کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: دو دعویٰ کرنے والے کسی مال پر جھگڑیں اور وہ متنازعہ مال ان دونوں کے قبضے میں ہو۔
حدیث نمبر: 21213
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " فَهُوَ فِي الظَّاهِرِ بَيْنَهُمَا نِصْفَانِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا بَيِّنَةً أَحْلَفْنَا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى دَعْوَى صَاحِبِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو ظاہر میں وہ (چیز) ان دونوں کے درمیان آدھی آدھی ہو گی، پھر اگر ان دونوں میں سے کوئی بھی دلیل (گواہی) نہ پائے تو ہم ان دونوں میں سے ہر ایک سے اس کے ساتھی کے دعوے پر قسم لیں گے۔“
حدیث نمبر: 21213
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْبَزَّازُ بِالطَّابِرَانِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ⦗٤٣١⦘ ثنا سَعِيدٌ ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: اخْتَصَمَ رَجُلَانِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ، وَقَالَ رَوْحٌ: فِي بَعِيرٍ، لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ، فَقَضَى بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ. . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ فَأَرْسَلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو شخص جھگڑا لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، ایک اونٹ کے بارے میں جھگڑا تھا، لیکن دونوں کے پاس دلیل موجود نہ تھی تو رسول اللہ ﷺ نے دونوں کے لیے نصف نصف کا فیصلہ فرما دیا۔
حدیث نمبر: 21214
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَابَّةٍ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ، فَجَعَلَهَا بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ..
حافظ ثناء اللہ
سعید بن ابی بردہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ دو شخص ایک چوپائے کا جھگڑا لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے، دونوں کے پاس دلیل نہ تھی۔ آپ ﷺ نے دونوں کے لیے نصف نصف کر دیا۔
حدیث نمبر: 21215
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا فِي مَتَاعٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ، مَا كَانَا أَحَبَّا ذَلِكَ أَوْ كَرِهَا "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو شخص سامان کے بارے میں جھگڑا لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ دلیل کسی کے پاس موجود نہ تھی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”دونوں میں قرعہ اندازی کرو، اگرچہ دونوں کو پسند ہو یا ناپسند۔“
حدیث نمبر: 21216
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ، قَالَ: فِي دَابَّةٍ وَلَيْسَ لَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ قَالَ الشَّيْخُ: " فَيُحْتَمَلُ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الْقَضِيَّةُ مِنْ تَتِمَّةِ الْقَضِيَّةِ الْأُولَى فِي حَدِيثِ أَبِي بُرْدَةَ، فَكَأَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ ذَلِكَ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ بِحُكْمِ الْيَدِ، فَطَلَبَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَمِينَ صَاحِبِهِ فِي النِّصْفِ الَّذِي حَصَلَ لَهُ، فَجَعَلَ عَلَيْهِمَا الْيَمِينَ، فَتَنَازَعَا فِي الْبِدَايَةِ بِأَحَدِهِمَا، فَأَمَرَهُمَا أَنْ يَقْتَرِعَا عَلَى الْيَمِينِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن عروبہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ جھگڑا ایک جانور کے متعلق تھا، لیکن دلیل کسی کے پاس موجود نہ تھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دونوں کے درمیان قسم کے لیے قرعہ اندازی کر لی جائے۔“
شیخ فرماتے ہیں: دونوں کا قبضہ ہو تو قسم دونوں کے ذمہ ہے۔ جب تنازع ابتدا میں ہو تو پھر قرعہ اندازی کی جائے۔
شیخ فرماتے ہیں: دونوں کا قبضہ ہو تو قسم دونوں کے ذمہ ہے۔ جب تنازع ابتدا میں ہو تو پھر قرعہ اندازی کی جائے۔
حدیث نمبر: 21217
وَفِي مِثْلِ هَذَا مَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَ عَلَى قَوْمٍ الْيَمِينَ فَأَسْرَعُوا، فَأَمَرَ أَنْ يُسْهَمَ ⦗٤٣٢⦘ بَيْنَهُمْ فِي الْيَمِينِ أَيُّهُمْ يَحْلِفُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ بِهَذَا اللَّفْظِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک قوم سے قسم لینے کا ارادہ کیا تو ہر ایک قسم دینے کے لیے تیار ہو گیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”قرعہ اندازی کرو کہ ان میں سے کون قسم اٹھائے۔“
حدیث نمبر: 21218
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُكْرِهَ الِاثْنَانِ عَلَى الْيَمِينِ فَاسْتَحَبَّاهَا فَأَسْهِمْ بَيْنَهُمَا ". وَبِهَذَا اللَّفْظِ رَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَجَمَاعَةٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، إِلَّا أَنَّ فِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ: " إِذَا أُكْرِهَ الِاثْنَانِ عَلَى الْيَمِينِ وَاسْتَحَبَّاهَا، فَلْيَسْتَهِمَا عَلَيْهَا " يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ: كَرِهَاهَا، أَوِ اسْتَحَبَّاهَا، فَفِي الْحَالَيْنِ جَمِيعًا يُقْرَعُ بَيْنَهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر دو لوگوں کو قسم پر مجبور کیا جائے تو مستحب ہے کہ دونوں کے درمیان قرعہ اندازی کرلی جائے۔“
(ب) احمد کی روایت میں ہے کہ جب دو آدمی قسم پر مجبور کیے جائیں تو مستحب ہے کہ دونوں کے درمیان قسم کے لیے قرعہ اندازی کی جائے، دونوں پسند کریں یا ناپسند۔
(ت) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں: ”دونوں قسم کو پسند کریں یا ناپسند، دونوں کے درمیان قرعہ اندازی کرلی جائے۔“
(ب) احمد کی روایت میں ہے کہ جب دو آدمی قسم پر مجبور کیے جائیں تو مستحب ہے کہ دونوں کے درمیان قسم کے لیے قرعہ اندازی کی جائے، دونوں پسند کریں یا ناپسند۔
(ت) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں: ”دونوں قسم کو پسند کریں یا ناپسند، دونوں کے درمیان قرعہ اندازی کرلی جائے۔“