السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما جاء في شهادة المختبئ باب: چھپ کر سننے والے (یا چھپے ہوئے شخص) کی گواہی کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21190
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ كَانَ يُجِيزُ شَهَادَتَهُ وَيَقُولُ: " كَذَلِكُ يُفْعَلُ بِالْخَائِنِ وَالْفَاجِرِ ". ⦗٤٢٤⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَبِهَذَا نَقُولُ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِيمَا حُكِيَ عَنْهُ: " لِأَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَجَازَ شَهَادَةَ الَّذِينَ رَصَدُوا رَجُلًا يَزْنِي، وَلَكِنْ لَمْ يَتِمُّوا أَرْبَعَةً، قَالَ: وَهَذَا أَشْبَهُ الْقَوْلَيْنِ ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ ثقفی سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس کی گواہی جائز نہیں ہے، اسی طرح خائن اور فاجر کی گواہی بھی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی گواہی کو قبول کیا جنہوں نے زانی کو پکڑا، لیکن چار گواہ پورے نہ ہوئے۔