أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْعَبْدِ يُعْتَقُ نِصْفُهُ؟ قَالَ: " أَحْكَامُهُ أَحْكَامُ الْعَبِيدِ حَتَّى يُعْتَقَ كُلُّهُ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے غلام کے بارے میں سوال کیا جس کا نصف حصہ آزاد کر دیا گیا، انہوں نے فرمایا: اس پر غلام والے احکام جاری ہوں گے یہاں تک کہ مکمل آزاد نہ ہو جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، فِي رَجُلٍ مَاتَ وَنِصْفُهُ حُرٌّ، قَالَ: " هُوَ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ، نِصْفٌ لِلَّذِي أَعْتَقَ، وَنِصْفٌ لِلَّذِي لَمْ يُعْتِقْ ".
حافظ ثناء اللہ
ابنِ طاؤس رحمہ اللہ اپنے والد سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جو فوت ہو گیا اور وہ نصف آزاد تھا، فرمایا: ”وہ ان دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہو گا، نصف آزاد کرنے والے کا اور نصف اس کا جس نے آزاد نہیں کیا۔“