حدیث نمبر: 21057
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأْ عَلَيَّ "، فَقُلْتُ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ: فَقَرَأْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ، فَلَمَّا بَلَغْتُ: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا} [النساء: ٤١] قَالَ: " حَسْبُكَ "، فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْفِرْيَابِيِّ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن مسعود! میرے سامنے تلاوت کرو۔“ میں نے عرض کیا: میں تلاوت کروں حالانکہ قرآن آپ ﷺ پر نازل ہوتا ہے؟ وہ کہتے ہیں: میں نے سورہ النساء کی تلاوت شروع کی۔ جب میں ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾ [سورة النساء: 41] ”جب ہم ہر امت سے گواہ لائیں گے ان کے اوپر آپ کو گواہ پیش کیا جائے گا۔“ پر پہنچا تو
آپ ﷺ نے فرمایا: ”کافی ہے“، جب میں نے آپ ﷺ کی طرف دیکھا تو آپ ﷺ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ”کافی ہے“، جب میں نے آپ ﷺ کی طرف دیکھا تو آپ ﷺ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
حدیث نمبر: 21058
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ قُرَيْشٍ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، وَصَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فَأَتَيْتُهُ مُسَلِّمًا، فَنَسَبَنِي فَانْتَسَبْتُ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِابْنِ أَخِي، بَلَغَنِي أَنَّكَ حَسَنُ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ نَزَلَ بِحُزْنٍ، فَإِذَا قَرَأْتُمُوهُ فَابْكُوا، فَإِنْ لَمْ تَبْكُوا فَتَبَاكَوْا ". لَفْظُ حَدِيثِ السُّلَمِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ، فَأَتَيْتُهُ مُسَلِّمًا، فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، فَذَكَرَهُ وَزَادَ فِي آخِرِهِ: " وَتَغَنَّوْا بِهِ، فَمَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِهِ فَلَيْسَ مِنَّا ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن سائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ آئے۔ میں انہیں سلام کرتے ہوئے ان کے پاس آیا۔ انہوں نے مجھ سے میرا نسب بیان کیا اور میں نے انہیں اپنا نسب بیان کیا، تو انہوں نے کہا: بھتیجے کو خوش آمدید ہو۔ کہنے لگے: مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ خوبصورت آواز والے ہیں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”یہ قرآن حزن (سخت جگہ) پر نازل ہوا ہے، جب تم اس کی تلاوت کرو تو رویا کرو، اگر رو نہ سکو تو رونے والی شکل بنا لو۔“
(ب) سلمی کی حدیث میں ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی نظر جب چلی گئی تو میں انہیں سلام کہتے ہوئے ان کے پاس حاضر ہوا۔ پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے انہیں خبر دی تو انہوں نے فرمایا: اے بھتیجے!۔۔ اس کے آخر میں ہے: ”جو خوش الحانی سے نہیں پڑھتا اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔“
(ب) سلمی کی حدیث میں ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی نظر جب چلی گئی تو میں انہیں سلام کہتے ہوئے ان کے پاس حاضر ہوا۔ پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے انہیں خبر دی تو انہوں نے فرمایا: اے بھتیجے!۔۔ اس کے آخر میں ہے: ”جو خوش الحانی سے نہیں پڑھتا اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔“