کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: عصبیت (قوم پرستی یا تعصب) رکھنے والوں کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 21059
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " مَنْ أَظْهَرَ الْعَصَبِيَّةَ بِالْكَلَامِ وَتَأَلَّفَ عَلَيْهَا وَدَعَا إِلَيْهَا فَهُوَ مَرْدُودُ الشَّهَادَةِ، لِأَنَّهُ أَتَى مُحَرَّمًا لَا اخْتِلَافَ فِيهِ بَيْنَ عُلَمَاءِ الْمُسْلِمِينَ عَلِمْتُهُ ". وَاحْتَجَّ بِقَوْلِ اللهِ تَعَالَى: {إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ} [الحجرات: 10]، وَبِقَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جس شخص نے اپنی گفتگو کے ذریعے عصبیت کا اظہار کیا، اور اس کی بنیاد پر (لوگوں کو) جمع کیا اور اس کی طرف دعوت دی، تو وہ مردود الشہادۃ ہے، کیونکہ اس نے ایک ایسے حرام کام کا ارتکاب کیا ہے جس میں، میرے علم کے مطابق، مسلمان علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔“
اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے استدلال کیا: ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾ ”مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہی ہیں۔“ [سورة الحجرات: 10]
اور رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان سے (بھی استدلال کیا): ”اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔“
اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے استدلال کیا: ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾ ”مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہی ہیں۔“ [سورة الحجرات: 10]
اور رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان سے (بھی استدلال کیا): ”اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔“
حدیث نمبر: 21059
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا مَالِكٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا هَارُونُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَحَسَّسُوا، وَلَا تَنَافَسُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم گمان سے بچو کیونکہ گمان جھوٹی بات ہے، جاسوسی نہ کرو، ٹوہ نہ لگاؤ، ایک دوسرے سے آگے نہ بڑھو، حسد، بغض اور قطع تعلقی نہ کرو اور اے اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔“
حدیث نمبر: 21060
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقَاطَعُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، ⦗٣٩٢⦘ وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا كَمَا أَمَرَكُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيِّ وَغَيْرِهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک دوسرے سے قطع تعلقی، دشمنی، بغض اور حسد اختیار نہ کرو اور تم اللہ کے بندوں میں بھائی بھائی بن جاؤ، جیسے اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے“۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
حدیث نمبر: 21061
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، وَأَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّرَّاجُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، يَلْتَقِيَانِ يَصُدُّ هَذَا، وَيَصُدُّ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ جَمَعَ اللهُ النَّاسَ بِالْإِسْلَامِ، وَنَسَبَهُمْ إِلَيْهِ، فَهُوَ أَشْرَفُ أَنْسَابِهِمْ، فَإِنَّ أَحَبَّ امْرُؤٌ فَلْيُحْبِبْ عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک دوسرے کے ساتھ بغض، حسد اور قطع تعلقی اختیار نہ کرو، تم آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ اور کوئی مسلمان اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی نہ رکھے، وہ دونوں ایک دوسرے سے ملیں تو آپس میں اعراض کرنے والے ہوں، لیکن بہتر وہ ہے جو سلام میں ابتدا کرتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ نے لوگوں کو اسلام پر جمع کیا، اس پر ہی ان کے انساب ہیں اور ان کے بہترین نسب ہیں، اگر کوئی آدمی محبت رکھتا ہے تو اس سے بھی محبت کی جائے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ نے لوگوں کو اسلام پر جمع کیا، اس پر ہی ان کے انساب ہیں اور ان کے بہترین نسب ہیں، اگر کوئی آدمی محبت رکھتا ہے تو اس سے بھی محبت کی جائے۔
حدیث نمبر: 21062
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ، وَالْفَخْرَ بِالْآبَاءِ، مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ، وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ، النَّاسُ بَنُو آدَمَ، وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ تُرَابٍ، لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ فَخْرِهِمْ بِآبَائِهِمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، أَوْ لَيَكُونُنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللهِ مِنَ الْجِعْلَانِ الَّتِي تَدْفَعُ النَّتَنَ بِأَنْفِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تم سے جاہلیت کی عصبیت اور آبا و اجداد پر فخر کرنا لے گیا ہے، مومن پرہیزگار ہے اور گناہ گار بدبخت ہے، اور لوگ آدم کے بیٹے ہیں اور وہ مٹی سے پیدا کیے گئے، اور لوگ جاہلیت میں اپنے آبا پر فخر کرنا چھوڑ دیں گے یا وہ اللہ کے نزدیک اس کِیڑے سے بھی زیادہ ذلیل و حقیر ہوں گے جو اپنی ناک سے گندگی کو روکتا ہے، پیچھے کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 21063
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ دِيزِيلَ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَحَتَّى يَكُونَ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللهُ مِنْهُ، وَحَتَّى يَكُونَ اللهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم ایمان کی حلاوت کو نہیں پا سکو گے، جب تک تم آدمی سے صرف اللہ کے لیے محبت نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 21064
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهَرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، أنبأ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ⦗٣٩٣⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَوَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک ایمان نہ لاؤ اور تم ایماندار نہیں ہو سکتے جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔ کیا میں ایسا کام نہ بتاؤں اگر تم کرو تو آپس میں محبت کرنے لگ جاؤ گے؟ سلام کو آپس میں عام کرو۔“
حدیث نمبر: 21065
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ: الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ، هِيَ الْحَالِقَةُ، حَالِقَةُ الدِّينِ لَا حَالِقَةُ الشَّعْرِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَمْرٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم سے پہلی امتوں کی دو بیماریاں، حسد اور بغض، ہلاک کرنے والی ہیں۔ یہ دین کو تباہ کرتی ہیں نہ کہ بالوں کو مونڈ دیتی ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے! تم ایماندار نہیں ہو سکتے جب تک تم آپس میں محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایسا کام نہ بتاؤں کہ اگر تم اس کو اختیار کر لو تو آپس میں محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام کو عام کر دو۔“
حدیث نمبر: 21066
وَرُوِيَ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ يَعِيشَ، عَنْ مَوْلًى، لِلزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 21067
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي؟ الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت والے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے جلال کی وجہ سے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میں ان کو اپنے سائے میں جگہ عطا کروں گا جس دن کسی کا سایہ نہ ہوگا۔“
حدیث نمبر: 21068
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْعَائِذِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ فَقَالَ: لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَوَاصِلِينَ فِيَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَصَافِينَ فِيَّ "، أَوْ قَالَ: " حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو ادریس عائذی فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو وہ کہنے لگے: میں نے نبی ﷺ کی زبانِ مبارک سے جو سن رکھا ہے وہ بیان کرتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اور میری محبت ان کے لیے ثابت ہو گئی جو میری خاطر صلہ رحمی کرتے ہیں، اور میری محبت ان کے لیے ثابت ہو گئی جو میری رضا کے لیے صف بندی (اکٹھے بیٹھتے) ہیں، اور میری محبت ان کے لیے ثابت ہو گئی جو میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 21069
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ، عَنْ عَقِيلٍ الْجَعْدِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، ⦗٣٩٤⦘ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَبْدَ اللهِ، أِيُّ عُرَى الْإِسْلَامِ أَوْثَقُ "؟ قَالَ: قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " الْوَلَايَةُ فِي اللهِ، الْحَبُّ فِي اللهِ، وَالْبُغْضُ فِي اللهِ ". رُوِيَ ذَلِكَ مِنْ حَدِيثِ الْبَرَاءِ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُم قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَوْ خَصَّ امْرُؤٌ قَوْمَهُ بِالْمَحَبَّةِ مَا لَمْ يَحْمِلْ عَلَى غَيْرِهِمْ مَا لَيْسَ يَحِلُّ لَهُ فَهَذِهِ صِلَةٌ لَيْسَتْ بِعَصَبِيَّةٍ، فَقَلَّ امْرُؤٌ إِلَّا وَفِيهِ مَحْبُوبٌ وَمَكْرُوهٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبداللہ! اسلام کا کون سا کڑا زیادہ مضبوط ہے؟“ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”اللہ کے لیے دوستی کرنا اور اللہ کے لیے محبت اور بغض رکھنا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر آدمی اپنی قوم سے محبت کو خاص کر دیتا ہے دوسروں پر اس کو محمول نہیں کرتا، تو یہ اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ یہ صلہ رحمی ہے عصبیت نہیں ہے، بہت کم لوگ ہوتے ہیں مگر وہ محبوب و مکروہ ہوتے ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر آدمی اپنی قوم سے محبت کو خاص کر دیتا ہے دوسروں پر اس کو محمول نہیں کرتا، تو یہ اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ یہ صلہ رحمی ہے عصبیت نہیں ہے، بہت کم لوگ ہوتے ہیں مگر وہ محبوب و مکروہ ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 21070
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ،: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو ذات السلاسل کے لشکر کے ساتھ روانہ کیا۔
حدیث نمبر: 21071
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: أِيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ؟ قَالَ: " عَائِشَةُ "، قُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ: " أَبُوهَا "، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ عُمَرُ "، فَعَدَّ رِجَالًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ الْوَاسِطِيِّ وَهُوَ إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
ابوعثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو ذات السلاسل کے لشکر کے ساتھ روانہ کیا، کہتے ہیں: میں آیا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کو لوگوں میں سے سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ یحییٰ کی حدیث میں ہے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کو لوگوں میں سے سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ فرمایا: ”عائشہ (رضی اللہ عنہا)۔“ میں نے کہا: مردوں میں؟ فرمایا: ”اس کا باپ۔“ میں نے کہا: پھر کون؟ فرمایا: ”عمر (رضی اللہ عنہ)۔“ آپ نے کئی آدمیوں کو شمار کیا۔
حدیث نمبر: 21072
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَسَنُ عَلَى عَاتِقِهِ وَهُوَ يَقُولُ: " اللهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَجَّاجٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عدی بن ثابت کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا براء رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہما آپ ﷺ کے کندھوں پر تھے اور آپ فرما رہے تھے: ”«اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ» اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت رکھ۔“
حدیث نمبر: 21073
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِلْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " اللهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ، فَأَحِبَّهُ، وَأَحْبِبْ مَنْ يُحِبُّهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لیے فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ» ”اے اللہ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر اور اس کو بھی اپنا محبوب بنا جو ان سے محبت رکھے، ان سے محبت رکھ۔“
حدیث نمبر: 21074
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ⦗٣٩٥⦘ ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبٍ، قَالَا: ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُنِي وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ فَيَقُولُ: " اللهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا، فَأَحِبَّهُمَا " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " فَالْمَكْرُوهُ فِي مَحَبَّةِ الرَّجُلِ مَنْ هُوَ مِنْهُ، أَنْ يَحْمِلَ عَلَى غَيْرِهِ مَا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ مِنَ الْبَغْيِ، وَالطَّعْنِ فِي النَّسَبِ، وَالْعَصَبِيَّةِ وَالْبِغْضَةِ عَلَى النَّسَبِ لَا عَلَى مَعْصِيَةِ اللهِ وَلَا عَلَى جِنَايَةٍ مِنَ الْمُبْغَضِ عَلَى الْمُبْغِضِ، وَلَكِنْ يَقُولُ: أَبْغَضُهُ لِأَنَّهُ مِنْ بَنِي فُلَانٍ، فَهَذِهِ الْعَصَبِيَّةُ الْمَحْضَةُ الَّتِي تُرَدُّ بِهَا الشَّهَادَةُ ".
حافظ ثناء اللہ
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مجھے اور حسن رضی اللہ عنہ کو پکڑے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے: ”اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں، تو بھی ان سے محبت کر۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر اپنی قوم کا آدمی ہو اس سے بھی محبت جائز نہیں، اگر اس کے نسب میں طعن ہو یا عصبیت کا شکار ہو تو اس کی شہادت بھی رد کر دی جاتی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر اپنی قوم کا آدمی ہو اس سے بھی محبت جائز نہیں، اگر اس کے نسب میں طعن ہو یا عصبیت کا شکار ہو تو اس کی شہادت بھی رد کر دی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 21075
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ، وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ، فَمَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً، وَمَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةِ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبِيَّةٍ، وَيَنْصُرُ عَصَبِيَّةً، وَيَدْعُو إِلَى عَصَبِيَّةٍ فَقُتِلَ، فَقِتْلَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ، وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا لَا يَتَحَاشَى مِنْ مُؤْمِنِهَا،. وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدِهَا، فَلَيْسَ مِنْ أُمَّتِي " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَوَارِيرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جو اطاعت سے نکل گیا وہ جماعت سے الگ ہو گیا، وہ جاہلیت کی موت مرا، اور جو اندھے جھنڈے کے تحت مارا گیا، وہ عصبیت کی وجہ سے بغض رکھتا ہے، عصبیت کی وجہ سے مدد کرتا ہے اور عصبیت کی طرف بلاتا ہے، پس اگر وہ قتل کر دیا گیا تو اس کا قتل جاہلیت کا قتل ہے، اور جس نے اپنی قوم کے نیک اور بدکار کو مارا اور وہ مومن سے بچتا نہیں اور ذمی کا عہد پورا نہیں کرتا، تو اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 21076
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ بِشْرٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنِ ابْنَةِ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْعَصَبِيَّةُ؟ قَالَ: " أَنْ تُعِينَ قَوْمَكَ عَلَى الظُّلْمِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ فسیلہ بنت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے اپنے والد (سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ) سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! عصبیت کیا ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ظلم پر اپنی قوم کی مدد کرنا۔“
حدیث نمبر: 21077
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَمِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُعِينَ الرَّجُلُ قَوْمَهُ عَلَى الْحَقِّ؟ قَالَ: " لَا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر آدمی اپنی قوم کی حق پر مدد کرے تو یہ عصبیت ہے؟ فرمایا: ”نہیں۔“
حدیث نمبر: 21078
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، وَعَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللهِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " مَثَلُ الَّذِي يُعِينُ قَوْمَهُ عَلَى غَيْرِ الْحَقِّ مَثَلُ بَعِيرٍ رُدِّيَ وَهُوَ يَجُرُّ بِذَنَبِهِ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " رَفَعَهُ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ وَلَمْ يَرْفَعْهُ شُعْبَةُ ⦗٣٩٦⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَقَدْ رُوِيَ، عَنْ سُفْيَانَ وَإِسْرَائِيلَ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”آدمی کا اپنی قوم کی ناحق مدد کرنا ایسے ہے جیسے کنویں میں گرے ہوئے اونٹ کو دُم سے نکالنے کی کوشش کرنا۔“
حدیث نمبر: 21079
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ بَشَّارٍ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا، وہ چمڑے کے خیمے میں تھے، اسی طرح انہوں نے ذکر کیا۔
حدیث نمبر: 21080
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعَانَ عَلَى ظُلْمٍ فَهُوَ كَالْبَعِيرِ الْمُتَرَدِّي، فَهُوَ يَنْزِعُ بِذَنَبِهِ ". وَرَوَاهُ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ سِمَاكٍ مَوْقُوفًا.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ظلم پر مدد کی وہ اس اونٹ کی مانند ہے، جو کنویں میں گرا دیا گیا، پھر اس کو دم سے کھینچ کر نکالنے کی کوشش کی گئی۔“
حدیث نمبر: 21081
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: خِلَالٌ مِنْ خِلَالِ الْجَاهِلِيَّةِ: الطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ، وَالنِّيَاحَةُ "، وَنَسِيَ الثَّالِثَةَ، قَالَ سُفْيَانُ: يَقُولُونَ: إِنَّهَا الِاسْتِسْقَاءُ بِالْأَنْوَاءِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ. وَقَدْ مَضَى ذَلِكَ بِمَعْنَاهُ مَرْفُوعًا مِنْ حَدِيثِ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن ابی یزید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرما رہے تھے: ”جاہلیت کی عادات میں سے ہے: نسب میں طعن کرنا، نوحہ کرنا۔“ تیسری چیز بھول گئے۔ سفیان کہتے ہیں: ”ستاروں کے ذریعے بارش مانگنا۔“
حدیث نمبر: 21082
حَدَّثَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الرَّمْجَارِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْغَطَفَانِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجِّلَ اللهُ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سرکشی اور قطع رحمی ایسے گناہ ہیں جن کی سزا اللہ دنیا میں بھی دیتا ہے اور آخرت کے لیے ذخیرہ رکھتا ہے۔“
حدیث نمبر: 21083
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ مَطَرٍ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ فِيهِ: " وَإِنَّ اللهَ أَوْحَى إِلِيَّ أَنْ تَوَاضَعُوا حَتَّى لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ. ⦗٣٩٧⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ہمارے درمیان ایک حدیث بیان کی، اس میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی ہے کہ تم عاجزی و انکساری کرو تاکہ کسی پر فخر باقی نہ رہے۔“
حدیث نمبر: 21084
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْهَمَذَانِيُّ بِهَا، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ بأَصْبَهَانَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الدَّارَكِيُّ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ، زَادَ: " وَلَا يَبْغِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ " وَرَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عِيَاضٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزَادَ فِيهِ أَيْضًا: " حَتَّى لَا يَبْغِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو عمار حسین بن حریث مروزی نے اپنی سند سے حدیث ذکر کی کہ نبی ﷺ نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا: ”کوئی کسی پر سرکشی نہ کرے۔“
(ب) سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی کسی پر سرکشی اختیار نہ کرے۔“
(ب) سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی کسی پر سرکشی اختیار نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 21085
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ "، قَالُوا: فَمَنِ الشَّدِيدُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بہادر وہ نہیں جو جلد گرا دے۔“ صحابی نے پوچھا: پھر بہادر کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔“
حدیث نمبر: 21086
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مِنَ الْكَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ " فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ، وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کا اپنے والدین کو گالی دینا کبیرہ گناہ ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا کوئی اپنے والدین کو گالی دیتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، یہ کسی کے والد کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کے والد کو گالی دیتا ہے، اور یہ کسی کی والدہ کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی والدہ کو گالی دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 21087
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، وَهَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ هَمَّامٌ: عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، وَقَالَ عِمْرَانُ: عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، الرَّجُلُ مِنْ قَوْمِي يَشْتُمُنِي وَهُوَ دُونِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسْتَبَّانِ شَيْطَانَانِ يَتَهَاتَرَانِ وَيَتَكَاذَبَانِ فَمَا قَالَاهُ فَهُوَ عَلَى الْبَادِئِ حَتَّى يَعْتَدِيَ الْمَظْلُومُ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ”اے اللہ کے رسول! میری قوم کا گھٹیا آدمی مجھے گالی دیتا ہے“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف جھوٹ بولتے ہیں تو گناہ ابتدا کرنے والے پر ہوگا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 21088
وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ عِمْرَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، إِلَى قَوْلِهِ: " وَيَتَكَاذَبَانِ "، وَرَوَاهُ شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: وَحَدَّثَ ⦗٣٩٨⦘ مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا يَشْتُمُنِي وَهُوَ أَنْقُصُ مِنِّي نَسَبًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسْتَبَّانِ شَيْطَانَانِ يَتَهَاتَرَانِ وَيَتَكَاذَبَانِ "، وَكَانَ يُقَالُ، فَذَكَرَ مَعْنَى مَا بَعْدَهُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ فَذَكَرَهُ. وَقَدْ ثَبَتَ ذَلِكَ اللَّفْظُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ دُونَ مَا قَبْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے سوال کیا، کہنے لگے: اے اللہ کے نبی ﷺ! آپ کا ایسے آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے جو مجھے گالی دیتا ہے حالانکہ وہ نسب کے اعتبار سے مجھ سے حقیر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو گالیاں دینے والے شیطان ہیں جو ایک دوسرے کے خلاف جھوٹ بکتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 21089
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِئِ مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ. وَرُوِيَ ذَلِكَ فِي حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى جَوَازِ الِانْتِصَارِ مِنْ غَيْرِ تَعَدٍّ وَلَا إِظْهَارِ فُحْشٍ، وَحَدِيثُ عَائِشَةَ فِي قِصَّةِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا دَلِيلٌ عَلَى إِبَاحَةِ الِانْتِصَارِ، حَيْثُ قَالَتْ: " فَلَمْ تَبْرَحْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ حَتَّى عَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ "، وَالْعَفْوُ وَتَرْكُ الِانْتِصَارِ أَوْلَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو گالیاں دینے والوں کا وبال ابتدا کرنے والے پر ہے، جب تک کہ مظلوم زیادتی نہ کرے۔“
(ب) قتیبہ کی روایت میں ہے کہ زیادتی کے بغیر اور فحش کے اظہار کے بغیر مدد کرنا درست ہے، لیکن معاف کرنا اور مدد کو چھوڑ دینا، یہ زیادہ بہتر ہے۔
(ب) قتیبہ کی روایت میں ہے کہ زیادتی کے بغیر اور فحش کے اظہار کے بغیر مدد کرنا درست ہے، لیکن معاف کرنا اور مدد کو چھوڑ دینا، یہ زیادہ بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 21090
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَلَا زَادَ اللهُ بِالْعَفْوِ إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ جَمَاعَةٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”صدقہ مال کو کم نہیں کرتا اور معاف کرنے سے اللہ عزت میں اضافہ کرتا ہے، جو کوئی اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے، اللہ اس کو بلند فرما دیتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 21091
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ، بِالْكُوفَةِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَيُّوبَ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي الْمُتَّئِدِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَكْرَمِ أَخْلَاقِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟ تَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَكَ، وَتُعْطِي مَنْ حَرَمَكَ، وَتَصِلُ مَنْ قَطَعَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں بتاؤں کہ دنیا اور آخرت میں بہتر اخلاق والے کون ہیں؟“ پھر فرمایا: ”ظالم کو معاف کرنا، محروم کرنے والے کو عطا کرنا، قطع رحمی کرنے والے کے ساتھ صلہ رحمی کرنا۔“
حدیث نمبر: 21092
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ، عَنْ ⦗٣٩٩⦘ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ حَاسَبَهُ اللهُ حِسَابًا يَسِيرًا، وَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ "، قَالُوا: مَنْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " تُعْطِي مَنْ حَرَمَكَ، وَتَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَكَ، وَتَصِلُ مَنْ قَطَعَكَ "، قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ، فَمَا لِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " أَنْ تُحَاسَبَ حِسَابًا يَسِيرًا، وَيُدْخِلَكَ اللهُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے اندر تین خوبیاں ہوئیں اللہ اس کا حساب آسان کر دے گا اور اپنی رحمت سے اس کو جنت میں داخل کر دے گا۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون؟ فرمایا: ”محروم کرنے والے کو عطا کرنا، ظالم کو معاف کرنا، قطع رحمی کرنے والے کے ساتھ صلہ رحمی کرنا۔“ کہنے لگے: اگر میں یہ کام کروں مجھے کیا ملے گا، اے اللہ کے رسول؟ فرمایا: ”تیرا حساب آسان ہوگا اور اللہ تجھے اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرما دیں گے۔“
حدیث نمبر: 21093
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَهْ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ أَبِي غِفَارٍ، ثنا أَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيُّ وَأَبُو تَمِيمَةَ اسْمُهُ طَرِيفُ بْنُ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِي جُرَيٍّ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا يَصْدُرُ النَّاسُ عَنْ رَأْيِهِ، لَا يَقُولُ شَيْئًا إِلَّا صَدَرُوا عَنْهُ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللهِ، مَرَّتَيْنِ، قَالَ: " لَا تَقُلْ: عَلَيْكَ السَّلَامُ، عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ، قُلِ: السَّلَامُ عَلَيْكَ "، قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ رَسُولُ اللهِ؟ قَالَ: " أَنَا رَسُولُ اللهِ الَّذِي إِذَا أَصَابَكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ، وَإِنْ أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَهَا لَكَ، وَإِذَا كُنْتَ بِأَرْضٍ قَفْرٍ أَوْ فَلَاةٍ فَضَّلَتْ رَاحِلَتُكَ فَدَعَوْتَهُ رَدَّهَا عَلَيْكَ "، قَالَ: قُلْتُ: اعْهَدْ إِلِيَّ، قَالَ: " لَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا "، قَالَ: فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ حُرًّا وَلَا عَبْدًا وَلَا بَعِيرًا وَلَا شَاةً، قَالَ: " وَلَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، وَأَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْهِ وَجْهُكَ، إِنَّ ذَلِكَ مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ، فَإِنْ أَبْيَتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ، وَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ فَلَا تُعَيِّرْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ، فَإِنَّمَا وَبَالُ ذَلِكَ عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا (کہ لوگ اس کی بات کہتے ہیں اور اس کی بات مانتے ہیں) میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے عرض کیا: ”«عَلَيْكَ السَّلَامُ» اے اللہ کے رسول!“ (دو مرتبہ)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”«عَلَيْكَ السَّلَامُ» نہ کہو، کیونکہ یہ مردوں کا تحفہ ہے، تم «السَّلَامُ عَلَيْكَ» کہا کرو۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: کیا آپ اللہ کے رسول ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اللہ کا رسول ہوں، وہ ذات کہ اگر آپ کو کوئی مصیبت آئے اور آپ اس کو پکاریں تو وہ آپ کی پریشانی دور کر دیتا ہے، اور اگر قحط سالی آئے تو آپ اس سے دعا کریں تو وہ (سبزہ و غلہ) اگا دیتا ہے، اور اگر جنگل میں آپ کی سواری گم ہو جائے تو اس کو پکارو تو وہ تمہاری سواری لوٹا دیتا ہے۔“ میں نے عرض کیا: مجھ سے عہد لیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی کو گالی مت دینا۔“ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد میں نے کسی آزاد، غلام، اونٹ یا بکری کو بھی گالی نہیں دی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”نیکی کو حقیر نہ جاننا اور اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے بات کرنا، یہ بھی نیکی ہے، اور اپنے تہبند کو نصف پنڈلی تک اٹھائے رکھو، اگر تو اس سے انکار کرے تو ٹخنوں تک، اور چادر کو لٹکانے سے بچنا کیونکہ یہ تکبر ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو ناپسند فرماتا ہے۔ اور اگر کوئی آدمی آپ کو گالی دے یا عار دلائے اس (عیب) کی وجہ سے جسے وہ آپ کے بارے میں جانتا ہے تو آپ اسے عار نہ دلائیں، اس کا وبال اس پر ہی ہوگا۔“
حدیث نمبر: 21094
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا، ثنا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: خَرَجْتُ أُرِيدُ الْغَابَةَ، فَسَمِعْتُ غُلَامًا لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ يَقُولُ: أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ أَخَذَهَا؟ قَالَ: غَطَفَانُ وَفَزَارَةُ، قَالَ: فَصَعِدْتُ الثَّنِيَّةَ فَنَادَيْتُ: يَا صَبَاحَاهُ، يَا صَبَاحَاهُ، ثُمَّ انْطَلَقْتُ أَسْعَى فِي آثَارِهِمْ حَتَّى اسْتَنْقَذْتُهَا مِنْهُمْ، وَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ الْقَوْمَ عِطَاشٌ أَعْجَلْنَاهُمْ أَنْ يَسْتَقُوا لِسَقْيِهِمْ، قَالَ: " يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ مَلَكْتَ فَأَسْجِحْ، إِنَّ الْقَوْمَ غَطَفَانَ يُقْرَوْنَ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جنگل کا ارادہ کیا، میں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام سے سنا، وہ کہہ رہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی اونٹنیاں پکڑ لی گئی ہیں۔ کہتے ہیں: میں نے کہا: کس نے ان کو پکڑا ہے؟ اس نے کہا: قبیلہ غطفان اور فزارہ والوں نے۔ کہتے ہیں: میں بلند جگہ پر چڑھ گیا، میں نے آواز دی: «يَا صَبَاحَاهُ، يَا صَبَاحَاهُ» ”ہائے صبح کا حملہ، ہائے صبح کا حملہ۔“ پھر میں ان کے نشاناتِ قدم پر چل نکلا۔ پھر میں نے ان سے وہ اونٹنیاں چھین لیں اور نبی ﷺ اپنے صحابہ کی جماعت میں آئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ پیاسے تھے، ہم نے ان کے بارے میں جلدی کی تاکہ وہ اپنے پانی پلانے کی جگہ تک چلے جائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن اکوع! خدا نے تم کو اقتدار دیا ہے درگزر سے کام لو، کیونکہ بنو غطفان مہمان نواز لوگ ہیں۔“
حدیث نمبر: 21095
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، ⦗٤٠٠⦘ عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَائِذِ اللهِ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ أَقْبَلِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ آخِذًا بِطَرَفِ ثَوْبِهِ حَتَّى أَبْدَى عَنْ رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: " أَمَّا صَاحِبُكُمْ هَذَا فَقَدْ غَامَرَ "، فَسَلَّمَ وَقَالَ: إِنَّهُ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ شَيْءٌ، فَأَسْرَعْتُ إِلَيْهِ، ثُمَّ ذَهَبَ، فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَغْفِرَ لِي، فَأَبَى عَلَيَّ، وَتَحَرَّزَ مِنِّي بِدَارِهِ، فَأَقْبَلْتُ إِلَيْكَ، فَقَالَ: " يَغْفِرُ اللهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ "، ثَلَاثًا، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَدِمَ، فَأَتَى مَنْزِلَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَ: أَثَمَّ أَبُو بَكْرٍ؟ فَقَالُوا: لَا، فَأَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَعَّرُ حَتَّى أَشْفَقَ أَبُو بَكْرٍ، فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا وَاللهِ كُنْتُ أَظْلَمَ، مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللهَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى بَعَثَنِي إِلَيْكُمْ، فَقُلْتُمْ: كَذَبْتَ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: صَدَقْتَ، وَوَاسَانِي بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، فَهَلْ أَنْتُمْ تَارِكُونَ لِي صَاحِبِي؟ "، قَالَهَا مَرَّتَيْنِ، فَمَا أُوذِيَ بَعْدَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمَّارٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے تو وہ اپنے کپڑے کی ایک طرف پکڑے ہوئے تھے اور ان کے گھٹنے ظاہر ہو رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے اس صاحب کو کسی پریشانی نے گھیر رکھا ہے۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سلام کیا اور کہنے لگے: میرے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان تنازع ہو گیا، میں نے جلد بازی کی۔ پھر وہ چلے گئے۔ میں نے ان سے معافی کا سوال کیا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور مجھ سے بچتے ہوئے گھر چلے گئے، میں آپ ﷺ کے پاس آ گیا ہوں۔ آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا: ”اللہ ابوبکر کی مغفرت فرمائے۔“ انہوں نے جواب دیا: پتہ نہیں، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آ گئے تو نبی کریم ﷺ کا چہرہ متغیر ہو گیا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ڈر محسوس ہوا تو وہ نبی کریم ﷺ کے گھٹنوں پر گر پڑے۔ دو مرتبہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھ سے ظلم ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! اللہ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا ہے، تم نے کہا: جھوٹ کہتے ہو اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے سچ کہا اور اپنے مال و جان سے میری مدد کی۔ کیا تم میرے ساتھی کو چھوڑتے نہیں ہو؟“ یہ بات آپ ﷺ نے دو مرتبہ فرمائی۔ اس لیے کہ وہ تکلیف نہ دیں گے۔
حدیث نمبر: 21096
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَعَلَ رَجُلٌ يَشْتِمُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَجَعَلَ يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ ذَلِكَ رَدَّ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ بَعْضَ قَوْلِهِ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ، فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ قَالَ: " فَإِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَنْ يَرُدُّ عَنْكَ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ قَعَدَ الشَّيْطَانُ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ "، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلِمَ مَظْلِمَةً فَيُغْضِي عَنْهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِلَّا أَعَزَّ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا نَصْرَهُ ". رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ بَشِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُرْسَلًا دُونَ مَا فِي آخِرِهِ مِنَ التَّرْغِيبِ فِي الْإِغْضَاءِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالیاں دے رہا تھا اور رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے۔ آپ ﷺ تعجب فرما رہے تھے اور مسکرا رہے تھے۔ جب اس نے زیادہ باتیں کیں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا تو نبی ﷺ ناراض ہو گئے اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (آپ ﷺ کے) پیچھے چلے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ مجھے گالیاں دے رہا تھا اور آپ ﷺ بیٹھے رہے، جب میں نے اس کا جواب دیا تو آپ ﷺ ناراض ہو گئے اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے ساتھ وہ (فرشتہ) تھا جو اس کا جواب دے رہا تھا، جب تو نے جواب دیا تو شیطان بیٹھ گیا، اور میں شیطان کے ساتھ نہیں بیٹھتا۔“ پھر فرمایا: ”اے ابوبکر! کسی بندے پر ظلم نہیں کیا جاتا لیکن وہ اس کو اللہ کی رضا کے لیے برداشت کرتا ہے تو اللہ اس کی مدد کر کے اسے عزت بخشتا ہے۔“
حدیث نمبر: 21097
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ثنا أَبُو صَخْرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ مَأْلَفٌ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن تو محبت کی جگہ ہے، اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جو انس نہیں کرتا اور نہ ہی اس سے انس کیا جاتا ہے۔“