کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: بچہ اپنے والدین میں سے کسی ایک کے اسلام لانے سے مسلمان شمار ہوگا۔
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ} [الطور: 21]..
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ﴾ ”اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی۔“ [سورة الطور: 21]...
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، وَأَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ السَّرَّاجِ قَالَا: أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: {وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ} [الطور: ٢١] قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " الْمُؤْمِنُ يَلْحَقُ بِهِ ذُرِّيَّتُهُ لِيُقِرَّ اللهُ بِهِمْ عَيْنَهُ، وَإِنْ كَانُوا دُونَهُ فِي الْعَمَلِ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن مرہ کہتے ہیں: میں نے سعید بن جبیر سے اس آیت ﴿وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمْ بِاِیْمَانٍ﴾ [سورة الطور: 21] ”اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ان کی اتباع کی۔“ کے بارے میں پوچھا
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مومن کی اولاد کو اللہ ان کے ساتھ ملا دے گا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں، اگرچہ وہ عمل میں اس سے کم ہی کیوں نہ ہوں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مومن کی اولاد کو اللہ ان کے ساتھ ملا دے گا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں، اگرچہ وہ عمل میں اس سے کم ہی کیوں نہ ہوں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: (أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّاتِهِمْ وَمَا أَلَتْنَاهُمْ مِنْ عَمَلِهِمْ مِنْ شَيْءٍ) قَالَ: " إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ ذُرِّيَّةَ الْمُؤْمِنِ مَعَهُ فِي دَرَجَتِهِ فِي الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانُوا دُونَهُ فِي الْعَمَلِ "، ثُمَّ قَرَأَ: (وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّاتِهِمْ وَمَا أَلَتْنَاهُمْ) يَقُولُ: " وَمَا نَقَصْنَاهُمْ ". لَمْ يَسْمَعْهُ الثَّوْرِيُّ مِنْ عُمَرَ، وَإِنَّمَا رَوَاهُ غَيْرُهُ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سَمَاعَةَ، عَنْ عَمْرٍو. وَقَدْ ذَكَرْنَاهُ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ، وَحَدِيثُ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرٍو مَوْصُولٌ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي جُمْلَةِ مَا احْتَجَّ بِهِ: " وَكَانَ الْإِسْلَامُ أَوْلَى بِهِ، لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى أَعَلَى الْإِسْلَامَ عَلَى الْأَدْيَانِ، وَالْأَعْلَى أَوْلَى أَنْ يَكُونَ لَهُ الْحُكْمُ. وَقَدْ رُوِيَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَعْنَى ذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ارشادِ باری تعالیٰ ﴿أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَا أَلَتْنَاهُم مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَيْءٍ﴾ [سورة الطور: 21] ”ہم ان کے ساتھ ان کی اولاد کو ملا دیں گے اور ان کے اعمال میں کچھ کمی نہیں کریں گے۔“
کے متعلق فرماتے ہیں: اللہ مومن کی اولاد کو جنت کے درجات میں ان کے ساتھ ملا دے گا، اگرچہ عمل کے اعتبار سے وہ کم ہی کیوں نہ ہوں۔ ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَا أَلَتْنَاهُم﴾ [سورة الطور: 21] ”اور وہ لوگ جو ایمان لائے ان کی اولاد نے ان کی ایمان میں پیروی کی، ہم ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ہم کمی نہ کریں گے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسلام تمام ادیان سے اعلیٰ و افضل ہے، اس کا حکم بھی مانا جائے گا۔
ثوری نے یہ روایت عمرو سے نہیں سنی، بلکہ دوسرے راویوں نے اسے ثوری سے، انہوں نے سماعہ سے اور انہوں نے عمرو سے روایت کیا ہے، اور شعبہ کی عمرو سے روایت متصل ہے۔
کے متعلق فرماتے ہیں: اللہ مومن کی اولاد کو جنت کے درجات میں ان کے ساتھ ملا دے گا، اگرچہ عمل کے اعتبار سے وہ کم ہی کیوں نہ ہوں۔ ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَا أَلَتْنَاهُم﴾ [سورة الطور: 21] ”اور وہ لوگ جو ایمان لائے ان کی اولاد نے ان کی ایمان میں پیروی کی، ہم ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ہم کمی نہ کریں گے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسلام تمام ادیان سے اعلیٰ و افضل ہے، اس کا حکم بھی مانا جائے گا۔
ثوری نے یہ روایت عمرو سے نہیں سنی، بلکہ دوسرے راویوں نے اسے ثوری سے، انہوں نے سماعہ سے اور انہوں نے عمرو سے روایت کیا ہے، اور شعبہ کی عمرو سے روایت متصل ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ - يَعْنِي: مُحَمَّدَ بْنَ نَصْرٍ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " الْوَلَدُ لِلْوَالِدِ الْمُسْلِمِ ".
حافظ ثناء اللہ
اشعث، حضرت حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بچے کا زیادہ حق دار مسلمان والد ہے۔
قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: ثنا يَحْيَى، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ اخْتُصِمَ إِلَيْهِ فِي صَبِيٍّ، أَحَدُ أَبَوَيْهِ نَصْرَانِيٌّ، قَالَ: " الْوَالِدُ الْمُسْلِمُ أَحَقُّ بِالْوَلَدِ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک بچہ جس کے والدین میں سے ایک عیسائی تھا، اس کا مقدمہ آیا، فرماتے ہیں کہ مسلم والد بچے کا زیادہ حقدار ہے۔
قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي الصَّغِيرِ قَالَ: " مَعَ الْمُسْلِمِ مِنْ وَالِدَيْهِ ". وَقَدْ مَضَى سَائِرُ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ فِي كِتَابِ اللَّقِيطِ..
حافظ ثناء اللہ
یونس رحمہ اللہ، حضرت حسن رحمہ اللہ سے نابالغ بچے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنے والدین میں سے مسلمان کے ساتھ ہوگا۔