سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے منقطع سند کے ساتھ اس کے خلاف بھی مروی ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ الزُّبَيْرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدِمَ خَيْبَرَ، فَرَأَى فِتْيَةً أَعْجَبَهُ ⦗٥١٧⦘ حَالُهُمْ، فَسَأَلَ عَنْهُمْ، فَقِيلَ: هُمْ مَوَالٍ لِبَنِي حَارِثَةَ، أُمُّهُمْ حُرَّةٌ مَوْلَاةٌ لِبَنِي حَارِثَةَ، وَأَبُوهُمْ مَمْلُوكٌ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِيهِمْ فَاشْتَرَاهُ فَأَعْتَقَهُ، فَاخْتَصَمَ هُوَ وَبَنُو حَارِثَةَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْوَلَاءِ، فَقَضَى عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْوَلَاءِ لِبَنِي حَارِثَةَ، وَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " الْوَلَاءُ لَا يَجُرُّ " كَذَا قَالَ وَالرِّوَايَةُ الْأُولَى عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَصَحُّ بِشَوَاهِدِهَا، وَمَرَاسِيلُ الزُّهْرِيِّ رَدِيئَةٌ..
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زبیر رضی اللہ عنہ خیبر آئے، انہوں نے کچھ نوجوانوں کو دیکھا، ان کی حالت ان کو اچھی لگی، ان کے بارے میں سوال کیا تو بتایا گیا کہ یہ بنو حارثہ کے آزاد کردہ ہیں، ان کی والدہ بھی بنو حارثہ کی آزاد کردہ ہے اور ان کا باپ غلام ہے، تو زبیر رضی اللہ عنہ نے ان کے باپ کو خرید کر آزاد کر دیا۔ اب زبیر رضی اللہ عنہ اور بنو حارثہ کے درمیان جھگڑا چلا جو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس ولاء کے بارے میں آیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فیصلہ بنو حارثہ کے حق میں دے دیا اور فرمایا کہ ولاء منتقل نہیں ہوتی۔
زہری نے اسی طرح کہا ہے، لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے پہلی روایت اپنے شواہد کی بنا پر زیادہ صحیح ہے، اور زہری کی مرسل روایات کمزور ہیں۔
زہری نے اسی طرح کہا ہے، لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے پہلی روایت اپنے شواہد کی بنا پر زیادہ صحیح ہے، اور زہری کی مرسل روایات کمزور ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ هُبَيْرَةَ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَضَى فِي عَبْدٍ كَانَتْ تَحْتَهُ حُرَّةٌ فَوَلَدَتْ أَوْلَادًا فَعَتَقُوا بِعَتَاقَةِ أُمِّهِمْ، ثُمَّ أُعْتِقَ أَبُوهُمْ بَعْدُ، أَنَّ وَلَاءَهُمْ لِعَصَبَةِ أَبِيهِمْ،.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ہبیرہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک غلام کا فیصلہ فرمایا جس کے نکاح میں ایک آزاد عورت تھی، اس نے اولاد کو بھی جنم دیا، ان کی ماں کی آزادی کی وجہ سے ان کو آزاد کر دیا، پھر ان کا باپ آزاد کر دیا گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ان کی ولاء ان کے باپ کے عصبات کے لیے ہے۔“
قَالَ: وَأنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَجُرُّ الْوَلَاءَ.
حافظ ثناء اللہ
یزید الرشک بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ولاء کو منتقل کرنے کے قائل تھے۔
قَالَ: وَأنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: " الْعَبْدُ يَجُرُّ وَلَاءَ وَلَدِهِ إِذَا أَعْتَقَ "، قَالَ: وَكَانَ شُرَيْحٌ يَقْضِي بِوَلَاءِ وَلَدِهِ - يَعْنِي: لِمَوَالِي الْأُمِّ، حَتَّى حَدَّثَهُ الْأَسْوَدُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَضَى بِهِ شُرَيْحٌ. كَذَا قَالَ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْأَسْوَدِ.
حافظ ثناء اللہ
اسود بن یزید، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ غلام جب آزاد کر دیا جائے تو وہ اپنی اولاد کی ولاء اپنی طرف کھینچ لیتا ہے، قاضی شریح رحمہ اللہ بچے کی ولاء کا فیصلہ اس کی والدہ کے آزاد کردہ لوگوں کی طرف کرتے تھے، پھر اسود نے قاضی شریح رحمہ اللہ کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بات بتائی تو اس کے مطابق فیصلہ فرمایا۔
جابر جعفی نے اسی طرح شعبی کے واسطے سے اسود سے روایت کیا ہے۔
جابر جعفی نے اسی طرح شعبی کے واسطے سے اسود سے روایت کیا ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: كَانَ شُرَيْحٌ لَا يَكَادُ يَرْجِعُ عَنْ قَضَاءٍ قَضَى بِهِ، حَتَّى حَدَّثَهُ الْأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي الْحَرَّةِ تَكُونُ تَحْتَ الْعَبْدِ، فَتَلِدُ لَهُ أَوْلَادًا، ثُمَّ يُعْتَقُ أَبُوهُمْ: " أَنَّهُ يَصِيرُ وَلَاؤُهُمْ إِلَى مَوَالِي أَبِيهِمْ "، فَأَخَذَ بِهِ شُرَيْحٌ. هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْأَسْوَدُ حَدَّثَهُ عَنْ عُمَرَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ جَمِيعًا، وَاللهُ أَعْلَمُ..
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ اپنے کیے ہوئے فیصلے سے کم ہی رجوع کرتے تھے، یہاں تک کہ اسود بن یزید رحمہ اللہ نے انہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انہوں نے اس آزاد عورت کے بارے میں فرمایا جو غلام کے نکاح میں ہو اور اس کی اولاد بھی ہو، پھر ان کا باپ آزاد ہو جائے تو ان کی ولاء باپ کو آزاد کرنے والوں کی طرف چلی جائے گی، تو قاضی شریح رحمہ اللہ نے اسی کو اختیار کر لیا۔
یہ سند صحیح ہے، اور ممکن ہے کہ اسود نے انہیں یہ بات حضرت عمر اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما دونوں سے بیان کی ہو، واللہ اعلم۔
یہ سند صحیح ہے، اور ممکن ہے کہ اسود نے انہیں یہ بات حضرت عمر اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما دونوں سے بیان کی ہو، واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ وَبَرَةَ، قَالَ: كَانَ شُرَيْحٌ يَقْضِي فِي الْعَبْدِ إِذَا تَزَوَّجَ الْحُرَّةَ فَوَلَدَتْ لَهُ أَوْلَادًا أَنَّ الْوَلَاءَ لِأُمِّهِمْ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَضَى أَنَّ الْأَبَ إِذَا أُعْتِقَ جَرَّ الْوَلَاءَ، فَتَرَكَ شُرَيْحٌ ذَلِكَ..
حافظ ثناء اللہ
حجاج بن ارطاۃ حضرت وبرہ سے نقل فرماتے ہیں کہ قاضی شریح فیصلہ فرماتے تھے کہ جب غلام آزاد عورت سے شادی کرے اور ان کی اولاد بھی ہو تو ولاء ان کی ماں کے لیے ہے، ان سے کہا گیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ جب باپ کو آزاد کر دیا جائے تو ولاء باپ کے آزاد کردہ لوگوں کے پاس چلی جائے گی، تو پھر قاضی شریح نے اپنی بات چھوڑ دی۔
وَبِإِسْنَادِهِ أنبأ يَزِيدُ، أنبأ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ امْرَأَةً حُرَّةً كَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ، فَوَلَدَتْ لَهُ أَوْلَادًا، ثُمَّ أُعْتِقَ الْعَبْدُ، فَقَضَى شُرَيْحٌ بِجَرِّ الْوَلَاءِ..
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آزاد عورت جو غلام کے نکاح میں ہو اور اس کی اولاد بھی ہو، پھر اس غلام کو آزاد کر دیا گیا تو قاضی شریح رحمہ اللہ نے ولاء کے منتقل ہونے کا فیصلہ سنا دیا۔
وَبِإِسْنَادِهِ أنبأ يَزِيدُ، أنبأ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ مَمْلُوكٍ لَهُ بَنُونَ مِنْ حُرَّةٍ، وَلِلْعَبْدِ أَبٌ حُرٌّ، فَقِيلَ: لِمَنْ وَلَاءُ وَلَدِهِ؟ فَقَالَ: " لِمَوَالِي الْجَدِّ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان سے ایک غلام کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اس کے آزاد عورت سے بچے تھے اور غلام کا باپ بھی آزاد تھا، اب اس کے بچے کی ولاء کس کے لیے ہوگی؟ فرمانے لگے: دادا کو آزاد کرنے والوں کے لیے۔