أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ الْوَرَّاقُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ؟ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى. وَهَذَا وَاللهُ أَعْلَمُ فِي الَّذِي عِنْدَهُ لِإِنْسَانٍ شَهَادَةٌ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ بِهَا فَيُخْبِرُ بِشَهَادَتِهِ، وَبِمَعْنَاهُ ذَكَرَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَرَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ، وَذَكَرَ سَمَاعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْ هَؤُلَاءِ الرُّوَاةِ عَمَّنْ فَوْقَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں بہترین گواہ نہ بتاؤں، جو سوال کرنے سے پہلے گواہی دے دیتے ہیں؟“
(ب) یہ اس شخص کے بارے میں ہے، جس کے پاس گواہی موجود ہے، لیکن وہ اس شخص کے بارے میں جانتا نہیں ہے۔
(ب) یہ اس شخص کے بارے میں ہے، جس کے پاس گواہی موجود ہے، لیکن وہ اس شخص کے بارے میں جانتا نہیں ہے۔
وَرَوَاهُ أُبِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَادَ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدٍ فِي إِسْنَادِهِ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَخْبَرَنِي أُبِيُّ بْنُ عَبَّاسٍ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے بھی ایسے ہی ذکر کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْجُنَيْدِ أَبُو صَالِحٍ الْبَذَشِيُّ الْقُومِسِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ شَهَادَةٌ فَلَا يَقُلْ: لَا أَشْهَدُ بِهَا إِلَّا عِنْدَ إِمَامٍ، وَلَكِنَّهُ يَشْهَدُ، لَعَلَّهُ يَرْجِعُ وَيَرْعَوِي ". هَذَا مَوْقُوفٌ، وَهُوَ الصَّحِيحُ، وَقَدْ رُوِيَ مَرْفُوعًا وَلَا يَصِحُّ رَفْعُهُ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جس کے پاس گواہی ہو وہ یہ نہ کہے کہ میں یہ گواہی صرف امام کے پاس ہی دوں گا، بلکہ وہ گواہی دے شاید کہ وہ باز آ جائے یا رک جائے۔
یہ موقوف ہے اور یہی صحیح ہے، یہ مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں۔
یہ موقوف ہے اور یہی صحیح ہے، یہ مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ شَهَادَةٌ فَلَمْ يَشْهَدْ بِهَا حَيْثُ رَآهَا أَوْ حَيْثُ عَلِمَ، فَإِنَّمَا يَشْهَدُ عَلَى ضِغْنٍ ". هَذَا مُنْقَطِعٌ فِيمَا بَيْنَ الثَّقَفِيِّ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبیداللہ ثقفی فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خط لکھا: جس کے پاس گواہی ہو اور اس نے (واقعہ) دیکھتے وقت یا جانتے وقت اس کی گواہی نہ دی، تو وہ (بعد میں) کینہ کی بنا پر ہی گواہی دیتا ہے۔
یہ روایت ثقفی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان منقطع ہے۔
یہ روایت ثقفی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان منقطع ہے۔