کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: چھپ کر سننے والے (یا چھپے ہوئے شخص) کی گواہی کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ كُلْثُومِ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: " لَا أُجِيزُ شَهَادَةَ مُخْتَبِئٍ ".
حافظ ثناء اللہ
کلثوم بن اقمر رحمہ اللہ، قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ چھپ کر (مشاہدہ کرنے والے) کی گواہی قابل قبول نہیں ہے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِيهِ رَقَبَةُ، عَنْ بَيَانٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ كَانَ لَا يُجِيزُ شَهَادَةَ الْمُخْتَبِئِ، قَالَ: ثُمَّ سَمِعْتُهُ مِنْ بَيَانٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت شعبی رحمہ اللہ چھپ کر (مشاہدہ کرنے والے) کی گواہی قبول نہیں کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ كَانَ يُجِيزُ شَهَادَتَهُ وَيَقُولُ: " كَذَلِكُ يُفْعَلُ بِالْخَائِنِ وَالْفَاجِرِ ". ⦗٤٢٤⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَبِهَذَا نَقُولُ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِيمَا حُكِيَ عَنْهُ: " لِأَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَجَازَ شَهَادَةَ الَّذِينَ رَصَدُوا رَجُلًا يَزْنِي، وَلَكِنْ لَمْ يَتِمُّوا أَرْبَعَةً، قَالَ: وَهَذَا أَشْبَهُ الْقَوْلَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبیداللہ ثقفی، سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اس (چھپ کر دیکھنے والے) کی گواہی کو جائز قرار دیتے تھے اور فرماتے تھے: ”خائن اور فاجر کے ساتھ ایسا ہی کیا جاتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی گواہی کو قبول کیا جنہوں نے زانی کو (چھپ کر) دیکھا، لیکن چار گواہ پورے نہ ہوئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی گواہی کو قبول کیا جنہوں نے زانی کو (چھپ کر) دیکھا، لیکن چار گواہ پورے نہ ہوئے۔