کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس غلام کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان جو مسلمانوں کی طرف بھاگ آئے، پھر اس کا آقا آ کر اسلام لے آئے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ سَلَمَةَ، أَنَّ رَافِعًا أَبَا السَّائِبِ كَانَ عَبْدًا لِغَيْلَانَ فَرَّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْتَقَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَسْلَمَ غَيْلَانُ فَرَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَاءَهُ إِلَى غَيْلَانَ..
حافظ ثناء اللہ
غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابو السائب رافع رضی اللہ عنہ، یہ غیلان کا غلام تھا، نبی ﷺ کے پاس بھاگ کر آ گیا، آپ ﷺ نے آزاد کر دیا، پھر غیلان رضی اللہ عنہ نے بھی اسلام قبول کر لیا تو نبی ﷺ نے اس کی ولاء غیلان رضی اللہ عنہ کو واپس کر دی۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا حَاصَرَ حِصْنًا فَأَتَاهُ أَحَدٌ مِنَ الْعَبِيدِ أَعْتَقَهُ، فَإِذَا أَسْلَمَ مَوْلَاهُ رَدَّ وَلَاءَهُ عَلَيْهِ. . هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَابْنُ لَهِيعَةَ يَنْفَرِدُ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ..
حافظ ثناء اللہ
یزید بن ابی حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب کسی قلعہ کا محاصرہ کر لیا، آپ ﷺ کے پاس غلام آتے تو آپ ﷺ انہیں آزاد کر دیتے، جب ان کا آقا اسلام قبول کر لیتا تو اس کی طرف ولاء کو واپس کر دیتے۔
یہ روایت منقطع ہے اور اسے بیان کرنے میں ابن لہیعہ منفرد ہیں، واللہ اعلم۔
یہ روایت منقطع ہے اور اسے بیان کرنے میں ابن لہیعہ منفرد ہیں، واللہ اعلم۔