کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: وہ شخص جو کسی پر اپنے حق کے لیے دو گواہ لے آئے تو ان دو گواہوں کے ہوتے ہوئے اس پر کوئی قسم نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 21246
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ. قَالَ: ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَ ذَلِكَ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ٧٧] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ثُمَّ إِنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ خَرَجَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ فَحَدَّثْنَاهُ بِمَا قَالَ، فَقَالَ: صَدَقَ، لَفِيَّ نَزَلَتْ، كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي شَيْءٍ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ "، فَقُلْتُ: إِنَّهُ إِذًا حَلَفَ، وَلَا يُبَالِي، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ لِيَسْتَحِقَّ بِهَا مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ "، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ. ⦗٤٤١⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُثْمَانَ وَقُتَيْبَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جو قسم اٹھا کر مال کا مستحق بنتا ہے اور وہ جھوٹا ہے تو وہ اللہ سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوں گے۔“ پھر اس کی تصدیق اللہ نے نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”وہ لوگ جو اپنی قسموں اور اللہ کے عہد کے عوض تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں۔“
پھر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ہماری طرف آئے اور کہنے لگے: ابوعبدالرحمن نے کیا بیان کیا؟ جو انھوں نے بیان کیا ہم نے کہہ دیا، کہنے لگے: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی۔ میرے اور ایک آدمی کے درمیان جھگڑا تھا۔ جب نبی ﷺ کے پاس گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”گواہ تیرے ذمہ یا اس سے قسم تم لے لو۔“ میں نے کہا: وہ قسم اٹھا دے گا، اس کو کوئی پروا نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قسم کی وجہ سے مال ہڑپ کرنا چاہا اور وہ جھوٹا ہوا تو وہ اللہ سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوگا۔“ اللہ نے اس کی تصدیق نازل کی، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت کی تلاوت فرمائی۔
پھر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ہماری طرف آئے اور کہنے لگے: ابوعبدالرحمن نے کیا بیان کیا؟ جو انھوں نے بیان کیا ہم نے کہہ دیا، کہنے لگے: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی۔ میرے اور ایک آدمی کے درمیان جھگڑا تھا۔ جب نبی ﷺ کے پاس گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”گواہ تیرے ذمہ یا اس سے قسم تم لے لو۔“ میں نے کہا: وہ قسم اٹھا دے گا، اس کو کوئی پروا نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قسم کی وجہ سے مال ہڑپ کرنا چاہا اور وہ جھوٹا ہوا تو وہ اللہ سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوگا۔“ اللہ نے اس کی تصدیق نازل کی، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت کی تلاوت فرمائی۔
حدیث نمبر: 21247
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ خَصْمَانِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا انْتَزَى عَلَى أَرْضِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْكِنْدِيُّ، وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ، فَقَالَ: أَرْضِي أَزْرَعُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَكَ بَيِّنَةٌ "؟ قَالَ: لَا، قَالَ: " يَمِينُهُ " قَالَ: إِذًا يَذْهَبُ بِهَا، إِنَّهُ لَيْسَ يُبَالِي مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ "، فَلَمَّا ذَهَبَ لِيَحْلِفَ قَالَ: " أَمَا إِنَّهُ إِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ ظُلْمًا لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرٍ وَإِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ.
حافظ ثناء اللہ
علقمہ بن وائل اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس تھا۔ دو جھگڑا کرنے والے آئے، ایک نے کہا کہ دورِ جاہلیت میں اس نے میری زمین چھین لی تھی: 1 امرء القیس بن عابس اور 2 ربیعہ تھا۔ اس نے کہا: میری زمین ہے، میں کھیتی باڑی کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس دلیل ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دوسرا قسم دے گا۔“ وہ کہنے لگا: وہ قسم اٹھا دے گا، اس کو کوئی پروا نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے اب صرف قسم ہی ہے“، جب وہ قسم کے لیے جانے لگا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس نے ظلم کے ساتھ مال ہڑپ کرنا چاہا تو اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوں گے۔“