کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: عورتیں ولاء کی وارث نہیں ہوتیں مگر صرف اس صورت میں جب وہ خود کسی کو آزاد کریں، یا ان کا آزاد کردہ غلام کسی اور کو آزاد کرے۔
حدیث نمبر: 21510
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ، عَنْ وُهَيْبٍ، وَرَوَاهُ ⦗٥١٥⦘ مُسْلِمٌ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ حَمَّادٍ فَأَخْبَرَنَا أَنَّ مَنْ يَأْخُذُ بِالتَّعْصِيبِ إِنَّمَا هُوَ رَجُلٌ، إِلَّا مَا خَصَّتْهُ سُنَّةٌ لَهُ أُخْرَى، وَقَدْ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِعْتَاقِ عَائِشَةَ بَرِيرَةَ: " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "، فَدَلَّ أَنَّهَا تَرِثُ بِالْوَلَاءِ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فرض والوں کو فرائض دیں، جو باقی بچے وہ مردوں کے لیے ہے۔“
(ب) عصبہ صرف مرد بنیں گے، اگر کوئی سنت دوسرے کی تخصیص فرما دے اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”ولاء صرف اس کے لیے ہے جو آزاد کرتا ہے۔“ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ وہ ولاء کی وارث ہوں گی۔
(ب) عصبہ صرف مرد بنیں گے، اگر کوئی سنت دوسرے کی تخصیص فرما دے اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”ولاء صرف اس کے لیے ہے جو آزاد کرتا ہے۔“ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ وہ ولاء کی وارث ہوں گی۔
حدیث نمبر: 21511
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللهِ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَجْعَلُونَ الْوَلَاءَ لِلْكُبْرِ مِنَ الْعَصَبَةِ، وَلَا يُوَرِّثُونَ النِّسَاءَ إِلَّا مَا أَعْتَقْنَ، أَوْ أَعْتَقَ مَنْ أَعْتَقْنَ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ عصبہ میں سے بڑے کے لیے ولاء مقرر کرتے تھے اور عورتوں میں سے ولاء کی وارث صرف وہ عورتیں ہوتیں جو آزاد کرتیں، یا وہ آزاد کرے جس کو وہ آزاد کرتیں۔
حدیث نمبر: 21512
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ السَّلَامِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ وَعَلِيٌّ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: لَا يُوَرِّثُونَ النِّسَاءَ مِنَ الْوَلَاءِ إِلَّا مَا أَعْتَقْنَ..
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمر، علی اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم ان عورتوں کو ولاء کا وارث بناتے تھے جو (غلام) آزاد کرتیں۔
حدیث نمبر: 21513
قَالَ: وَأنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ، ثنا إِسْحَاقُ، أنبأ عَبْدُ السَّلَامِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 21514
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: " لَا تَرِثُ النِّسَاءُ مِنَ الْوَلَاءِ شَيْئًا إِلَّا مَا كَاتَبَتْهُ أَوْ أَعْتَقَتْهُ، قَالَ يَزِيدُ: وَسَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ يَقُولُ: " لَا تَرِثُ النِّسَاءُ مِنَ الْوَلَاءِ شَيْئًا إِلَّا مَا كَاتَبْنَ، أَوْ أَعْتَقْنَ، أَوْ أَعْتَقَ مَنْ أَعْتَقْنَ، أَوْ جَرَّ وَلَاءَهُ مَنْ أَعْتَقْنَ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورتیں ولاء میں سے کسی چیز کی وارث نہیں ہوتیں، صرف اس کی جس سے انہوں نے مکاتبت کی یا اسے آزاد کر دیا۔
(ب) سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عورتیں ولاء میں سے کسی چیز کی بھی وارث نہیں ہوتیں، مگر یہ کہ وہ مکاتبت کر لیں، یا آزاد کر دیں، یا وہ اسے آزاد کرے جس کو انہوں نے آزاد کیا ہو، یا وہ ولاء کو منتقل کرے جس کو انہوں نے آزاد کیا۔
(ب) سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عورتیں ولاء میں سے کسی چیز کی بھی وارث نہیں ہوتیں، مگر یہ کہ وہ مکاتبت کر لیں، یا آزاد کر دیں، یا وہ اسے آزاد کرے جس کو انہوں نے آزاد کیا ہو، یا وہ ولاء کو منتقل کرے جس کو انہوں نے آزاد کیا۔
حدیث نمبر: 21515
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ: " لَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ شَيْئًا مِنَ الْوَلَاءِ لِأَحَدٍ مِنْ أَقَارِبِهَا، وَلَا تَرِثُ مِنَ الْوَلَاءِ إِلَّا مَا أَعْتَقَتْ هِيَ نَفْسُهَا، أَوْ مَنْ كَاتَبَتْ، فَعَتَقَ مِنْهَا، أَوْ وَلَاءَ مَوْلَى مَنْ أَعْتَقَتْ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی زناد فرماتے ہیں کہ مدینہ کے فقہاء کہتے ہیں کہ عورت اپنے قریبی رشتہ داروں میں سے کسی کی ولاء کی وارث نہ ہوگی، وہ صرف اس کی ولاء کی وارث ہوگی جس کو اس نے بذاتِ خود آزاد کیا یا جس نے اس سے مکاتبت کر کے آزادی حاصل کی یا اس غلام کی ولاء جس کو اس نے آزاد کیا۔