کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: جس نے گواہ (دلیل) کے ساتھ قسم اٹھانے کو بھی ضروری سمجھا۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ قَالَ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ حَنَشٍ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَرَى الْحَلِفَ مَعَ الْبَيِّنَةِ. كَذَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى. وَقَدْ رُوِّينَا فِيمَا مَضَى مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ إِنَّمَا رَآهُ عِنْدَ تَعَارُضِ الْبَيِّنَتَيْنِ، وَاللهُ أَعْلَمُ..
حافظ ثناء اللہ
حنش بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ قسم کے ساتھ گواہ کو بھی رکھتے تھے۔
(ب) حنش سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تعارضِ دلائل کے وقت یہ خیال فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21248
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا هِشَامٌ، وَمَنْصُورٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ رَجُلًا ادَّعَى قِبَلَ رَجُلٍ حَقًّا، وَأَقَامَ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ، فَاسْتَحْلَفَهُ شُرَيْحٌ، فَكَأَنَّهُ يَأْبَى الْيَمِينَ، فَقَالَ شُرَيْحٌ: " بِئْسَ مَا تُثْنِي عَلَى شُهُودِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی کی طرف سے حق کا مطالبہ کر دیا اور گواہ بھی پیش کر دیا، تو قاضی شریح نے اس سے قسم کا مطالبہ کیا، گویا وہ قسم سے انکار کر رہا تھا، تو قاضی کہنے لگے: تو اپنے گواہوں کی بری تعریف کر رہا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21249
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، قَالَ: شَهِدْتُ شُرَيْحًا وَاخْتَصَمَ إِلَيْهِ رَجُلَانِ ادَّعَى أَحَدُهُمَا قِبَلَ الْآخَرِ دَابَّةً، وَإِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهَا دَابَّتُهُ أَنْتَجَهَا، فَسَأَلَهُ شُرَيْحٌ الْبَيِّنَةَ، فَجَاءَهُ بِثَمَانِيَةِ رَهْطٍ فَشَهِدُوا لَهُ، فَقَالَ الَّذِي فِيُ يَدِهِ الدَّابَّةُ: اسْتَحْلِفْهُ، فَقَالَ: احْلِفْ، فَقَالَ لَهُ: أَثْبَتُّ عِنْدَكَ بِثَمَانِيَةٍ مِنَ الشُّهُودِ فَقَالَ شُرَيْحٌ: " لَوْ أَثْبَتَّ عِنْدِي كَذَا وَكَذَا شَاهِدًا مَا قَضَيْتُ لَكَ حَتَّى تَحْلِفَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابومالک اشجعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس آیا، دو آدمی ایک چوپائے کا جھگڑا لے کر آئے کہ چوپائے نے اس کے پاس بچہ دیا ہے۔ قاضی شریح رحمہ اللہ نے گواہ کا مطالبہ کیا۔ وہ آٹھ لوگوں کے گروہ کو بطور گواہ لے آیا۔ جس کے قبضے میں جانور تھا وہ کہنے لگا: ان سے قسم کا مطالبہ کرو، تو قاضی نے ان سے قسم کا مطالبہ کیا۔ وہ کہنے لگا: دیکھو میں نے آٹھ گواہ پیش کر دیے ہیں، تو قاضی شریح رحمہ اللہ کہنے لگے: جتنے مرضی گواہ پیش کر دو، جتنی دیر خود قسم نہ دو گے، آپ کے حق میں فیصلہ نہ کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21250
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ، أنبأ أَحْمَدُ، أنبأ سَعِيدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ أَشْعَثُ بْنُ ⦗٤٤٢⦘ سَوَّارٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ اسْتَحْلَفَ رَجُلًا مَعَ بَيِّنَةٍ، فَأَبَى أَنْ يَحْلِفَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُتْبَةَ: " لَا أَقْضِي لَكَ بِمَالٍ لَا تَحْلِفُ عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عون بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک شخص سے گواہ کے ساتھ قسم کا مطالبہ کیا، اس نے قسم دینے سے انکار کر دیا، تو عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ کہنے لگے: میں تیرے لیے مال کا فیصلہ نہ کروں گا، جب تک تو قسم نہ اٹھائے گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21251
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَذَّاءُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: " بَيِّنَةُ الطَّالِبِ عَلَى أَصْلِ حَقِّهِ بَرَاءَةُ أَهْلِ الْمَيِّتِ، إِنْ صَاحِبُهُمْ قَدْ أَدَّى يَمِينَ الطَّالِبِ بِاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ: لَقَدْ مَاتَ وَهَذَا الْحَقُّ عَلَيْهِ، وَنَحْنُ نَقُولُ بِهِ فِي الدَّعْوَى إِذَا قَامَتْ عَلَى مَيِّتٍ أَوْ غَائِبٍ أَوْ طِفْلٍ أَوْ مَجْنُونٍ..
حافظ ثناء اللہ
عامر رحمہ اللہ، قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ طالب (دعویٰ کرنے والے) کے اپنے اصل حق پر گواہ (پیش کرنے) کے ساتھ، میت کے گھر والوں کی برأت کے لیے، اگر ان کے صاحب نے (یہ حق) ادا کر دیا ہو، طالب کی قسم (ضروری) ہے کہ «بِاللهِ الَّذِي لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ» ”اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں“ وہ اس حال میں فوت ہوا کہ یہ حق اس کے ذمہ تھا، اور ہم بھی دعویٰ میں یہی کہتے ہیں جب وہ میت یا غائب یا بچے یا دیوانے کے خلاف قائم کیا جائے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21252
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»