السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما جاء في خير الشهداء باب: بہترین گواہوں کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 20596
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْجُنَيْدِ أَبُو صَالِحٍ الْبَذَشِيُّ الْقُومِسِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ شَهَادَةٌ فَلَا يَقُلْ: لَا أَشْهَدُ بِهَا إِلَّا عِنْدَ إِمَامٍ، وَلَكِنَّهُ يَشْهَدُ، لَعَلَّهُ يَرْجِعُ وَيَرْعَوِي ". هَذَا مَوْقُوفٌ، وَهُوَ الصَّحِيحُ، وَقَدْ رُوِيَ مَرْفُوعًا وَلَا يَصِحُّ رَفْعُهُ.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جس کے پاس گواہی ہو وہ یہ نہ کہے کہ میں یہ گواہی صرف امام کے پاس ہی دوں گا، بلکہ وہ گواہی دے شاید کہ وہ باز آ جائے یا رک جائے۔
یہ موقوف ہے اور یہی صحیح ہے، یہ مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں۔